غربت، معاشی استحصال اور حل

غربت، معاشی استحصال اور حل

معیشت کا چند ہاتھوں میں مرتکز ہونا اور انسانیت میں بڑھتی ہوئی بے روز گاری، غربت اور معاشی استحصال آخر کس وجہ سے ہے اس کے پیچھے سرمایہ دارانہ معاشی نظام کام کر رہا ہے جو صرف امیر کو حق دیتا ہے کہ وہ معاشرے کی قیادت کرے یعنی دولت والے مزید دولت کمانے کا حق رکھتے ہیں، امیر، امیر سے امیر تر بنتا جا رہا ہے، غریب، غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے، اب یہی دنیا میں استحصال کا سب سے بڑا سبب بن رہا ہے غریب آدمی ظلم و جبر کے اس نظام میں بہت پس رہا ہے نہ روزگار، نہ تعلیم، نہ صحت، صرف انسانی حاکمیت، غلامی، استحصال جس کے اثرات پوری دنیا میں پوری شدومد کے ساتھ پھیلے ہوئے ہیں۔ کہیں ذرداری کے گھوڑے اور نیازی کے کتوں کو دنیا کی آسائشیں حاصل ہیں اور مریم کروڑوں روپے اپنے ڈریسنگ پر خرچ کرتی ہیں وہاں انسانیت بھوک کی وجہ سے دم توڑ رہی ہے۔ 

پاکستان ایٹمی قوت ہے مگر اس کی آبادی کی ایک بہت بڑی تعداد خط غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے نیچے زندگی گزارنے پرمجبور ہے ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1.9 ڈالر یعنی 325 روپے کمانے والا فرد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہا ہے۔   جبکہ متوسط غربت طبقہ والے افراد 3.1 ڈالر یعنی 560 روپے روزانہ کماتا ہے۔ پاکستان کی 40فیصد  یعنی آٹھ کروڑ ستر لاکھ آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے غربت سے مراد آمدنی کی وہ حد ہوتی ہے جس سے نیچے کوئی فرد زندگی کے لیے درکار بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ جو افراد اس خط یا حد سے نیچے آمدنی رکھتے ہیں وہ کسی بھی مقدار میں بنیادی ضروریات حاصل نہیں کر پاتے۔ غریب اور امیر کی تقسیم بہت وسیع ہو چکی ہے، اس غیر منصفانہ تقسیم نے دو پاکستان بنا دیے ہیں۔ ملک کی ایک فی صد اشرافیہ کے پاس کل آبادی کے بیس فی صد سے زائد انکم ہے۔ بیس لاکھ سے زائد ایسے گھرانے ہیں جن کے خاندان میں آٹھ افراد ایک کمرے کے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ پاکستان میں متمول طبقہ ایک اندازے کے مطابق اپنی آمدن کا تقریباً 25 فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتا ہے نچلے متوسط اور غریب طبقے کے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی آمدن کا تقریباً 75 فیصد حصہ خوراک پر خرچ 

کرتی ہے جنوبی ایشیا میں جاری عسکری برتری کی دوڑ سے پاکستان کے عوام کو غربت کی دلدل میں مسلسل دھکیلا جا رہا ہے۔ سال 2021 کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب میں غربت کی شرح 31.4 فیصد، سندھ میں 45 فیصد، خیبر پختونخوا میں 49 فیصد اور بلوچستان میں خوفناک 71 فیصد ہے۔ عالمی بینک کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کے 80 فیصد غریب دیہاتوں میں رہتے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ تعلیم، صحت اور زندگی بسر کرنے کے لیے بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔ پچھلے دو سال میں بڑھتے ہوئے افراط زر خصوصاً اشیائے خوراک کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے بھی مزید لاکھوں افراد خط غربت کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ غربت کی وجہ سے شہروں میں آباد لوگوں کے صرف 13 فیصد بچے مڈل سکول تک پڑھ پاتے ہیں جبکہ دیہات میں یہ شرح 2 فیصد کے قریب ہے۔ پاکستان کی تقریباً 50فیصد سے زیادہ آبادی ان پڑھ ہے غربت کی وجہ سے تقریباً 2 کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق دنیا میں نائجیریا کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ بچے غربت کی وجہ سے سکولوں میں نہیں جا پاتے۔ یہ بچے بڑے ہوکر غربت، بے روزگاری اور جرائم میں مزید اضافے کا باعث بنیں گے۔ پاکستان میں ٹیکس کا نظام غریبوں پر ٹیکس کا بوجھ امیروں سے زیادہ ڈالتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ہمارے ملک میں 80 فیصد سے زیادہ ٹیکسوں کی وصولی درمیانے اور غریب طبقے سے بجلی، گیس، موبائل فون، پٹرول اور عام استعمال کی دیگر اشیا پر عائد ٹیکسوں سے حاصل کی جاتی ہے جبکہ اشرافیہ صرف 5 فیصد تقریباً ٹیکسوں کی صورت میں ادائیگی کرتا ہے۔

پاکستان میں موجودہ حکومت نے عوام سے پہلے ایک کروڑ نوکریوں اور ان کے لیے پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے کے وعدے کیے تھے۔ لیکن اب غربت کے خاتمے کی سرکاری پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے کے بجائے لنگر خانے کھول کر بھوک کے خاتمے کو راہ نجات سمجھا جانے لگا ہے۔ وسائل کی اسی نامناسب سماجی تقسیم کے باعث معاشرے میں غربت، مایوسی اور افراتفری پھیل رہی ہے اور پھر بے روزگاری اور ایسے ہی دیگر عوامل کے سبب معاشرے میں چوری، قتل، دھوکا دہی اور دیگر جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں چائلڈ لیبر کی وجہ سے سکول جانے سے قاصر ہیں غربت نے انہیں  غباروں سے کھیلنے کے بجائے بیچنے پر مجبور کردیا۔

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے

بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے 

اب ہم غربت کو ختم کرنے کے لئے حل کی بات کرتے ہیں جن میں پچھلے 73 سال میں کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں مگر اس جہد مسلسل میں پچھلی دو دہائیوں میں وہ تسلسل دکھائی نہیں دیا جو اس سے پہلے حاصل کامیابیوں کو بھی خطرے میں ڈالے ہوئے غربت کو ختم کرنے کے لئے ہمیں اہم اقدامات کرنا ہوں گے، سب سے پہلے سرمایہ دارانہ نظام جو اصل غربت کی جڑ ہے نوازشریف جن کی پرورش سرمایہ دارانہ نظام کے گملے میں ہوئی جس کی فیکٹریوں میں مزدور کو سخت سزائیں دی گئیں، ہزاروں ایکڑ کے مالک بلاول جو روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاتے ہیں ان کی اپنی زمینوں میں جو غریب رہتا ہے وہ سسک سسک کر مر رہا ہے اور موجودہ وزیراعظم عمران خان جن کی کیبنٹ میں جاگیردار اور سرمایہ دار موجود ہیں جنہوں نے کھاد اور چینی کا بحران پیداکیا،  اس جاگیرداری اور سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرکے اسلامی معاشی نظام کو رائج کرنا ہو گا جس میں غربت اور بھوک ختم ہوگی سب کو میرٹ کے مطابق روزگار ملے گا۔ ابھی ہمیں سماجی منصوبوں میں زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہوئے تعلیم اور ٹیکس وصول کرنے کے نظام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ غیر منصفانہ نظام میں اصلاحات، جن میں غریبوں پر ٹیکسوں میں کمی شامل ہو، سے غربت میں کمی لائی جاسکتی ہے اور کم آمدنی والے لوگوں کے لیے زندگی بہتر بنانے کے لیے مالی وسائل مہیا کیے جا سکتے ہیں۔ غربت کو ختم کرنے کے لئے سود کا نظام ختم کرنا ہو گا تاکہ وسائل سود کی ادائیگی کے بجائے غربت کے خاتمے کے لئے خرچ ہوں۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوں گے، عوام کو زیادہ مالی وسائل دستیاب ہوں گے اور افراط زر کی شرح بھی قابو میں رہے گی۔ غربت کا تعلق آمدن سے ہے۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ حکومتی پالیسیاں درست اور مؤثر ہوں۔ بلوچستان جہاں پاکستان کے سب سے زائد قدرتی ذرائع موجود ہیں وہاں غربت کی شرح 71فیصد ہے ان کے لئے حکومت کو خصوصی پیکیج دینا ہوں گے ورنہ غربت کی وجہ سے ملک سے نفرت بڑھتی چلی جائے گی۔

امیر شہر کو ضد ہے کہ شامِ غْربت میں

غریبِ شہر کی کْٹیا میں چاندنی بھی نہ ہو

مصنف کے بارے میں