اعتماد کا ووٹ، قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتے کو سوا 12 بجے ہو گا

اعتماد کا ووٹ، قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتے کو سوا 12 بجے ہو گا
کیپشن:    اعتماد کا ووٹ، قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتے کو سوا 12 بجے ہو گا سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس 6 مارچ کو دن سوا 12 بجے طلب کر لیا۔

قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے اور وزیراعظم آئین کے آرٹیکل 91 سیون کے تحت اعتماد کا ووٹ لیں گے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے قومی اسمبلی کے اجلاس کی طلبی کا ٹویٹ شیئر کیا ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور اپوزیشن نے کوئی معرکہ نہیں مارا ہماری سیٹیں زیادہ ہیں اور اگر اعتماد کا ووٹ نہ ملا تو اپوزیشن میں بیٹھ جاؤں گا لیکن اپوزیشن کے ہاتھوں سے بلیک میل نہیں ہوں گا۔ 

وزیراعظم نے الیکشن کمیشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا  الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا اور کیا وجہ تھی کہ الیکشن کمیشن 1500 بیلیٹ پیپرز بھی نہیں بنا سکا اور الیکشن کمیشن نے لیک ہونے والی ویڈیوز کی تحقیقات کیوں نہیں کیں تاہم الیکشن کمیشن نے ووٹ بیچنے والوں کو بچا لیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں آپ نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کیوں کی، کیا آئین چوری کی اجازت دیتا ہے سچر پھر آپ نے قابل شناخت بیلٹ پیپزر کی مخالفت کی اگر ایسا ہو جاتا تو آج جو ہمارے 15، 16 لوگ بکے ہیں ہم ان کا پتا لگا لیتے۔ یہ پیسے دے کر اوپر آنا کیا جمہوریت ہے۔ 

عمران خان نے کہا کہ آپ کو اندازہ نہیں کہ اس الیکشن میں کتنا پیسا چلا ہے کیونکہ میں نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ ریٹ لگ گئے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں پتہ یہ تحقیقات کرنے کی ذمہ داری آپ کی تھی اور جو کروڑوں روپے خرچ کر کے سینیٹر بنے گا وہ ریکور کیسے کرے گا؟۔ جو کروڑوں روپے خرچ کر کے سینیٹر بنے گا وہ کیا حاتم طائی ہے۔ اپوزیشن نے کوئی معرکہ نہیں مارا ہماری سیٹیں زیادہ ہیں لیکن میں ان کے ہاتھوں سے بلیک میل نہیں ہوں گا۔

خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ہفتے کو وہ اعتماد کے ووٹ کیلئے خود کو قومی اسمبلی میں پیش کر رہے ہیں اور انہوں نے ارکان قومی اسمبلی سے کہا کہ وہ ضمیر کے مطابق ووٹ دیں۔ اگر انہیں لگتا ہے کہ مجھے وزیراعظم نہیں رہنا چاہیے تو میرے خلاف ووٹ دیں۔ عمران خان نے کہا کہ اعتماد کے ووٹ میں اگر ان کے مخالفین جیت جاتے ہیں تو وہ اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے۔