اب کٹھ پتلوں کو پاکستان کی سیاست سے بھی فارغ کریں گے، بلاول بھٹو

اب کٹھ پتلوں کو پاکستان کی سیاست سے بھی فارغ کریں گے، بلاول بھٹو
کیپشن:    اب کٹھ پتلوں کو پاکستان کی سیاست سے بھی فارغ کریں گے، بلاول بھٹو سورس:   فوٹو/اسکرین گریب نیو نیوز

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی باتوں سے لگتا ہے کہ یہ گھبرا گئے ہیں اور عمران خان نے اگر اپنے ارکان پر الزام لگا دیا ہے تو پھر ان کو نکالیں اور ان پر ایف آئی آر درج کروائیں۔ ہم سب نے مل کر عمران خان کو ہرایا ہے اور ان کٹھ پتلوں کو پاکستان کی سیاست سے بھی فارغ کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کا وقت آ گیا ہے اور تحریک عدم اعتماد کب لانی ہے فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی۔ عمران خان ایوان سے اپنی اکثریت کھو چکے ہیں اور پاکستان کی صورتحال ایک الیکشن سے تبدیل نہیں ہو گی جبکہ عمران خان ڈرامہ بازی کر کے ایشو کو دبانا چاہتے ہیں۔ 

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر ہارے ہوئے شخص کی تھی اور لگ رہا تھا کہ وزیراعظم اب بھی کنٹینر پر چڑھے ہوئے ہیں اور عمران خان کہتے ہیں ان کے لوگوں کو خریدا گیا اور جن کو بکاؤ مال کہہ رہے ہیں ان سے کس منہ سے اعتماد کا ووٹ مانگیں گے۔

انہوں نے مزید کہا عمران خان کو پتا ہے ان کے ممبران نے ضمیر کے مطابق ووٹ دیا اور اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لائے گی تو یہ ممبران ہمارے ساتھ ہوں گے۔

مریم نواز نے وزیراعظم کی الیکشن کمیشن پر لگائے جانے والے الزامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود ہی الیکشن کمشنر کو تعینات کیا اور یہ وہ ہی الیکشن کمیشن ہے جس نے فارن فنڈنگ کیس پر پردہ ڈالے رکھا۔ 

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور اپوزیشن نے کوئی معرکہ نہیں مارا ہماری سیٹیں زیادہ ہیں اور اگر اعتماد کا ووٹ نہ ملا تو اپوزیشن میں بیٹھ جاؤں گا لیکن اپوزیشن کے ہاتھوں سے بلیک میل نہیں ہوں گا۔ 

وزیراعظم نے الیکشن کمیشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا  الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور کیا وجہ تھی کہ الیکشن کمیشن 1500 بیلیٹ پیپرز بھی نہیں بنا سکا اور الیکشن کمیشن نے لیک ہونے والی ویڈیوز کی تحقیقات کیوں نہیں کیں تاہم الیکشن کمیشن نے ووٹ بیچنے والوں کو بچا لیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں آپ نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کیوں کی، کیا آئین چوری کی اجازت دیتا ہے سچر پھر آپ نے قابل شناخت بیلٹ پیپزر کی مخالفت کی اگر ایسا ہو جاتا تو آج جو ہمارے 15، 16 لوگ بکے ہیں ہم ان کا پتا لگا لیتے۔ یہ پیسے دے کر اوپر آنا کیا جمہوریت ہے۔ 

عمران خان نے کہا کہ آپ کو اندازہ نہیں کہ اس الیکشن میں کتنا پیسا چلا ہے کیونکہ میں نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ ریٹ لگ گئے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں پتہ یہ تحقیقات کرنے کی ذمہ داری آپ کی تھی اور جو کروڑوں روپے خرچ کر کے سینیٹر بنے گا وہ ریکور کیسے کرے گا؟۔ جو کروڑوں روپے خرچ کر کے سینیٹر بنے گا وہ کیا حاتم طائی ہے۔ اپوزیشن نے کوئی معرکہ نہیں مارا ہماری سیٹیں زیادہ ہیں لیکن میں ان کے ہاتھوں سے بلیک میل نہیں ہوں گا۔

خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ہفتے کو وہ اعتماد کے ووٹ کیلئے خود کو قومی اسمبلی میں پیش کر رہے ہیں اور انہوں نے ارکان قومی اسمبلی سے کہا کہ وہ ضمیر کے مطابق ووٹ دیں۔ اگر انہیں لگتا ہے کہ مجھے وزیراعظم نہیں رہنا چاہیے تو میرے خلاف ووٹ دیں۔ عمران خان نے کہا کہ اعتماد کے ووٹ میں اگر ان کے مخالفین جیت جاتے ہیں تو وہ اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے۔