حکومت   کا  معاشی پیکج  سیاسی رشوت ہے ،رانا ثنااللہ

  حکومت   کا  معاشی پیکج  سیاسی رشوت ہے ،رانا ثنااللہ

فیصل آباد:  مسلم لیگ( ن) پنجاب کے صدراورسابق صوبائی وزیرقانون راناثنااللہ خان نے کہا ہے کہ  حکومت کا  معاشی پیکج کوسیاسی رشوت قراردے دیا ہے اورکہاہے کہ درپردہ ٹائیگرفورس کے ذریعے پی ٹی آئی کے کارکنوں،ووٹرزاورسپورٹرزکومالی فائدہ پہنچایاجائے گاطے شدہ منصوبے پراپنے حلقے مضبوط بنانے کی ناکام کوشش کی جائے گی جس کابہت بڑاردعمل آئے گا۔

لاک ڈائون کے نتائج تباہ کن ثابت ہوئے ہیں حکمران اس کے مقاصدحاصل نہیں کرسکے۔صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ لوگوں کے کاروباراورمعیشت کو تباہ کردیاگیا ،اب لوگ خودکاروبارشروع کردیںگے ان کے ساتھ حکومت تصادم کی پوزیشن میں نہیں ،حکمران18ویں ترمیم میں صوبوں کے اختیارات کنٹرول کرنااوران کاحصہ کم کرناچاہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ شیخ رشیدمیڈیامیں ان رہنے کے لئے کبھی گیٹ 4کبھی حکومت کے ٹائوٹ اورکبھی نیب کے موکل بن جاتے ہیں۔ وہ جھوٹے اورگپ شپ لگانے والے نائب قاصدکی طرح ہیں جواپنے درجے کے شخص سے ملاقات کرکے بڑے صاحب سے ون ٹوون ملاقات میں اہم باتوں کادعویٰ کرتاہے۔شیخ رشیدکو کچھ معلوم نہیں نہ وہ کبھی اپوزیشن کے ساتھ گفتگومیں شامل ہوئے ۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعدوزیراعظم کی طرف سے مہنگائی کم کرنے کے اعلان پر انہوں نے کہاکہ ملکی ترقی اورعوام کی خوشحالی کے لئے حکومت کی نہ کوئی پلاننگ ہے نہ بہترکارکرردگی ۔ 

 مہنگائی کم کرنے کے لئے ورکنگ کی ضرورت ہے مگراس کی توجہ نہیں ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ ٹرانسپورٹرز،چیمبرزآف کامرس اوردیگرتجارتی تنظیموں کے ساتھ مشاورت کرکے انہیں قائل کیاجائے۔یہ ایساکام تونہیں کہ بٹن آن آف کرکے بجلی آن آف کرلی جائے۔حکمرانوں میں شعورنہیں وہ صرف پریس کانفرنسز ،اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائی اورگھٹیاگفتگوکرسکتے ہیں۔ 

عمران خان بصیرت سے محروم ہیں ان میں بات کرنے کا شعورنہیں۔لاک ڈائون کافیصلہ ان کی صدارت میں ہوااوراسدعمرنے اس کااعلان کیا۔ الیٹ کلاس کاصرف نام لیاگیاہے اشارہ کسی طرف نہیں۔وہ اپنے طورپرسندھ حکومت کی ضد میں پھنسے ہوئے ہیں اس کے اچھے کام اورمیڈیامیں تعریف کی وجہ سے جیلس ہوکر محاذآرائی شروع کردی گئی ہے۔

کروناوائرس ازخودکیس میں زکواة اوربیت المال میں آڈیٹرجنرل رپورٹ پرانہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی سے فائنل ہونے تک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پرکبھی بے ضابطگی کی نشان دہی نہیں کرتی ۔