پشاور:بجلی چوروں کی فہرست میں ڈسٹرکٹ ناظم چارسدہ کا تیسرانمبرہے ۔ تبدیلی کاراگ الاپنے والےفہدریاض کے خلاف کارروائی کریں۔ عابد شیر علی کاکہنا ہے  کہ بجلی چوروں کوبجلی نہیں ملے گی۔ملک سے اندھیروں کاخاتمہ کرکے دم لیں گے.  وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں بجلی کا مسئلہ اس وقت آتا ہے جب بڑے لوگ بجلی چوری کرتے ہیں ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ضلع ناظم چارسدہ فہد ریاض بجلی چوری میں ملوث ہیں ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی انکشاف کر دیا کہ فہد ریاض کے گھر میں بجلی کا کوئی میٹر ہی نہیں ہے اور اس سلسلے میں ڈی سی او کو خط لکھ دیا کہ فہد ریاض کیخلاف کارروائی کی جائے ۔

تفصیلات کے مطابق  وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ اس وقت آتا ہے جب بڑے لوگ چوری کرتے ہیں ۔ ضلع ناظم سمیت 18 افراد بجلی چوری کر رہے ہیں ۔ خیبرپختونخواکے عوام قانونی طریقے سے بجلی لیں تو تعاون کریں گے۔ وزیر اعظم کے وژن کے مطابق ملک کو لوڈ شیڈنگ فری بنانا ہے۔2013 کے بعد پیسکو کے حالات تبدیل ہوئے ہیں، اس وقت بھی پیسکو کے 415 فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی ۔ پیسکو کی ڈیمانڈ اب 2700 میگا واٹ تک پہنچ گئی ہے۔ پییسکو نے ٹرانسمیشن کے نظام پرایک روپیا تک خرچ نہیں کیا گیا۔ ٹرانسمیشن لائن کا نظام بہتر بنایا جا رہا ہے ۔ جبکہ پیسکو کے 224 فیڈرز پر 80 فیصد لائن لاسسز کی وجہ سے 18 سے 20 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہے ۔مارچ 2018 تک 8 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں آجائے گی۔ 2018 میں بجلی وافر ہوگی تو ریکوری والے علاقوں کو بلا تعطل بجلی دی جائے گی ۔بجلی ان علاقوں کو دی جائے گی جہاں لائن لاسز بہت کم ہیں .

عابد شیر علی کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ کے415فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ زیرو ہے ۔ خیبر پختونخواہ میں 200 کے وی کے چار گرڈ سٹیشن بنائے جا رہے ہیں ۔سابقہ ادوار میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18گھنٹے تھا ۔ پیپلزپارٹی کی حکومت میں ملک کواربوں ڈالرکانقصان ہوا، یہ لوگ عوام کےسامنے کس منہ سے ووٹ مانگنے جائیں گے، حالیہ بجلی صورتحال پچھلی حکومتوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے۔ موجودہ حکومت جلد ہی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر لے گی۔ مگر ہم کسی بھی بجلی چور کو بجلی نہیں دیں گے۔