طلاق جیسے سانحے سے کیسے بچا جائے؟

طلاق جیسے سانحے سے کیسے بچا جائے؟

طلاق جیسے سانحے سے کیسے بچا جائے؟

نیو یارک: یہ حقیقت ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ اعتماد اور بھروسے کی بنیاد پر قائم رہتا ہے اور جب کبھی دونوں میں اعتماد اور بھروسے کا فقدان ہو تو اِس رشتے کی بنیادیں بھی کم زور ہو جاتی اور یہ رشتہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ اگر دونوں میں اعتماد اور بھروسے کی بنیادیں مضبوط رہیں گی تو یہ رشتہ بھی مضبوط تر ہوتا جائے گا اور کبھی زوال پذیر نہیں ہوگا۔عدم برداشت بھی طلاق کا ایک اہم سبب ہے اگر دونوں فریق برداشت اور تحمل سے کام لیں اور ایک دوسرے کی غلطیوں سے درگزر کریں تو اِس مقدس رشتے کو قائم رکھنا آسان ہے۔ چوں کہ ہماری معاشرتی اقدار میں شادی ایک سمجھوتا ہے، جو لوگ اپنے شریک حیات سے سمجھوتا کرلیتے اور گھریلو و زندگی کے دیگر اُمور میں باہمی مشاورت اور رضامندی سے کام لیتے ہیں، ایک دوسرے کی معمولی غلطیوں سے درگزر کرتے ہیں۔


اُن کی شادی قائم رہتی ہے اور جو لوگ سمجھوتا نہیں کرپاتے اُن کا یہ مقدس رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ طلاق و خلع کے واقعات کا جائزہ یہ بتاتا ہے کہ شادی شدہ افراد میں جدائی کا سبب بننے والی بنیادی وجوہات میں گھریلو ناچاقی سرفہرست ہے، جب کہ ایثار و قربانی کا فقدان، جبری شادی، مشترکہ خاندانی نظام سے بغاوت، سماجی مرتبے کا حصول، حرص و ہوس، بیوی یا شوہر کا شکی مزاج ہونا بھی طلاق و خلع کی شرح میں تیزی سے اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

طلاق کے بڑھتے ہوئے رُجحان میں کمی کے لیے شوہر و بیوی دونوں کو اپنے درمیان اعتماد اور دوستی کو فروغ دیتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق کی پاس داری کرنا ہوگی اور مل جُل کر صورت حال کو بہتر بنانا ہوگا۔ طلاق کی وجہ سے مرد و خواتین اپنی جھوٹی انا کے لیے نہ صرف اپنا بل کہ دو خاندانوں کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ معاشرتی سطح پر چوں کہ ہر خاندان ایک سماجی اکائی ہوتا ہے، اس لیے خاندانوں کے ٹوٹنے کا یہ عمل معاشرتی تبدیلیوں کے ساتھ سماجی شکست و ریخت کی نشان دہی بھی کرتا ہے۔