میں برائے فروخت ہوں۔۔۔

میں برائے فروخت ہوں۔۔۔

آپ نے کچھ والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ اس پوسٹر ’’بچے برائے فروخت‘‘ کے ساتھ سڑک کنارے دیکھا ہو گا۔ اکثریت انہیں نظر انداز کر کے گزر جاتی تھی۔ میں نے یہ پوسٹر اٹھائے تقریباً ہر والدین سے بات کی تو انکی کہانیاں دل دہلا دینے والی تھی۔ لیکن جب میں نے یاسر جواد جیسے حساس بندے کی یہ تحریر پڑھی جس کا عنوان تھا ’’میں برائے فروخت‘‘ تو جھٹکا سا لگا۔ یاسر جواد ایک سیلف میڈ انسان ہے۔ ابتدا اس نے روایتی صحافت سے کی جلد تحقیق و تحریر کی طرف راغب ہو گیا۔ اس نے درجن بھر کتابیں لکھیں اور قریباً دو سو کتابوں کے مختلف زبانوں سے اردو تراجم کیے اور میرے جیسے ہزاروں طالبعلموں پر علم کے دروازے کھولے۔

تقریباً 37 سال پہلے جب حسین نقی صاحب کے زیر سایہ صحافت میں قدم رکھا تو عزم تھا کہ انقلاب نہیں تو کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور لائیں گے۔ حسین نقی صاحب نے صرف ایک سبق دیا کبھی کسی طاقتور کے سامنے نہ جھکنا اور اپنے آپ کو فروخت نہ کرنا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی کا کیڑا بھی اپنی موت آپ مر گیا لیکن حتی المقدور کوشش کی کہ کبھی خود کو خود کے سامنے شرمندہ نہ ہونے دوں۔

کبھی کبھی لگتا ہے کہ جو زندگی گزاری ہے وقت کا زیاں ہے کیا ہے۔ بقول شخصے

’’چوہدری دنیا تے آتے گیے ہاں پر لگدا اے پیا پھیرا ای اے‘‘۔ اور نقی صاحب سے معزرت کے ساتھ آج میں بھی برائے فروخت ہوں۔ اور اپنی یہ فروخت کی وجہ محض معاشی انحطاط نہیں بلکہ سیاسی، سماجی، نفسیاتی، معاشرتی، صحافتی اور ہر شعبے میں زوال پذیری ہے۔ ریاست کے تین ستون ایگزیکٹو مقننہ اور عدلیہ گڈ مڈ ہو گئے ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ ایک ماہ میں پٹرول سو روپے مہنگا ہو گیا لیکن لوگ زندگی کو گھسیٹ رہے ہیں جس سے حکمرانوں کا ظلم کرنے کا حوصلہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔ شاید لوگوں میں سکت ہی نہیں؟ کہیں یہ معاشرہ آخری سانسیں تو نہیں لے رہا؟ لیکن جو حالات ہیں شاید ہمارا کوئی خریدار نہ ملے کیونکہ بازار میں نایاب ہیرے کوڑیوں کے مول بک رہے ہیں لیکن خرید کی سکت کسی کی نہیں۔

یاسر جواد کی تحریروں میں تلخی دیکھ کر جگر کٹ سا جاتا ہے میں تو ایک سیدھا سادا رپورٹر ہوں اور نہ میری تحریر یاسر جواد کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ اس لیے یاسر جواد کا ماسٹر پیس بغیر کسی کانٹ چھانٹ کی نذر کر رہا ہوں کہ آجکل کے حالات میں دردمند دل رکھنے والے پڑھے لکھے کس کرب سے گزر رہے ہیں۔

’’میں برائے فروخت ہوں!‘‘

یاسر جواد

سوفوکلیز نے کہا تھا، ’’فراڈ کے ذریعے کامیاب ہونے سے بہتر ہے کہ ناکام رہو۔‘‘ سوفوکلیز کا قدیم دور ایک سو سال پہلے تک جاری تھا جب ایمان داری، فراڈ، کامیابی اور ناکامی کے کچھ نہ کچھ اصول موجود تھے۔ اب یہ سب کچھ حلیم کی دیگ میں پڑا ہے۔

سوفوکلیز پاکستان میں رہتا، کبھی گھر میں چوری ہونے پر پولیس کے پاس پرچہ درج کرانے گیا ہوتا، بچوں کے لیے بیس لیٹر مہنگے پانی کی بوتل موٹر سائیکل کی ٹینکی پہ بیلنس کرتا ہوا لاتا اور نصابی کتب اور یونیفارم صرف ایک ہی ٹھیکے والی دکان سے خریدتا تو تب بات تھی۔ سوفوکلیز بجلی کے بِل دیتا تھا نہ اُسے ایٹم بم کی اقساط ادا کرنا تھیں، نہ اُسے 23 مارچ کی پریڈ کے لیے چندہ دینا تھا، نہ اُس کے راستے میں ایف ڈبلیو او کے منظم راہزن بیٹھے تھے۔ نہ اُسے کالی ڈبل کیبن گاڑیوں میں بیٹھے گارڈز اشارے سے ایک طرف ہو کر کسی مقدس جج کی گاڑی کو راستہ دینے کے لیے کہتے تھے۔

مگر سوفوکلیز شاید ہم میں سے کچھ کو داد بھی نہ دے پائے کہ اُنھوں اِس سب کے ہوتے ہوئے بھی اس جیسا بننے کی راہ اپنائی۔ ڈایوجینز کے سامنے سکندر آیا تھا اور پوچھا کہ کچھ چاہیے؟ جب اُس نے جواب میں کہا تھا کہ، ’’آگے سے ہٹ جاؤ، دھوپ آنے دو۔‘‘ یہ سب گمراہ کن مثالیں ہیں۔ نوجوانوں کو اُن کی جارحانہ طبیعت سے جدا کر کے تہذیب کی طرف لانے والی باتیں۔

پاکستان جیسے ملک میں رہتے ہوئے تہذیب اور فلسفہ و تاریخ کی باتیں کرنا زیب دیتا ہے کسی کو؟ بہت ہو گئی گمراہی۔ چھوڑیں یہ بکواس، زندگی ایک بار ہی ملتی ہے، اور یہی بیس تا تیس سال ہیں، گزشتہ بیس سال ضائع کر دیے تو مزید نہ کریں۔ میں تو اِس کے لیے تیار ہوں اور ذہن بنا لیا ہے فروخت ہونے کا:

میں ملکِ خداداد کو دعاؤں، خوابوں اور رحمتوں کا نتیجہ ماننے پر تیار ہوں۔ ہندو تو تھے ہی خبیث اور گورے مسیحی نہایت مکار۔ ہمارے قائد نے دن رات پریشان ہو کر اور لڑ کر ملک لے کر دیا۔

ایوب خان کا شکریہ کہ اُس نے ہمیں ملحد روس کے شکنجے سے بچایا۔ 1965ء کی جنگ میں بابے ہماری مدد کو آئے اور ہم نے ایک منٹ میں دس دس جہاز گرائے، فتح پائی۔ میں اِس سب کو تاریخ کا حصہ اور مطلق و قطعی سچ مانتا ہوں۔

میں تمام آمروں کو بھی وقت اور اسلام کی ضرورت اور ملک میں ترقی کا ضامن سمجھنے کی گواہی دیتا ہوں۔ میرے لیے ایڈورڈ گِبن، سپنگلر، ول ڈیورانٹ وغیرہ آج کے بعد کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ میں پاکستانی مؤرخ نسیم حجازی کو ہی ثقہ اور اصل تاریخ مانتا ہوں۔ کارل ساگان کی تشکیک چھوڑ کر ہارون یحییٰ کو حتمی سچائی ماننے پر تیار ہوں۔ بلکہ یحییٰ امجد کی ’’پانچ ہزار تاریخ پاکستان‘‘ کو بھی درست اور صائب مانتا ہوں۔ تیسرا یحییٰ بابا بھی میرے لیے معتبر ہے۔

قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، اشفاق احمد اور اُن کی ضمنی شاخوں کی شان میں جو گستاخی کی اُس پر معافی کا طلب گار ہوں۔ میں پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال تو کیا اُس ننھے پروفیسر کی باتوں پر بھی اَش اَش کرنے کو تیار ہوں جسے جی ایچ کیو میں خصوصی خطاب کیلئے بلایا جاتا ہے۔

میں حوروں کو ذہن میں لا کر طارق جمیل کی رقیق القلبی کا ساتھ دوں گا، ادھ اْدھڑی کھال والے بکروں کے ساتھ تصاویر پوسٹ کروں گا۔ میں اپنے موبائل میں مختلف قرآنی ایپ اور نعتیں ڈاؤن لوڈ کروں گا، مقدس مقامات کے وال پیپر لگاؤں گا۔ میں تمام مرے ہوئے پاکستانی پاکبازوں کی مغفرت کے لیے دعا گو رہوں گا اور اُنھیں بعد از مرگ ولی بنا کر پیش کروں گا۔ کیونکہ انسان تو خطا کا پتلا ہے۔ میں 52 جمعوں کے دن اور رمضان میں شلوار قمیض پہنا کروں گا، کیونکہ وہی اسلامی اور قومی لباس ہے۔ ان شاء اللہ، ماشاء اللہ، الحمد للہ وغیرہ کا استعمال کثرت سے کروں گا۔

میں باتھ روم، مسجد اور کینٹ میں داخلے کی دعا بھی یاد کروں گا۔ میں بڑی بڑی بیرکوں کے سامنے نصب ٹینکوں اور آبدوزوں کے ساتھ تصاویر اُتروایا کروں گا۔ میں اُڑتے جنگی جہازوں کی گرج سن کر جوش سے بھر جایا کروں گا۔ میں مری کے عین وسط میں بڑی کالی گاڑیوں سے اُترتی ہوئی پاک جرنیلی فیملیوں کو دیکھ کر حسرت کے بجائے فخر کیا کروں گا۔

میں پی ایچ ڈیز کی تعداد سے ملک میں علمی ترقی کی دلیل دیا کروں گا۔ مجھے ہر بات میں ’’ذرا نم ہو…‘‘ کہہ کر بے بنیاد رجائیت پیش کرنے کا شوق ہو چلا ہے۔ میں آئندہ کبھی اس بارے میں طنزیہ بھی کچھ نہیں کہوں گا۔

میں مانتا ہوں کہ ساری دنیا اس پیارے ملک کے خلاف سازشیں کر رہی ہے جو قیامت تک کے لیے بنا ہے۔ میں پٹھان، بلوچ اور تمام قوم پرستوں کو اسرائیل کے ایجنٹ مانوں گا۔ اسرائیل کو ابھی پاکستان نے تسلیم نہیں کیا، میں اس پر خوش ہوں، کل کو مان لیا تو تب بھی خوشی کا اظہار کروں گا۔

میں اپنے سابق حلقہ احباب میں موجود اسلام مخالف، سائنس پرست، منطق پسند، غیر مقلد اور غیر حب وطن عناصر کی مخبری بھی کر دیا کروں گا۔

میں اقرار کرتا ہوں کہ میں نے غلط راستہ چنا اور تیس سال اِس پر بھٹکتا رہا۔ خیر کہتے ہیں کہ صبح کا بھولا شام کو گھر آ جائے تو اْس کو بھولا نہیں کہتے (میں ایسے دیگر محاورے بھی یاد کر لوں گا)۔ میرے والدین نے بھی غلط کیا جو بچپن میں مجھے چھڑی لے کر اقبال کے اشعار اور قائد اعظم کے اقوال سے بھرپور تقریریں کرنا نہ سکھایا۔ میں توبہ کر چکا ہوں۔ مجھے استغفار نامہ جاری کیا جائے!

کیا یہ سب تیاریاں میری فروخت کی ضامن نہیں؟ یا آج کل خدانخواستہ پروکیورمنٹ بند ہے؟ یا کہیں سٹاک ضرورت سے زیادہ تو بڑھ نہیں گیا؟ ری ٹویٹ والی نوکری تو ہو گی ہی؟

میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ اقوام متحدہ جیسی باطل تنظیموں کے انسانی حقوق بے معنی ہیں۔ ہمیں اسلام نے ہر قسم کے انسانی حقوق بتا دیے ہیں، جو مل بھی جائیں گے، ان شاء اللہ۔ میں انسانی حقوق کے یہودوی- مسیحی اعلامیوں کو بے معنی سمجھتا ہوں۔ میں مغربی تعریف والے ’انسان‘ کی صفات سے محروم ہونا چاہتا ہوں۔ مجھے انسان رہنا ہی نہیں۔ مجھے آپ جیسا بننا ہے۔

(نوٹ: آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ میں نے اس آخری تحریر میں کوئی طنز نہیں کیا)

کالم کے بارے میں اپنی رائے 03004741474 پر وٹس ایپ کریں۔

مصنف کے بارے میں