دبئی میں روبوٹ پولیس اہلکار کے اِفطار ی کے وقت توپ چلانے کی تصویر وائرل ہوگئی

دبئی میں روبوٹ پولیس اہلکار کے اِفطار ی کے وقت توپ چلانے کی تصویر وائرل ہوگئی

دبئی میں پہلے اسمارٹ روبوٹ پولیس اہل کار کو متعارف کرایا گیا تھا۔ یہ روبوٹ عوام کو متعدد زبانوں میں خدمات پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مذکورہ پولیس روبوٹ دبئی میں دنیا کے بلند ترین ٹاور برج خلیفہ کے سامنے ڈاؤن ٹاؤن میں اِفطار کی توپ کے برابر کھڑا نظر آیا۔ 

اس دوران روبوٹ نے فوجی سلامی پیش کی اور وہاں موجود حاضرین نے اس کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے دبئی پولیس میں اسمارٹ سروسز کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل خالد ناصر الرزوقی نے عرب ٹی وی کو بتایاکہ روبوٹ پولیس اہل کار کو افطار کی توپ چلانے کے عمل کے واسطے اس لیے چنا گیا کیوں کہ رمضان ایک مبارک مہینہ ہے اور ہمارے دلوں کو بہت پیارا ہے اس لیے پولیس اہل کاروں کو رمضان کی توپ چلانے میں شریک کیا جاتا ہے۔  

الرزوقی کے مطابق دبئی کی انتظامیہ مستقبل میں بتدریج مزید خودکار روبوٹ اہل کاروں کی تعداد میں اضافے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ الرزوقی نے تصدیق کی کہ روبوٹ پولیس اہل کار ایک عام پولیس اہل کار کی طرح ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے اندراج اور ٹریفک سگنلوں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت کا حامل ہو گا۔یہ پولیس روبوٹ 6 مختلف زبانوں میں عوام کے سوالات کا جواب اور تجاویز دے سکتا ہے۔ 

اس کے علاوہ یہ روبوٹ اپنے اندر نصب پروگرام میں موجود وسیع معلومات کے واسطے سے افراد کے چہروں کی پہچان بھی کر سکتا ہے۔ پولیس روبوٹ کے سینے پر نصب اسکرین کے ذریعے جرم کی اطلاع دینے کے علاوہ ٹریفک کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔یاد رہے کہ روبوٹ پولیس اہل کار کو خصوصی طور پر دبئی ایئرپورٹ ، سیاحتی مقامات ، بڑے شاپنگ مالز اور شاہراہوں پر لوگوں کو معاونت پیش کرنے کے مقصد سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ روبوٹ پولیس اہل کار مخصوص ٹکنالوجی ، ڈیجیٹل حساب کتاب اور انتہائی جدید ترین انٹیلی جنس نظام کے تحت خود کار طریقے سے کسی بھی عام پولیس اہل کار کی طرح فیصلے کر سکے گا