خواجہ برادران کے جوڈیشل ریمانڈمیں 19 مارچ تک توسیع

خواجہ برادران کے جوڈیشل ریمانڈمیں 19 مارچ تک توسیع
مجھے 60 سال پرانی بکتر بند گاڑی میں لایا جاتا ہے، خواجہ سعد رفیق کا عدالت میں شکوہ۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

لاہور: لاہور کی احتساب عدالت نے پیراگون سکینڈل میں گرفتار خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کر دی۔


احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن کے روبرو خواجہ برادران کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ کے ختم ہونے کے بعد پیش کیا۔ نیب تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا خواجہ برادران کیخلاف ریفرینس حتمی مراحل میں ہے اور خواجہ برادران پر پیرا گون سٹی کرپشن میں مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کرنے کا الزام ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے عدالت میں شکوہ کیا کہ 60 سال پرانی بکتر بند گاڑی میں لایا جاتا ہے جبکہ کمر میں درد ہے اور علاج نہیں کروایا جا رہا۔ مجھے کسی ہسپتال نہیں جانا مگر علاج کی سہولت دی جائے تو کسی کا کیا نقصان ہے۔

خواجہ برادران کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انکے موکل کی انتہائی تذلیل کی جا رہی ہے۔ پورا شہر بند کر کے بکتر بند گاڑی میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ خواجہ برادران کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے جیسے جنگی قیدی ہوں۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سڑکیں بند کرنے کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں اس کو حل کرتے ہیں۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو ریفرننس آئندہ سماعت پر فائل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے خواجہ بردران کو دوبارہ 19 مارچ تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔

عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور پاکستان مسلم لیگ ن اس وقت نشانے پر ہے جن لوگوں نے پاکستان کی پنجاب کی خدمت کی ہے اسکا صلہ ہمیں دیا جا رہا ہے۔