کچھ رحم عالی جاہ۔۔۔۔۔

کچھ رحم عالی جاہ۔۔۔۔۔

پیٹرولیم مصنو عات اوربجلی کے نرخوں میں مو جو دہ اضافے کو عوامی حلقوں میں حکمرانوں کی جانب سے قوم کو دئیے گئے تحفے سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور یہ انتہائی افسو سناک صورتحال ہے کہ عوام کے حقو ق کی بات کرنے والے حکومتی اتحادی بھی مصلحتوں اور مفاہمتوں کا لبادہ اوڑ ھے عوام کو کند چھری سے ذبح کر رہے ہیں ۔ پیٹرولیم مصنو عات کے نرخوں میں ہو شر بااضافے پرحکومت کوئی شرمندگی محسوس نہیں کر رہی نہ ہی وزیر خزانہ صاحب عوام کو تسلی دے رہے ہیں کہ مستقبل میں انھیں کوئی ریلیف مل سکتا ہے ۔چند ہی روز بعد ضمنی انتخابات کا شیڈول بھی طے ہے سمجھ نہیں آتی کہ پی ٹی آئی اور موجودہ اتحادی حکمران کس منہ سے عوام کے پاس جا رہے ہیں دونوں ایک سے ایک بڑھ کہ مہنگائی کے ذمہ دار ہیں اور دونوں کا زور صرف اس بات پر ہے کہ ایک دوسرے پر الزام کیسے لگایا جائے ۔

 حکمر انوں اوراپوزیشن کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ وہ عوام پر کند چھری چلانے کے بعد اس سے کیا امید رکھتے ہیں ۔پی ٹی آئی جب بھی اپوزیشن میں ہو پارلیمنٹ میں جانا پسند نہیں کرتی اس لئے حکومت کو ادھر بھی جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔سڑکوں پر پی ٹی آئی موجود ہے لیکن صرف اس لئے کہ ہمیں حکومت واپس دی جائے اس لئے ہر گز نہیں ہے کہ عوام کو کوئی ریلیف دلوایا جائے ۔

اس وقت مہنگائی کی تازہ صورتحال ملاحظہ فرمائیں ماہانہ مہنگائی جون میں بڑھ کر 21.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو کہ 13 سالوں میں اس کی بلند ترین رفتار ہے، جس کی بنیادی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ مئی کے آخری ہفتے سے ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 90 فیصد اضافہ ہوا جب نئی مخلوط حکومت نے ایندھن کی سبسڈی کو ختم کر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرض کے پروگرام کو بحال کرنے کی کوشش کی جس سے عوام مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جون میں اشیائے خوردونوش کی مہنگائی بلندی پر رہی، کیونکہ شہری علاقوں میں یہ سال بہ سال 24 فیصد اور ماہ بہ ماہ 5 فیصد تک پہنچ گئی، جب کہ دیہی علاقوں میں قیمتوں میں متعلقہ اضافہ 27 فیصد اور 6 فیصد تھا۔ جہاں شہری علاقوں میں عام طور پر کھانے کی قیمتیں زیادہ ہوچکی ہیںوہاں ساتھ ساتھ دیہی مراکز میں گھی، کوکنگ آئل، گوشت، پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔دوسری طرف بد قسمتی سے مہنگائی میں اضافہ کی ایک وجہ تاجر بھی ہیں جن اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا ان میں تاجروں نے خود بخود اضافہ کر دیا ہے کہتے ہیں چونکہ مہنگائی ہو گئی ہے اس لئے اب ہمیں زیادہ منافع درکار ہے ۔بدقسمتی سے حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اگر پرائس کنٹرول کمیٹیاں اپنا کردار ادا کریں تو کم از کم مصنوعی مہنگائی کو تو روکا جا سکتا ہے ۔اب جو بجلی کے نرخوں میںاضافہ ہوا اس سے مہنگائی کاایک اور طوفان آئے گا۔فیکٹریاں بند ہو جائیں گی کسان ڈیزل کے نرخوں سے متاثر ہو گا،اپنی زمین فروخت کر کے اس پر ہائوسنگ سوسائٹی بنانے کی طرف جائے گا جس سے ملک میں اناج کی کمی ہو گی ۔ جرائم پیشہ لوگوں کی گڈی اور چڑھ جائے گی۔ ہمارے حکمران اور اپوزیشن قائدین جو ہنگامے کررہے ہیں صرف اقتدار کا حصول ان کا واحد مقصد ہے۔ اور اقتدار میں آ کر وہ بھی بالکل محمد شاہ رنگیلے کی طرح بن جاتے ہیں جسے بتایا جاتا رہا کہ انگریز فوج اب دلی سے20کوس دور رہ گئی ہے۔ وہ لال پری کا ایک اورگلاس چڑھاتا اور کہتاہنوز دلی دو راست اور پھر انگریز فوج نے قلعے پر چڑھائی کردی اور مغلیہ خاندان کو نیست ونابود کردیا۔ یہی مکافات عمل ہے جس سے ہمارے حکمران ابھی تک بے خبر ہیں۔

مبصر ین کا خیال ہے کہ اسی ناکامی کو چھپانے کیلئے ہمیشہ جمہوریت کو خطرہ ہے کا راگ الاپا جاتا ہے حالانکہ یہ کھلی حقیقت ہے کہ اگر ملکی معیشت اور عوام خوشحال ہوںگے تو جمہوریت کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ حکومت جس جمہوریت کے خطرہ کی بات کرتی ہے وہ جمہوریت عوام کو روٹی ، کپڑا مکان روز گار اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہے لیکن سابق حکومت کی طرح موجود ہ حکومت بھی ابھی تک عوام کو یہ سب کچھ دینے میں ناکام رہی ہے۔

 اس ہو شر با گرانی کے ہاتھوں عوام مر رہے ہیں مگر بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔نواز شریف لندن علاج میں مصروف ہیں ۔وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے وزیر خزانہ روزانہ سخت فیصلوں کی نئی نوید سنا نے میں مصروف ہیں ۔پنجاب کے وزیر اعلی حمزہ شہباز اپنی کرسی بچانے کی فکر میں ہیں پنجاب میں اپوزیشن رہنما جو اس وقت سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی ہیںتخت پنجاب حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ان کا مکمل ساتھ پی ٹی آئی پنجاب اور مرکز دونوں دے رہے ہیں ایک بار بھی شاید کسی نے نہ سوچا ہو کہ اس سیاسی چپقلش سے ملک اور صوبے کو کتنا نقصان ہو رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کیلئے بھی اپنا دورشرم ساری کا باعث ہونا چاہیے تھا مگر جب آنکھوں کے دیدے ہی خشک ہو جائیں تو پھر اپنے عہد کے بد ترین دور پر مبارکبادیں ہی وصول کی جاتی ہیں۔ مجال ہے کہ کسی ایک نے بھی عوام کے سامنے آ کر اپنی ناقص کار گزاری پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کی ہو اور عہد کیا ہو کہ وہ ساری کسرنکال دیں گے ۔ یہ انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں عوام کو مہنگائی ، غر بت ، بیروز گاری اور بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل سے نجات دلانے اور ان میں کمی لانے کے بجائے انھیں مشکل بنا دیا گیا ہے اور عوام سے سکون کے ساتھ زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں