سماجی میڈیا کا نشہ سگریٹ اور شراب سے زیادہ مہلک ہے، رپورٹ

لندن :ایک نئی تحقیق کے مطابق نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لئے انسٹاگرام سماجی میڈیا کا مضر ترین پلیٹ فارم ہے۔ یہ رپورٹ برطانیہ کی رائل سوسائٹی فور پبلک ہیلتھ کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔

ادارے کی انتظامی سربراہ شرلے کریمر کا کہنا ہے کہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سوشل میڈیا کا نشہ سگریٹ اور شراب سے زیادہ ہے اور یہ نوجوانوں کی زندگی میں اس حد تک سرائیت کر گیا ہے کہ جب ہم ان کی ذہنی صحت کی بات کرتے ہیں تو سوشل میڈیا کو نظرانداز کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔شرلے کریمر کا مزید کہنا ہے کہ درجہ بندی میں ذہنی صحت کے لئے بدترین سوشل میڈیا انسٹاگرام اور سنیپ چیٹ ہے کیونکہ ان دونوں پلیٹ فارمز میں تصویروں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ نوجوانوں میں احساس کمتری یا احساس برتری اور یا پھر ذہنی انتشار جیسے نفسیاتی مسائل کا سبب بنتے ہیں۔

ماہرین نے اس تحقیق میں 1500 برطانوی نوجوانوں کو شامل کیا، جن کی عمریں 14 سے 24 برس کے درمیان تھیں۔ ان نوجوانوں کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے اثرات جانچنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ نوجوان ذہنی پریشانی، ذہنی دباو¿، نیند کی کمی یا احساس کمتری میں مبتلا تھے۔ اس کے علاوہ یہ معاشرتی طور پر الگ تھلگ اور اکیلے پن کے شکار تھے۔’برٹش رائل سوسائٹی فور پبلک ہیلتھ‘ کے مطابق، یوٹیوب کے ذہنی صحت پر اثرات نسبتاً مثبت تھے، جبکہ ٹویٹر اور فیس بک کے منفی اثرات بھی زیادہ خطرناک نہیں تھے۔

شارلے کریمر کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا مقصد سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز کے مثبت پہلوو¿ں پر روشنی ڈالنا اور ایسے حالات سے بچنا ہے جو نوجوانوں کو سوشل میڈیا سائیکوسس کی جانب لے جاتے ہیں۔