روایتی حلیف شمالی کوریا نے چین کی کھلم کھلا تنقید شروع کر دی

روایتی حلیف شمالی کوریا نے چین کی کھلم کھلا تنقید شروع کر دی

 سیئول: شمالی کوریا نے پہلی بار چین کی براہ راست تنقید کی ہے۔ ایک کمنٹری میں کہا گیا ہے کہ جوہری پروگرام پر چین کے "غیر محتاط ریمارکس" شمالی کوریا کے صبر کو جانچ رہے ہیں اور اس عمل سے دونوں ملکوں کے درمیان معاملات بہت دور تک جا سکتے ہیں۔

چین جو شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اہم ترین محسن ہے نے اقوام متحدہ کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کے بعد شمالی کوریا سے کوئلے کی درآمدات اس سال کے اوائل سے معطل کر دی تھیں اور حال ہی امریکی دباو کے پیش نظر میزائل سرگرمیوں کو روکنے کے لئے اپنے روایتی حلیف پر زور دیا ہے۔ چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی شمالی کوریا پر باقاعدہ اور سخت تنقید شروع کر دی ہے۔

سرکاری کورین سنٹرل نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری وضاحت کے مطابق، " چین کی طرف سے مضحکہ خیز اور غیر محتاط ریمارکس کے ایک سلسلے نے موجودہ خراب صورتحال کو مزید بدتر کر دینا ہے"۔

جمعرات کو چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ بیجنگ کی پوزیشن " شمالی کوریا کے ساتھ اچھے ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کو ترقی دینے کے لحاظ سے بالکل واضح ہے."