میرے بیٹے کے باپ کا نام بتایا جائے،جرمن خاتون ہوٹل انتظامیہ کیخلاف عدالت پہنچ گئی

میونخ: ایک جرمن خاتون کو اس وقت پریشانی  کا سامنا کرنا پڑا جب جرمنی کی ایک ہوٹل انتظامیہ نے خاتون کو اس کے بچےکے مبینہ والد کا مکمل نام بتانے سے صاف انکار کردیا۔ لیکن خاتون بھی بچے کے بہتر مستقبل کیلئے عدالت پہنچ گئی۔لیکن عدالت سے بھی جرمن خاتون کو مایوس لوٹنا پڑا۔ میونخ کی اس عدالت نے البتہ اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ مشرقی جرمنی میں واقع یہ ہوٹل اُس مرد کی شناخت ظاہر کرنے کا ذمہ دار نہیں ہے، جس کا اس خاتون کے ساتھ جذباتی تعلق تین راتوں تک قائم رہا اور جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر یہ خاتون حاملہ ہو گئی۔

یہ قصہ ہے جون سن 2010ء کا ہے، جب اس خاتون نے مشرقی جرمن شہر ہالے میں اپنے اس ساتھی کے ساتھ ہوٹل کے ایک کمرے میں قیام کیا تھا۔ اب اس خاتون نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ہوٹل کو اس شخص کا پورا نام بتانے پر مجبور کرے۔ اس خاتون کو اُس مرد کا صرف پہلا نام مائیکل ہی یاد رہ گیا تھا۔ ہوٹل کے اس کمرے کا بِل بھی اُسی مرد نے ادا کیا تھا تاہم ہوٹل نے اس شخص کا پورا نام بتانے یا اُس کا ایڈریس فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اس خاتون کےمطابق  وہی شخص اس بچے کا باپ ہے، جس کے ساتھ اس نے اس ہوٹل میں تین راتیں گزاری تھیں۔ اس خاتون نے جنوبی جرمن شہر میونخ کی ایک عدالت سے رجوع کرتے ہوئے ہوٹل کو اس بات کا پابند کرنا چاہا تھا کہ وہ اس مرد کا نام بتائے۔

عدالت کی جانب سے اس خاتون کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ یہ خاتون اُس مرد کا نام جاننے کے بعد اُس سے بچے کے لیے نان و نفقہ حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس خاتون نے مارچ 2011ء میں پیدا ہونے والے اپنے بیٹے کا نام جوئل رکھا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ جرمنی کے وفاقی ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کے تحت ہوٹل نے متعلقہ مرد کا نام اور پتہ نہ بتا کر بالکل درست طرزِ عمل اختیار کیا تھا۔
عدالت نے مزید کہا کہ چونکہ یہ خاتون متعلقہ مرد کے بارے میں زیادہ قطعی نوعیت کی تفصیلات نہیں بتا سکی، اس لیے ہوٹل کے لیے کسی ایک مرد کو شناخت کرنا ایک ناممکن کام تھا۔


ایک عدالتی بیان کے مطابق ججوں نے یہ بھی کہا کہ متعقہ مرد اپنے ذاتی کوائف کو اپنے تک ہی رکھنے اور اپنے کنبے اور اپنی شادی کی حفاظت کرنے کا حق رکھتا ہے۔ مزید کہ اُس کے یہ حقوق اس خاتون کے نان و نفقے کی ادائیگی کے حق پر فوقیت رکھتے ہیں۔عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ مائیکل نام کے چاروں مردوں کو اپنے جنسی تعلقات کو خفیہ رکھنے کا بھی حق حاصل ہے۔

مصنف کے بارے میں