2018 کے الیکشن سے متعلق اہم سروے آ گیا؟ ووٹرز نے سب کو حیران کر دیا

2018 کے الیکشن سے متعلق اہم سروے آ گیا؟ ووٹرز نے سب کو حیران کر دیا

اسلام آباد: پورے ملک میں الیکشن 2018 کی انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے الیکشن کیلئے امیدواران اپنے اپنے حلقے کے ووٹرز کو قائل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ایسے وعدے بھی کیے جارہے ہیں جو گزشتہ 70 سالوں سے وفا نہیں ہو سکے ۔


الیکشن کی اسی گہما گہمی میں رائے عامہ کا جائزہ لینے والے تین اہم اداروں گیلپ پاکستان Gallup Pakistan(ملک گیر)، پلس کنسلٹنٹ Pulse Consultant (ملک گیر) اور آئی پی او آر (صرف پنجاب) کے سرویز کے مطابق مسلم لیگ (ن) اب بھی پنجاب کی سب سے مقبول جماعت ہے تاہم پی ٹی آئی اور ن لیگ کے درمیان ووٹوں کے فرق میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔

اس سروے میں جو چیز سب سے اہم نظر آئی وہ یہ ہے کہ پنجاب، سندھ اور کے پی میں ووٹرز کی ترجیحات میں کوئی کمی نہیں آئی اور وہ اسی جماعت کو ووٹ دیں گے جس کو انہوں نے الیکشن 2013 میں ڈالے تھے ۔ بلوچستان میں پچھلے انتخابات اور موجودہ رحجان کے حوالے سے مختلف نتائج سامنے آئے۔

گیلپ سروے کے مطابق مسلم لیگ تاحال ملک کی سب سے مقبول جماعت ہے تاہم پلس سروے کے مطابق ووٹرز کی بڑی تعداد اس وقت پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دے گی ۔ اس سروے کے مطابق پی ٹی آئی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے ۔ گیلپ کے پول میں کسی بھی جماعت کے حق میں ووٹ ڈالنے کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار گروپ کا تناسب 20 فیصد تھا، 26 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ ن لیگ کو جبکہ 25 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے۔

پلس پول میں ابھی تک فیصلہ نہ کر سکنے والے ووٹرز کا تناسب 9 فیصد تھا جبکہ 30 فیصد نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کو، 27 فیصد نے ن لیگ کو جبکہ 17 فیصد نے کہا کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے۔

پلس پولز کے تحریک انصاف کو ملک کی مقبول جماعت ہونے کی وجہ یہ بتائی کہ 2017 کے بعد ملک میں کئی سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں ہیں جن میں نوری میں بلوچستان میں حکومت تبدیل ہوئی جبکہ معزز سپریم کورٹ کے سابق وزیراعظم نواز شریف سے متعلق تفصیلی فیصلے کی روشنی میں مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں ن لیگ حصہ نہیں لے پائی۔

 

مئی کے آغاز پر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ن لیگی سیاست دانوں نے پارٹی چھوڑ دی اور تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ اسی ماہ نواز شریف نے ایک انٹرویو دیا جسے کئی افراد نے متنازع قرار دیا۔

گیلپ سروے کے مطابق مسلم لیگ ن پاکستان میں :

گیلپ کے سروے میں ن لیگ کو ابھی بھی ملک کی سب سے مقبول جماعت بتایا گیا تاہم اس کی مقبولیت میں 2017 کے مقابلے میں 8 فیصد کمی دیکھی گئی۔ 26 فیصد متوقع ووٹرز کا کہنا تھا کہ وہ ن لیگ کو ووٹ دیں گے جبکہ 25 فیصد نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے، 2017 کے مقابلے میں یہ ایک فیصد کمی ہے جبکہ 16 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے۔

پلس سروے کے مطابق پی ٹی آئی پاکستان میں :

پلس کے سروے میں پی ٹی آئی، ن لیگ پر سبقت لے جاچکی ہے۔ سروے کے مطابق پی ٹی آئی کی مقبولیت میں 7 فیصد اضافے کے ساتھ یہ اب 30 فیصد ہوگئی ہے جو کہ 2017 میں 23 فیصد تھی۔ پلس کے سروے کے مطابق 2017 میں ن لیگ سب سے مقبول ترین جماعت تھی تاہم اس کی مقبولیت میں 9 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور یہ اب 27 فیصد پر آگئی ہے۔

پنجاب کے ووٹرز کا رجحان :

گیلپ کے سروے میں صوبہ پنجاب کے 40 فیصد متوقع ووٹرز نے کہا کہ وہ انتخابات 2018 میں ن لیگ کو ووٹ دیں گے تاہم 2017 کے مقابلے میں یہ تناسب 10 فیصد کم ہے۔ 2017 میں 31 فیصد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ وہ تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے تاہم یہ تناسب 2018 میں 26 فیصد رہ گیا ہے۔ ایک فیصد اضافے کے ساتھ پی پی پی کے ووٹرز کا تناسب 6 فیصد ہوگیا۔

 

پلس (Pulse) کے سروے میں انکشاف کیا گیا کہ ن لیگ ابھی بھی صوبے کی سب سے مقبول جماعت ضرور ہے تاہم اس کی مقبولیت میں 2017 کے مقابلے میں 12 فیصد کی بہت بڑی کمی آئی ہے۔ 2018 کے پولز میں 43 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ ن لیگ کو ووٹ دیں گے تاہم 2017 کے سروے میں یہ تناسب 55 فیصد تھا۔ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں 14 فیصد اضافہ ہوا اور پنجاب کے 34 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ 2018 میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے جبکہ یہ تناسب 2017 میں 20 فیصد تھا۔ پلس کے سروے میں پی پی پی کی مقبولیت میں مزید کمی واقع ہوئی، صرف 5 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے جبکہ 2017 میں یہ تناسب 7 فیصد تھا۔ ایک تیسرا پول جس کا انعقاد پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی او آر) نے کیا، میں پنجاب کی تمام یعنی 141 قومی اسمبلی کی نشستوں پر فوکس کیا گیا۔ اس سروے کا انعقاد 15 اپریل سے 2 جون 2018 کے درمیان ہوا۔ سروے کے مطابق 51 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ ن لیگ کو، 30 فیصد نے پی ٹی آئی کو جبکہ 5 فیصد نے کہا کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے۔

کے پی کے ووٹرز کا رجحان :

گیلپ کے سروے کے مطابق 2018 میں خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا جہاں 57 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے۔ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں 2017 کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔ سروے میں 9 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ ن لیگ کو ووٹ دیں گے، 2017 میں ان کی تعداد 10 فیصد تھی۔ 6 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ جمیعت علمائے اسلام اور اے این پی کو ووٹ دیں گے۔

 

پلس (Pulse) کے سروے میں بھی خیبر پختونخوا کے حوالے سے ملتے جلتے نتائج حاصل ہوئے۔ 57 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے، 2017 میں یہ تناسب 53 فیصد تھا۔ 10 فیصد نے کہا کہ وہ ن لیگ کو ووٹ دیں گے، یہ تناسب 2017 کے مقابلے میں 3 فیصد کم ہے۔ صوبے میں پی پی پی کی مقبولیت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ 9 فیصد نے کہا کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے۔

سندھ کے ووٹرز کا رجحان:

سندھ میں بھی پچھلی بار کی طرح پاکستان پیپلز پارٹی مضبوط جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ۔ یلپ کے مطابق 2018 اور 2017 کے نتائج میں صوبے کے ووٹرز کی ترجیحات ایک جیسی رہیں۔ 44 فیصد نے کہا کہ وہ ابھی بھی پی پی پی ہی کو ووٹ دیں گے۔سندھ میں دوسری جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں نہ کوئی اضافہ ہوا اور نہ ہی کوئی کمی آئی ہے۔

پلس (Pulse) کے سروے میں بھی پی پی پی ووٹرز کی پسندیدہ جماعت رہی۔ سروے میں 45 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے۔ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور 11 فیصد نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے۔ ن لیگ کی مقبولیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور 4 فیصد نے کہا کہ وہ ن لیگ کو ووٹ دیں گے۔

بلوچستان کے ووٹرز کا رجحان :

بلوچستان میں گیلپ اور پلس دونوں سرویز کے مطابق ووٹرز کی ترجیحات میں تبدیلی آئی ہے جنوری میں حکومت کی تبدیلی مسلم لیگ ن پہ گراں گزری جس کی وجہ سے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن ٹاپ تھری پارٹیوں سے باہر آ گئی ہے ۔گیلپ کے مطابق حکومت کی تبدیلی سے پیپلز پارٹی کو بہت فائدہ ہوا جہاں الیکشن 2013 میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت 6 فیصد تھی اب وہ بڑھ کر 20 فیصد ہو گئی ہے۔

گیلپ کے سروے میں 23 فیصد ووٹرز نے کہا کہ وہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کو ووٹ دیں گے۔ 2017 کے رائے عامہ پول کے مقابلے میں صوبے میں پارٹی کی مقبولیت میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پی پی پی کی مقبولیت میں بھی اضافہ دیکھا گیا، 20 فیصد نے کہا کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے۔ اس سے قبل یہ تناسب 7 فیصد تھا۔ صوبے میں تحریک انصاف کی مقبولیت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی اور یہ 5 فیصد پر رہی۔

 

پلس کے سروے میں بلوچستان میں پی پی پی سب سے مقبول جماعت کے طور پر سامنے آئی جس کو 36 فیصد جواب دہندگان نے ووٹ دینے کی حامی بھری۔ صوبے میں پی پی پی کی مقبولیت میں 31 فیصد اضافہ ہوا۔12 فیصد کے مطابق وہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے، یہ تناسب 2017 میں 21 فیصد تھا۔ جمیعت علمائے اسلام کی مقبولیت میں بھی 2017 کے مقابلے میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں