پٹرول کے لیے بھی لنگر خانے کھولے جائیں

پٹرول کے لیے بھی لنگر خانے کھولے جائیں

حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں ایک ہفتے میں دوبار مجموعی طور پر 60 روپے فی لٹر اضافہ کر کے جو نیا ریکارڈ قائم کیا ہے شاید اس کو توڑنا آنے والے وقت اور آنے والی حکومتوں کے لیے اتنا آسان نہ ہو گا اس کی وجہ جو بھی ہو لیکن عوام کی جیبوں پر اتنے بڑے ڈاکے کا جواز پیدا کرنا آسان نہیں۔ ایک انگریزی محاورہ ہے کہ "Coming events cast their shadows" کہ پیش آنے والے واقعات کے سائے پہلے ہی نمودار ہو جاتے ہ یں۔ اس معاملے میں بھی صورتحال ایسی تھی کہ پہلے ہی پتہ تھا کہ گزشتہ حکومت نے سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے اور عدم اعتماد سے بچنے کے لیے پٹرول کی قیمت میں ناجائز کمی کر کے معاشی ڈھانچے میں جو بگاڑ پیدا کیا تھا۔ اسے درست کرنے کے لیے یہ اضافہ ناگزیر تھا دوسرا یہ کہ آئی ایم ایف کے ساتھ عالمی معاہدے میں وعدہ خلافی سابقہ حکومت نے کی تھی مگر اس کے جال میں نئی حکومت پھنس گئی۔ جب انہیں ساری صورت حال کا پتہ تھا اور ان کو اقتدار میں آئے دو ماہ گزر چکے ہیں تو انہوں نے فیصلہ کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کی 2 ماہ میں 15،15کے وقفے سے 15،15 روپے کا اضافہ کیا جاتا تو یہ حکومت غیر مقبول نہ ہوتی اور آئی ایم ایف کے ساتھ بھی اس کی ساکھ بحال ہو چکی ہوتی لیکن ان کو آخر تک نہیں پتہ تھا کہ کیا کرنا ہے باقاعدہ اعلان کیا گیا تھا کہ یکم تاریخ کو پٹرول کی قیمت 15 روز کے لیے برقرار رہے گی شاید وزیر خزانہ کو بھی علم نہیں تھا کہ فیصلہ کسی نے کرنا ہے اور اب بھی نہیں پتہ کہ یہ فیصلہ کس نے کیا ہے۔ پرانی کابینہ کے پاس کوئی اختیار تھا اور نہ ہی نئی کابینہ کے اندر دم ہے کہ وہ قیادت کو NO کر سکیں۔ 

یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے کہ اس وقت مہنگائی کی آگ کے شعلوں نے پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور حکومت آگ پر پانی ڈالنے کے بجائے اس پر پٹرول ڈال رہی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی 8 روپے فی یونٹ مہنگی ہو گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے بھی پٹرول کی ضرورت ہے کیونکہ ملک میں ڈیم نہیں بنائے گئے اور اس کمی کو پرائیویٹ پاور پروڈیوسرز کی پیدا کردہ مہنگی بجلی سے پورا کیا جا رہا ہے یعنی ہم غریب کے لیے روٹی کی فراہم کے بجائے اسے بسکٹ زبردستی کھلانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں یعنی ریاست تندور لگانے کے بجائے بیکری لگانے کو زیادہ آسان سمجھ رہی ہے۔ 

انہیں پیچیدہ وجوہات کی بنا پر پاکستان کا آئل امپورٹ بل تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے ۔ رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں پاکستان نے 17 بلین ڈالر کا تیل درآمد کیا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ امپورٹ بل میں اضافہ معاشی ترقی کی علامت ہے کیونکہ تیل سے ہی ملک میں پیداواری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں لیکن یہ نظر اندا زکر دیا جاتا ہے کہ پٹرول کے غیر ترقیاتی اخراجات کا ذمہ 

دار کون ہے ملک میں بڑھتے ہوئے موٹر سائیکل اور گاڑیاں پرائیویٹ طور پر جو پٹرول خرچ کر رہی ہیں اس کا معاشی ترقی سے کوئی تعلق نہیں ہمارے ملک میں پٹرول سے چلنے والی آٹو انڈسٹری کی آج تک کوئی پالیسی ہی نہیں کہ تیل کے غیر پیداواری استعمال کو روکا جائے پبلک ٹرانسپورٹ میں بہتری اور ذاتی سواری کے استعمال کو کم کیا جائے۔ 

جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو وہاں یہ تجویز چل رہی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور انصاف کارڈ سے حاصل شدہ Data Base کی مدد سے غریب افراد کو پٹرول پمپوں پر رعایتی کارڈ جاری کیے جائیں گے یہ سکیم اس بھولے بادشاہ کے مکار وزیر کی یاد دلاتی ہے جس نے بادشاہ کو تجویز دی تھی کہ رات کو جنگل کی طرف سے گیدڑوں کے چلانے کی آوازیں اس لیے آتی ہیں کہ انہیں سردی لگتی ہے۔ یہ سن کر رحمدل بادشاہ نے گیدڑوں کے لیے لحاف مہیا کرنے کا بجٹ جاری کر دیا۔ وزیر نے فوری طور پر محل کے گردو نواح سے گیدڑ بھگا دیئے اور بادشاہ کو کہا کہ لحافوں کی تقسیم کے بعد آپ خود دیکھ لیں گیدڑ خاموش ہو چکے ہیں۔ یہ حکومت پٹرول کے لنگر خانے کھولنا چاہتی ہے۔ 

سوال یہ ہے کہ حکومت کو اس طرح کے مشورے کون دیتا ہے۔ موٹر سائیکل والوں کے لیے پٹرول کی راشننگ کا آئیڈیا گزشتہ حکومت کو بیورو کریسی کی طرف سے دیا گیا تھا جس کا مقصد بادشاہ سلامت کی توجہ بیورو کریسی کی ان شاہ خرچیوں پر پردہ ڈالنا تھا جو وہ Entitlement یا مراعات کی مد میں اپنے لیے حاصل کرتے ہیں۔ ساری محکموں میں افسران کو سرکاری گاڑی بمعہ ڈرائیور بمعہ ماہانہ پٹرول اور Maintenance cost تک کی سہولت حاصل ہے۔ ٹی اے ڈی اے اس کے علاوہ ہوتا ہے۔ صاحب کے آنے سے ایک گھنٹہ پہلے اے سی چلایا جا تا ہے ان کے دفتروں میں 2،2 اے سی لگے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ جون جولائی میں بھی پینٹ کوٹ اور ٹائی زیب تن کرتے ہیں ۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت کی طرف سے ایک ایسا کریک ڈاؤن کیا جائے جس میں سرکاری سطح پر سخت گیر سادگی مہم چلا کر غیر ترقیاتی اخراجات نیچے لائے جائیں دفاتر میں اے سی ختم کیے جائیں پٹرول کی سہولت واپس لی جائے اس کے بدلے مناسب الاؤنس یا کوئی متبادل دیا جائے پبلک ٹرانسپورٹ کو فعال بنایا جائے بڑی گاڑیوں کی امپورٹ پر بھاری ٹیکس عائد کیے جائیں تا کہ پٹرول کے زیاں کی حوصلہ شکنی ہو۔ دیا مر بھاشا ڈیم پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور مزید ڈیم بنائے جائیں تا کہ 24 روپے یونٹ کے بجائے 5 روپے یونٹ میں مل سکے پھر دیکھیں کہ آپ کا آئل امپورٹ بل نیچے آتا ہے یا نہیں۔ یہاں پر یہ بھی مدنظر رکھیں کہ اراکین پارلیمنٹ وزراء سٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمین سب کی تنخواہیں اور اندھا دھند مراعات کو Curtail کیا جائے یہ بڑی جرأتمندی کی بات ہے اور اس میں سیاسی مصلحتیں وزیراعظم کے اختیارات سے زیادہ طاقتور ہیں لہٰذا اس کی امید کم ہے۔ 

اس پس منظر میں ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جو ایک دوسرے سے نہ ٹکراتی ہوں وزیراعظم شہباز شریف نے کئی ارب روپے کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا اور ماہانہ انکم سپورٹ کی شرح میں 2 ہزار روپے کا اضافہ کیا لیکن ساتھ ہی پٹرول کی قیمت بڑھا دی۔ گویا غریب کی ایک جیب میں آپ نے 2 ہزار روپے ڈال کر اس کی دوسری جیب سے 5 ہزار کا نوٹ چپکے سے نکال لیا یہ سب مضحکہ خیز ہے۔ 

حکومتی عدم تسلسل قومی مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ہر حکومت برسر اقتدار آکر زیرو سے شروع کرتی ہے اور زیرو پر ہی چھوڑ کر رخصت ہو جاتی ہے یہاں کم از کم 20 سال کے لیے کوئی ایسی پالیسی بنے جسے سیاسی بنیادوں پر تہہ و بالا نہ کیا جا سکے تو اصلاح احوال ہو سکتا ہے ملک میں مقامی طور پر سائیکل سواری کو فروغ دیا جائے پیدل چلنے کی عادت ڈالی جائے زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں تا کہ درجہ حرارت میں کمی آئے اور بجلی اور پٹرول کا استعمال کم ہو۔ ان لائن سٹڈی اور آن لائن دفتری کارروائی سے بھی پٹرول کی بچت ہو سکتی ہے۔ فاسٹ فوڈ کی غیر ملکی فرنچائز جن کا منافع پاکستان سے باہر جا تا ہے۔ ان کی حوصلہ شکنی کریں اور اوورسیز پاکستانیوں کو اپنا سیونگ پاکستان میں سرمایہ کاری میں لگانے پر راغب کریں۔ خدارا اپنی سیاست اور پارٹی کے بجائے پاکستان کا سوچیں۔ 

مصنف کے بارے میں