عباسی صاحب ،باتیں کرنی بندکردیں،آپ کی حکومت نہ آئی توانہی عدالتوں میں آناپڑے گا،لاہور ہائی کورٹ

عباسی صاحب ،باتیں کرنی بندکردیں،آپ کی حکومت نہ آئی توانہی عدالتوں میں آناپڑے گا،لاہور ہائی کورٹ
کیپشن: این اے 57 سے شاہدخاقان عباسی کی نااہلی فیصلے کیخلاف اپیل پرسماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی فائل فوٹو:

لاہور: این اے 57 میں شاہد خاقان عباسی کی نااہلی کیخلاف اپیل کی سماعت میں لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ آراوکوکل ریکارڈسمیت طلب کر لیا۔ ساتھ ہی ریماکس دیئے کہ عباسی صاحب ،باتیں کرنا  بندکردیں،آپ کی حکومت نہ آئی توانہی عدالتوں میں آناپڑے گا،آپ کسی آسٹریلیاکی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق این اے 57 سے شاہدخاقان عباسی کی نااہلی فیصلے کیخلاف اپیل پرسماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی۔اس موقع پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔اعتراض کنندہ کے وکیل کا عدالت میں کہنا تھا شاہدخاقان عباسی کامری میں 8 ایکڑپرمشتمل ہوٹل ہے اور انہوں نے اپنے مکمل اثاثے ظاہرنہیں کیے۔جبکہ وکیل شاہدخاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ایپلٹ ٹربیونل کسی کوتاحیات نااہل نہیں کرسکتی۔ جس پرلاہورہائیکورٹ نے متعلقہ آراوکوکل ریکارڈسمیت طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں۔۔۔ پرویز مشرف اور آصف زرداری کے بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات طلب 

لاہور ہائیکورٹ کے جج کا شاہد خاقان عباسی کو کہنا تھا کہ عباسی صاحب !ہم آپ سے بات کرناچاہتے ہیں، اگرچہ یہ باتیں متعلقہ نہیں لیکن کرنا پر رہیں ہیں،حکومت کبھی کسی کی توکبھی کسی اورکی ہوتی ہے لیکن عدالتیں قانون کے مطابق چلتی ہیں،جج کی کرسی پربیٹھنااتنا آسان نہیں جتنانظرآتا ہے،باتیں کرنی بندکردیں،آپ کی حکومت نہ آئی تو آپ نے انہی عدالتوں میں آناہے آپ کسی آسٹریلیاکی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں۔۔۔نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت 9 جولائی تک ملتوی

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ آپ کی بھی اتنی ہی عزت ہے جتنی کسی اور کی،ہماراکوئی ایجنڈانہیں ہے،سسٹم کوبہترکرنےکی کوشش کریں،آ پ سابق وزیراعظم ہیں سسٹم کو بچانے میں ہماری مدد کریں، نوازشریف کی نااہلی پرآپ نے کہاکہ میرے وزیراعظم ہیں،کیا آپ کوایساکہناچاہیے تھا،آپ اپنے ایجنڈے پرکام کریں لیکن عدلیہ کےخلاف بیان دینابندکردیں،خواجہ آصف کے منہ پرسیاہی پھینکنے جیسے کئی واقعات ہوئے، آپ کومعلوم نہیں نوازشریف کوجوتاپڑا،بلاول کےساتھ کراچی میں کیاہوا؟ لیکن پیپلزپارٹی کےساتھ جوہواآفرین ہے ان پرکہ انہوں نے کچھ نہیں کہا۔
یہ بھی پڑھیں۔۔۔سپریم کورٹ کا 2005 سے اب تک وکلا کی تمام ڈگریوں کی تصدیق کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا مزید کہنا تھا کہ جس نہج پرملک پہنچ چکا ہے اس کے آگے کوئی گنجائش نہیں،یہاں ایڈیشنل سیشن جج سزائے موت دیتاہے،مجال ہے مجرم آگے سے ایک لفظ بھی بولے آپ توایلیٹ کلاس سے ہیں لیکن لوگوں کے پاس 2 وقت کی روٹی نہیں۔