اب سی پیک کے ثمرات سمیٹنے کا وقت آ رہا ہے ، عاصم سلیم

اب سی پیک کے ثمرات سمیٹنے کا وقت آ رہا ہے ، عاصم سلیم
کیپشن:   اب سی پیک کے ثمرات سمیٹنے کا وقت آ رہا ہے ، عاصم سلیم سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: پاک چین اقتصادی راہداری کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ سی پیک کے ثمرات سمیٹنے کا وقت آ رہا ہے، بہت سارے پراجیکٹس اسی سال مکمل ہو جائیں گے اور تمام چیزیں مثبت سمت میں جا رہی ہیں۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے یہ خوشخبری نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ رشکئی اکنامک زون بننے سے مزید عالمی سرمایہ کاری آئے گی جبکہ دھابیجی کے سلسلے میں آج سندھ کے وزیراعلیٰ سے ملاقات ہوئی۔ ہم ایگری کلچر میں کارپوریٹ فارمنگ کی طرف جا رہے ہیں اور چائنیز ایگری کلچر کے حوالے سے ہمیں سپورٹ کریں گے۔

خیال رہے کہ آج ایک اہم تقریب سے بھی خطاب میں عاصم سلیم باجوہ نے کہا تھا کہ سکھر حیدر آباد موٹروے منصوبے پر جلد کام شروع ہو رہا ہے۔ پشاور سے کراچی تک موٹروے کی تعمیر مکمل ہو جائے گی۔ بلوچستان میں شاہراہوں کا جال بچھا رہے ہیں۔ سی پیک کا مغربی روٹ مکمل ہونے سے علاقائی روابط بڑھیں گے اور ترقی کا عمل تیز ہو گا۔

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے آزمودہ تعلقات ہیں اور چین کے تعاون سے ترقی کے بڑے منصوبے جاری ہیں۔ شاہراہوں کی تعمیر اور باہمی تجارت بڑھانے کیلئے پرعزم ہیں جبکہ سی پیک منصوبے ہر صورت میں مکمل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ رشکئی اور فیصل آباد میں اکنامک زونز پر کام جاری ہے۔ گوادر میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جبکہ کراچی میں ٹریفک رش کی وجہ سے سرمایہ کار گوادر کو ترجیح دے رہے ہیں۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی کا کہنا تھا کہ سی پیک ہمارا قومی پروجیکٹ ہے، اس کے علاوہ چین بعض نئے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ کینیڈین، جرمن اور چینی سرمایہ کار پاکستان آ رہے ہیں۔ یہ تینوں ممالک طبی آلات کی صنعت میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔

عاصم سلیم باجوہ نے کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے سیکھنے اور مشورے لینا آیا ہوں۔ سی پیک ہمارا قومی پروجیکٹ ہے، اس منصوبے کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک 40 سال دہشت گردی میں گھرا رہا جس سے انفراسٹرکچر متاثر ہوا اور جانی نقصان بھی ہوا۔ دنیا میں کسی قسم کی بھی جنگ کے بعد تعمیر نو ہوتی ہے اور 40 سال جنگ لڑنے کے بعد اپنے بل بوتے پر آگے بڑھنے کیلئے پرعزم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2 سال قبل گوادر فری زون فیز 60 ایکٹر پر شروع کیا تھا، 12 میں سے 6 فیکٹریوں کی تعمیرات مکمل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے سی پیک کے تحت بڑھتی معاشی سرگرمیوں سے متعلق بتایا کہ وہاں ایک فیکٹری نے پروڈکشن شروع کر دی ہے۔ فیز 2 کا آغاز ہونے والا ہے جو 22 سو ایکٹر پر محیط ہے اور بیرون ملک سے سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سی پیک کے بہت سے منصوبے مکمل ہوتے نظر آ رہے ہیں، سی پیک منصوبہ کے تحت ملتان سکھرموٹروے مکمل ہو گیا ہے۔