لاہور:سوشل میڈیا کی پہنچ ہر خاص و عام تک ہوتے ہی لوگوں نے اپنی ذاتیات بھی سوشل میڈیا پر شئیر کرنا شروع کردیں اور بہت سا ڈیٹا جو وہ کسی اور جگہ محفوظ نہیں رکھ سکتے تھے سوشل میڈیا پر محفوظ کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے بہت سے سائبر کرائمز ہونا شروع ہوئے جس کی بنیادی وجہ کمزور پاس ورڈز بھی ہیں۔ان پاس ورڈز کو ہیکرز بآسانی ہیک کر سکتے ہیں ۔مئی کے مہینے کی پہلی جمعرات کو 'ورلڈ پاس ورڈ ڈے' منایا جاتا ہے، جس کا مقصد آن لائن اکاﺅنٹس کے بہتر تحفظ کے حوالے سے آگہی بیدار کرنا ہے۔

اور اس کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ اپنے آن لائن اکاﺅنٹس کے لیے ایسے مضبوط پاس ورڈز رکھے جائیں جو اُن لوگوں کو شرمندہ کردیں جن کے لیے اکاﺅنٹس کو ہیک کرنا سیکنڈوں کا کام ہے۔

اسپلیش ڈیٹا نامی کمپنی ہر سال بدترین پاس ورڈز کی فہرست جاری کرتی ہے جن کو ہیک کرنا ہیکرز کے لیے کوئی مسئلہ نہیں، رواں برس کے شروع میں بھی اس نے 2016 میں لیک ہونے والے ایک کروڑ کے لگ بھگ پاس ورڈز کے ڈیٹا کی بنیاد پر25 بدترین پاس ورڈز کی فہرست مرتب کی تھی۔

ان میں سب سے بدترین پاس ورڈ 123456 رہا جو کہ 2011 سے اس فہرست میں نمبرون آرہا ہے۔

تاہم 2016 میں طویل عرصے بعد دوسرے نمبر پر رہنے والے لفظ 'password' کی جگہ '123456789' نے لے لی جبکہ تیسری پوزیشن کا اعزاز 'qwerty' کے نام رہا، چوتھے نمبر پر '12345678' اور پانچویں پر '111111' موجود ہے۔

ان بدترین پاس ورڈز کی فہرست تو آپ نیچے دیکھ ہی لیں گے مگر یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اس طرح کے انتخاب سے کسی بھی ہیکر کے لیے پاس ورڈ کا اندازہ لگانے کا کام بہت زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔

ہیکرز عام طور پر بیشتر عام پاس ورڈز کو اکاﺅنٹس کی سیکیورٹی توڑنے والے سافٹ ویئر میں ڈال کر اسے چلاتے ہیں اور اس طرح کی فہرستوں میں شامل تمام الفاظ کو سب سے پہلے آزما کر دیکھتے ہیں۔

تو اگر آپ کا پاس ورڈ بھی اس فہرست میں ہے تو اسے فوری طور پر تبدیل کرلیں۔

اسپلیش ڈیٹا کے ایک بیان کے مطابق کمزور پاس ورڈز کے استعمال کے خطرات کی زیادہ سے زیادہ پبلسٹی سے لوگوں کے اندر اپنے پاس ورڈز کو مضبوط بنانے کی حوصلہ افزائی ہوگی، مزید اہم بات یہ ہے کہ ہر ویب سائٹ کے لیے مختلف پاس ورڈ ہونا چاہیئے۔

خیال رہے کہ سائبر سکیورٹی ماہرین کا مشورہ ہے کہ پاس ورڈ ایسا ہونا چاہیئے کہ وہ آپ کو بھی بمشکل یاد ہو اور اسی صورت میں وہ زیادہ محفوظ بھی ثابت ہوتا ہے۔

اگر آپ اپنے پاس ورڈ کو محفوظ سمجھتے ہیں تو اس کی تصدیق ایک ویب سائٹ سے بخوبی ممکن ہے جو بتاتی ہے کہ کسی پاس ورڈ کو توڑنے کے لیے ہیکر کو کتنا وقت درکار ہوگا۔