کورونا ازخود نوٹس کیس, 90 فیصد مساجد میں ایس او پی پرعمل نہیں ہورہا ، سپریم کورٹ

کورونا ازخود نوٹس کیس, 90 فیصد مساجد میں ایس او پی پرعمل نہیں ہورہا ، سپریم کورٹ
کیپشن: کوویڈ 19 کے اخراجات کا آڈٹ ہوگا تو اصل بات سامنے آئے گی، چیف جسٹس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

 اسلام آباد: سپریم کورٹ میں کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے گئے ہیں کہ کسی چیز میں شفافیت نہیں، لگتا ہے کہ سارے کام کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ میں کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل،صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز، این ڈی ایم اے، وزارت صحت اور دیگرمتعلقہ محکموں کے حکام بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں، ماسک اور دستانوں کے لئے کتنے پیسے چاہیے، اگر تھوک میں خریدا جائے تو 2 روپے کا ماسک ملتا ہے، پتہ نہیں یہ چیزیں کیسے خریدی جارہی ہیں، لگتا ہے کہ سارے کام کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں۔ جتنی سرکاری رپورٹس آئی ہیں ان میں کچھ بھی نہیں، یہ ادارے کر کیا رہے ہیں، کسی چیز میں شفافیت نہیں، کوویڈ 19 کے اخراجات کا آڈٹ ہوگا تو اصل بات سامنے آئے گی۔

حاجی کیمپ قرنطینہ سے متعلق چیف جسٹس کے استفسار پر سیکریٹری صحت نے کہا کہ حاجی کیمپ قرنطینہ کا  دورہ کیا تو وہ غیر فعال تھا، ایک کمرے میں پارٹیشن لگا کر 4  افراد کورکھا گیا، ضلعی انتظامیہ نے گرلز ہاسٹل میں قرنطینہ سینٹر منتقل کیا، گرلز ہاسٹل میں 48 کمرے ہیں۔  چیف جسٹس پاکستان کے استفسار پر ڈی سی اسلام آباد نے بتایا کہ حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز این ڈی ایم اے نے بنایا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر کا حال بھی حاجی کیمپ جیسا ہی ہے، پورے ملک میں حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں، جن کا روزگار گیا ان سے پوچھیں کیسے گزارا کر رہے ہیں، سندھ حکومت کہتی ہے 150 فیکٹریوں کو کام کی اجازت دیں گے، سمجھ نہیں آتی ایک درخواست پر کیا اجازت دی جائے گی، لاکھوں دکانیں ہیں ہر کوئی کام کیلئے الگ الگ درخواست کیسے دے گا؟ ایک دکان کھلوانے والے کو نہ جانے کتنے پیسے دینا پڑتے ہوں گے، اجازت دینے والوں سے پولیس والے تک سب کو ہی کچھ دینا پڑتا ہے، جامع پالیسی بنا کر تمام فیکٹریوں کو کام کی اجازت ملنی چاہیے۔ ایک صوبائی وزیر کہتا ہے کہ وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ کرا دینگے۔ یعنی صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آؤٹ ہے۔ پتہ نہیں دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ہے۔

سیکرٹری صحت نے بتایا کہ ملک میں روزانہ ایک ہزار کورونا کیسز سامنے آ رہے ہیں، کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح 10 فیصد ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ بازاروں میں لوگوں کو ڈنڈوں کے ساتھ ماراجا رہا ہے، حکومت نے مارکیٹس بند کرکے مساجد کھول دیں، کیا مساجد سے کورونا وائرس نہیں پھیلے گا، 90 فیصد مساجد میں ریگولیشنز پرعمل نہیں ہو رہا ، اگر فاصلہ رکھنا ہے تو ہر جگہ رکھنا ہوگا۔

پنجاب حکومت کے اقدامات سے متعلق رپورٹ پر جسٹس قاضی امین نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے کہا کہ پنجاب سے متعلق جو آپ کاغذ پڑھ رہے ہیں حقیقت اس سے مختلف ہے، میں خود پنجاب کا ہوں، مجھے علم ہے وہاں صورتحال کیسی ہے۔پنجاب میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ الارمنگ ہے، صوبے میں کورونا وائرس کی مریضوں کے ساتھ اموات بھی بڑھ رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ صوبائی حکومت کا اختیار اسی حد تک ہے جو آئین دیتا ہے، وفاقی معاملات کے حوالے سے شیڈول 4 کو دیکھ لیں، امپورٹ، ایکسپورٹ، لمیٹڈ کمپنیز ،ہائی ویز اور ٹیکس کے معاملات وفاقی ہیں، صوبائی حکومت وفاق کے معاملات پر اثر انداز نہیں ہو سکتی، وفاقی حکومت کے ریونیو کا راستہ صوبائی حکومتیں کیسے بند کرسکتی ہیں؟