لاہور: گزشتہ روز سینیٹر پرویز رشید نے کہا تھا کہ ڈان لیکس کی رپورٹ منظر عام پر آنے تک اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا البتہ میں نے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داری پوری کی ہے جس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہےاگر  کسی کو اعتراض ہے تو یونیورسٹیوں میں خبر روکنے کی تعلیم دی جائے۔

انہوں نے صحافی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ڈان لیکس رپورٹ منظر عام پر آنے تک اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا البتہ اتنا بتاتا چلوں کہ میں نے صحافی کو خبر پر اصل صورتحال سے آگاہ کیا اور اپنا نقطہ نظر دیا اور ہر جمہوری معاشرے میں ایسا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا وزیر اطلاعات چاہیئے جس کا کام خبر رکوانا ہو تو اس کی باقاعدہ تعلیم دی جائے اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا جائے کہ خبر کو کیسے روکا جائے۔

واضح رہے ڈان لیکس کے معاملے میں وزیراعظم نواز شریف کے سابق معاون خصوصی طارق فاطمی اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔ اپنے الوداعی خط میں انہوں نے کہا تھا یہ الزامات ایک ایسے شخص کے لیے تکلیف کا باعث ہیں جو پانچ دہائیوں سے پاکستان کی خدمت کررہا ہو۔ اس عرصے میں مجھے قومی سلامتی کے معاملات سے جڑے کئی حساس معاملات کو دیکھنا پڑا جن میں کچھ بہت اہم معلومات سے آگاہی بھی شامل تھی۔

ان کے علاوہ وزارت اطلاعات و نشریات کے پرنسپل انفارمیشن افسر راؤ تحسین کے خلاف 1973 کے آئین کے ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن (ای اینڈ ڈی) رولز کے تحت کارروائی کا حکم جاری کیا تھا جس کے بعد ان سے بھی یہ عہدہ واپس لیا جا چکا ہے۔

مزید تفصیل پڑھیں: ڈان لیکس میں مریم نواز کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اعتزاز احسن

اس حکومتی فیصلے کے خلاف پاکستانی فوج کی جانب سے سخت ردعمل آیا تھا اور پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ 'ڈان لیکس کے حوالے سے جاری کیا گیا اعلان انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں ہے اس لئے یہ نوٹیفیکیشن مسترد کیا جاتا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں