وزیر اعظم ملک کیلئے سیکیورٹی رسک ہیں ، مستعفیٰ ہوجانا چاہیے، لطیف کھوسہ

سکھر: سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے وزیر اعظم نواز شریف کو ملک کے لیئے سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ہائی کورٹ بار سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہندوستان کشمیر یوں اور پاکستانیوں کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن وزیر اعظم میاں نواز شریف مودی اور جندال کے ساتھ روابط بڑھانے اور دوستیاں نبھانے میں مصروف ہیں.

انہوں نے کہا کہ بھارتی بزنس مین سجن جندال جو پاک فوج کو سوشل میڈیا پر انتہائی سخت برا بھلا کہتے ہیں انہیں کروڑوں روپے کی بلٹ پروف گاڑی میں پرٹوکول کے ساتھ اسلام آباد سے مری لے جایا گیا، حالانکہ جندال کے پاس مری کا ویزا نہیں تھا اصولی طور پر جندال کو اسلام آباد سے نکلتے ہی گرفتار کر لیا جانا چاہیئے تھا لیکن دشمن ملک کے بزنس مین کو سخت حفاظتی پرٹوکول میں غیر قانونی طور پر مری لے جایا گیا. ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف بھارت میں پاکستان سے جانے والے طلبہ کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک رکھا گیا اور انہیں واہگہ بارڈر پر بھییج دیا گیا دوسری طرف سجن جندال کو پاکستان میں حکمران وی آئی پی پروٹوکول دے رہے ہیں، سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ یہ کیسا عمل ہے کہ وزیر اعظم کرپشن کے معاملے پر خود ہی جے آئی ٹی بنا کر ان کے سامنے پیش ہونگے اس سے قبل میاں نواز شریف کو مستعفی ہونا چاہیئے.

سپریم کورٹ کی جانب سے جے آئی ٹی تشکیل دینے کے لیئے کیئے جانے والے اقدامات ملک کے اندر خوشحالی لانے میں اہم ثابت ہونگے، ڈان لیکس رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم اب ملک کے لیئے سیکیورٹی رسک بن گئے ہیں، کیونکہ وہ خود اور ان کے وزراء پاک فوج اورایجنسیوں کے خلاف بیان بازیاں کر رہے ہیں اس لیئے انہیں مزید اس عہدے پر رہنے کا حق حاصل نہیں، پیپلز پارٹی ملک کے موجود حالات کے پیش نظر حکمت عملی مرتب کر رہی ہے۔