ایس ایس پی تشدد کیس، عمران خان کو بری کر دیا گیا

ایس ایس پی تشدد کیس، عمران خان کو بری کر دیا گیا
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عمران خان کو بری کر دیا۔۔۔فائل فوٹو/ بشکریہ فیس بُک

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 2014 کے اسلام آباد دھرنے کے دوران قائم کیے گئے ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بری کر دیا۔


میاں صاحب کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ماہر نفسیات سے چیک کرانا چاہیے، عمران خان

بریت کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا مقدمے سے بریت پر خوش ہوں مجھ پر دہشت گردی کا کیس بنایا گیا تھا اور جمیہوری حکومت میں احتجاج کرنے پر مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے جو غیر جمہوری ہے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جب پاور میں آئیگی تو سیاسی لیڈروں کیخلاف قانون کے غلط استعمال کو ختم کریگی ۔ اس وقت سندھ میں کوئی قانون نہیں ہے کیونکہ سندھ میں راؤ انوار ہے اور پنجاب میں عابد باکسر ہے جبکہ سندھ میں لوگوں پر جھوٹے مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔

عمران خان نے کہا یہ ووٹ لے کر آتے ہیں مگر آمر سے بھی بُرا کام کرتے ہیں اور میاں صاحب کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ماہر نفسیات سے چیک کرانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کے استعمال کے کیس میں تحقیقات کیلئے نیب کو دعوت دیتے ہیں اور نیب نے پہلی مرتبہ اقتدار میں جو لوگ ہیں ان کے خلاف ایکشن لیا ہے تاہم اس سے پہلے نیب نے کبھی حکمران جماعت کے لوگوں کو نہیں پکڑا تھا۔ ماضی میں نیب پٹواریوں اور سرکاری افسر کو پکڑتی تھی۔

انہوں نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا پنجاب میں ہر سال ڈیولپمنٹ فنڈ کہاں استعمال ہوتا ہے شہباز شریف اینڈ سنز اکٹھے کام کرتے ہیں ان کی کرپشن لمیٹڈ کمپنی ہے۔ اگر وہ ٹھیک ہیں تو انہیں کس چیز کا ڈر ہے۔ یہ خود معصوم اور مظلوم بن جاتے ہیں اور اپنے لوگوں کو آگے کر دیتے ہیں۔

کپتان نے کہا انھوں نے کبھی خواتین کا احترام نہیں کیا اور یہ جب بھی دباؤ میں آتے ہیں تو اخلاقی طور پر نیچے گر جاتے ہیں۔ شریفوں نے نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی بھی عزت نہیں کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابات نگران حکومت نہیں، خلائی مخلوق کرائے گی: وزیرِاعظم عباسی

گزشتہ سماعت پر عمران خان کے پیش نہ ہونے پر انسداد دہشت گردی عدالت نے بریت کی درخواست پر فیصلہ 4 مئی تک کے لیے موخر کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران خان کے خلاف ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس میں وکلاء کے دلائل سننے کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: نعیم بخاری کی ہسپتال سے تازہ ترین تصویر نے سب کو افسردہ کر دیا

عمران خان سمیت تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں پر 2014 کے دھرنے کے دوران 4 مقدمات قائم کیے گئے تھے جن میں پی ٹی وی کے دفتر، پارلیمنٹ اور ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر حملے سمیت لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ شامل ہے۔ عمران خان، شاہ محمود قریشی اورجہانگیر ترین سمیت دیگر پارٹی رہنما ان کیسز میں ضمانت پر ہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں