ساڑھے 81 ہزار میں سے صرف 10 ہزار ادویات رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف

لاہور: میڈیا رپورٹس ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی جان بچانے والی ادویات سمیت دیگر دوائیوں کی رجسٹریشن کرنے میں ناکام ہو گئی۔ 81500 ادویات میں سے صرف 10 ہزار رجسٹرڈ نکلیں۔ ایف آئی اے نے ڈریپ سے تمام ادویات کا ریکارڈ مانگ لیا۔

ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل ادویات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے ایک کیس کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں انکشاف ہوا کہ بعض ادویات جن کی قیمت پاکستان میں لاکھوں روپے ہے وہی دوائی انڈیا میں چند ہزار روپے میں دستیاب ہے۔

ڈریپ کے برانچ شعبہ پرائسنگ اینڈ رجسٹریشن کی مبینہ ملی بھگت سے ادویات کی قیمتوں کے فارمولے پر عمل نہیں کیا جا رہا اور جس کمپنی کا جو دل چاہتا ہے وہ اپنی مرضی سے قیمت رکھ لیتی ہے۔

ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر چودھری اعجاز نے ڈائریکٹر پرائس اینڈ رجسٹریشن امان اللہ کو طلب کر کے جب ریکارڈ مانگا تو معلوم ہوا کہ ڈریپ کے پاس مکمل ادویات کا ریکارڈ ہی نہیں۔ 81500 ادویات میں سے صرف 10 ہزار ادویات کی رجسٹریشن موجود ہے جبکہ باقی کی ڈریپ کے پاس رجسٹریشن موجود نہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں