تجاوزات :مسئلے کا مناسب حل تلاش کیا جائے

نذیر بخش پیشے کے لحاظ سے پھل فروش ہے،اقبال ٹائون لاہور میں اپنی ریڑھی لگا کر پھل فروخت کرتا ہے اور یہ ریڑھی اور اُس پر سجے پھل ہی نذیر بخش کے اہل خانہ کی گزر بسر کا ذریعہ ہیں، نذیر بخش سات بچوں کا باپ ہے جن میں سے دو بچیوں کی شادی کر چکا ہے۔وہ اس دور خرابی میں اپنے بچوں کو تعلیم دینے میں ناکام رہا ہے، جس کا اُسے ملال بھی ہے،نذیر بخش کے چہرے پر گزرے دنوں کی سختیوں کے آثار ہیں،ماتھے کی شکنیں اس فکر کی گواہ ہیں جو اسے ہر روزکمانے کی جدوجہدمیں مبتلا رکھتی ہے۔ہر روز صبح سویرے منڈی سے آڑھتی سے اُدھار پھل لینا اور پھر واپس آکر اس پھل کو فروخت کر کے اگلے دن آڑھتی کو کل کا اُدھار اُتار کر پھر سے اُدھار مین پھل لینا گویا روزانہ یہی طریقہ اپنا یا جاتا ہے۔ اس پھل سے ہونے والی آمدنی سے گھر چلایا جاتا ہے۔

نذیر بخش جس سڑک پر اپنا ٹھیلا لگا تا ہے، گورنمنٹ کی نظر میں یہ علاقہ تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے۔اس طرح تین دن پہلے رات گیارہ بجے ایل ڈی اے کی ٹیم نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا،کچھ ریڑھی بانوں نے گاڑی دیکھ کر دوڑ لگا دی زیادہ پکڑے گئے ان کے پھل زمین پر گرا دیئے گئے رنگے برنگے فروٹ زمین پر بکھرے پڑے تھے۔

نذیر بخش کی بیوی آج کل بیماری کے خلاف لڑ رہی تھی۔ اس کے علاج پر اُٹھنے والے اخراجات اسی ٹھیلے سے پورے کرتا تھا اور اب اس کا سارا پھل زمین پر بکھرا پڑا تھا۔نذیر بخش دہائیاں دے رہا تھا کبھی جھولی پھیلا کر ایل ڈی کی ٹیم کو بددعائیں دیتا جو اس کے ٹھیلے کو بے رحمی سے اپنی گاڑی میں پھینک چکے تھے اس کی منت سماجت کسی کام نہ آئی۔تمام سڑک پانچ منٹ میں تجاوزات سے خالی ہو چکی تھی۔ ایل ڈی والے نے بڑی دکانوں کے آگے لگی تجاوزات کی طرف جانے کی ز حمت ہی نہ کی۔

کھانے پینے کی دکان سے ایک بڑے سے لفافے میں کھانا دیا گیا. ایک دودھ کی دکان سے نقلی دودھ بھی نذرانہ کیا گیا. یوں ان کی تجاوزات کو جائز ہونے کا لائسنس سڑک پر جای کر دیا گیا۔ اب غریب ریڑھی بانوں نے اپنی ٹھیلوں کے جائز ہونے کا لائسنس حاصل کرنا تھا۔جن کے پاس دن کی کمائی تھی وہ اُس کی وقت ایل ڈی والوں کے پیچھے گئے اور جرمانہ ادا کر کے اپنی ریڑھی حاصل کی اوراگلے روز پھر اسی جگہ اپنی ریڑھی لگا لی۔نذیر بخش سے میری ملاقات اگلے دن ہوئی اس  وقت وہ منڈی سے پھل لے کر آچکا تھا اب اس کی صفائی اور کم درجے اور بہترین پھل کو علیحدہ کرنے میں مصروف تھا۔ٹھیک اُسی وقت ایل ڈی کا ایک چھوٹا ملازم بھی ریڑھی بانوں سے رات کو ہونے والی ورادت میں اپنی کوششوں کا ذکر کرنے میں مصروف تھا جو اُسی نے ان لوگوں کے لئے کی تھی جس کی بنا پر یہ لوگ اپنی ریڑھیوں کے واپس لانے میں کامیاب ہوئے۔اس لیے اُس کا بھی حق تھا یہ حق اُس نے سو روپے فی ریڑھی کے طور پر وصول کیا۔تمام ٹھیلے اور ریڑھیاں ٹھیک اس جگہ لگی ہوئیں تھیں جو کل رات تک ناجائز تھیں۔

نذیر بخش بتا رہا تھا وہ بیس سال اس جگہ پر ریڑھی لگا تا ہے اور ہر سال میں دس دفعہ اس کی ریڑھی دو چار گھنٹوں کے لیے ناجائز ہوتی ہے پھر اسکے بعد جائز ہونے کا پروانہ ایک ہزار جرمانے وصول کرنے کے بعد جاری کر دیا جاتا ہے۔

تجاوزات پورے پاکستان کی ہر گلی محلے میں موجود ہیں خود حکومت بھی اس محفوظ نہیں ہے۔ پاکستان ریلوے کی زمین کا بڑا حصہ ناجائز تجاوزات کی نذر ہو چکا ہے۔ حکومت کے ہی ادارے ایک دوسرے کی زمین پر قابض ہیں۔اس طرح مارکیٹوں میں تجاوزات کی بھر مار ہے۔سڑکوں پر لگی یہ ریڑھیاں ٹریفک کو برے طریقے سے روک دیتی ہیں بلکہ ٹریفک حادثات کا باعت بھی بنتی ہیں۔ یہ ٹھیلے اور ریڑھیاں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔جب بھی ان لوگوں سے ناجائز تجاوزات کے متلعق بات کی جائے تو ان کا پہلا جواب ہوتا کہ ہم کہاں جائیں ۔توجہ طلب بات یہ ہے کہ حکومت اور اس کے ادارے نظام کو ٹھیک کرنے کی بجائے ایک ہی ڈگر پر چلانا چاہتے ہیں ۔
تجاوزات ان کی کمائی کا ذریعہ ہے اس لیے ناجائز تجاوزات ختم ہونے سے ان کی کمائی ختم ہو جائے گی۔

آخر کیا وجہ ہے کچھ دنوں بعد علاقہ مجسٹریٹ تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیتا ہے اور ہر کارے گاڑیوں میں ٹھیلے بھر لے آتے ہیں۔ یہ چوہے بلی کا کھیل ہے جو عرصہ دراز سے جاری ہے۔ اس سے متاثر ہونے والے اس بات سے بخوبی اگاہ ہیں کہ کچھ سو روپے دے کر دوبارہ سے اپنے کاروبار کا آغاز ٹھیک اُسی جگہ سے شروع کریں جہاں سے ان کا ٹھیلا اُٹھایا گیا تھا۔

حکومت اور عوامی رویہ دونوں ہی اس کے ذمے دار ہیں۔جس طرح ہر ٹاون میں ایک پارک رکھا جاتا اس طرح ریڑھی بازار بھی قائم کر دینا چاہیے اس بازار سے باہر کسی کو آنے کی اجازت نہیں ہونا چاہیے۔ اس سے پہلے حکومت پنجاب اخوت فاونڈیشن کے تعاون سے کھانے پینے کے سٹالوں کی جگہ مقرر کروا چکی ہے،یہ تجربہ کامیاب بھی رہا ہے۔ اب ریڑھی بانوں کے لیے جگہ مختص کرنے کے کام کو مرحلہ وار شروع کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات نہایت اہم ہے عوامی رویہ درست کرنے سے پہلے روزگار کا انتظام ہونا نہایت ضروری ہے۔نذیر بخش جیسے لاکھوں پاکستانی اس پیشے سے وابستہ ہیں اور روزانہ کے اخراجات انہی ٹھیلوں سے پورے کرتے ہیں اس لیے یہ لوگ ایل ڈی اے کے اس اقدام کا زیادہ برا نہیں مناتے۔ بس وہ اپنا دن ضائع کرنا نہیں چاہتے اور جرمانہ بھر کر واپس آکر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ایل ڈی والوں کا کہنا ہے کہ ہم ان کے لیے جگہ مختص کرتے ہیں مگر یہ لوگ وہاں جانا نہیں چاہتے کیونکہ جن جگہوں پر یہ ریڑھی بان جہاں کھڑے ہوتے ہیں وہاں نہ تو ان کو کرایہ دینا پڑتا ہے اور نہ ہی اور کسی قسم کے اخراجات ادا کرنے پڑتے ہیں،اس لیے یہ ان اخراجات سے بچنے کے لیے عوامی جگہوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں،لیکن اگر حکومت کے متعلقہ ادارے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو اس مسئلے کا نہایت مناسب حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

عبدالروف

عبدالرئوف بلاگر اور کالم نگار ہیں