میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ 38 افراد ہلاک

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ 38 افراد ہلاک
سورس:   File photo

میانمارمیں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ 38 افراد ہلاک 

غیر ملکی میڈیا کے مطابق میانمار میں فوجی بغاوت کے ایک ماہ کے دوران فورسز کی فائرنگ سے ہونے والی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں جس پر اقوام متحدہ نے اسے ایک ’خونی دن‘ قرار دیا۔

اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے میانمار کا کہنا تھا کہ میانمار میں ہونے والے احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کی حیرت انگیز تصاویر سامنے آئی ہیں جس میں عینی شاہدین کا بتانا ہےکہ فورسز نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی۔

اقوام متحدہ کے نمائندہ نے کہا کہ میانمار میں فوجی بغاوت کے آغاز سے اب تک 50 افراد کو قتل کیا جاچکا ہے، اس حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں غیر مسلح طبی عملے پر بھی شدید تشدد کیا گیا۔

دوسری جانب میانمار میں شہریوں کی ہلاکت پر برطانیہ نے فوری طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ امریکا کا کہنا ہےکہ وہ میانمار کی فوجی قیادت کے خلاف مزید پابندیوں پر غور کررہا ہے۔اس کے علاوہ میانمار کے پڑوسی ممالک نے بھی فوج پر زور دیا ہے کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں سے باز رہے۔

یاد رہے کہ میانمار میں یکم فروری کو فوج نے اقتدار پر قبضہ کرکے منتخب حکومت کو گھر بھیج دیا اور کئی رہنماؤں کو گرفتار کررکھا ہے جس کے خلاف ملک بھر میں شدید احتجاج اور سول نافرمانی کی تحریک جاری ہے۔

فوجی بغاوت کے خلاف سڑکوں پرموجود عوام فوری طور پر فوجی حکمرانی کا خاتمہ اور آنگ سان سوچی سمیت گرفتار رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔