فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے قبائل کو عزت نہیں رسوائی ملے گی، مولانا فضل الرحمان

ڈیرہ اسماعیل خان: جے یو آئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے قبائل کوعزت نہیں رسوائی ملے گی، قبائل کے بوڑھے جوان بچے اورخواتین پہلے ہی در بدر ہیں، پہلے امن دیں ان کو مکمل طور پر بحال کریں اورقبائلیوں کی مشاورت سے ہی ان کے مستقبل کا فیصلہ کریں, ہم قبائل کا سودا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے ۔ 

ٹاؤن ہال ٹانک میں جے یو آئی جنوبی وزیرستان حلقہ محسود کے زیر اہتمام عظیم الشان پیغام امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےجے یو آئی کے رہنما سعید انور محسود، مولانا عبد اللہ حقانی، مولانا عین اللہ محسود، شیخ الحدیث محد دراز، سیف الرحمان سیفی بھی موجود تھے ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی نے ملک میں امن کیلئے قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور اس کیلئے جید علماء کی قربانیاں دیں ٗہم کسی کے مزارع نہیں ہم سے جو بھی بات کرے برابری کی سطح پر کرے قربانیاں بھی ہم دیں اور مدارس پرالزام لگایا جائے کہ یہ دہشتگردی کے اڈے ہیں یہ زیادتی ناقابل برداشت ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرنگی ایف سی آر نافذ کرنے کیلئے قبائلیوں سے رائے لے سکتا ہے تو پاکستان کے حکمران ان کے مستقبل کے فیصلے سے حقیقی قبائلی جرگہ سے رائے کیوں نہیں لے سکتےٗ, سنجیدہ رائے ہم ماننے کیلئے تیار ہیں لیکن خدا کیلئے قبائلیوں پر ظلم نہ کریں, پہلے ان پر بمباریاں کر کے انہیں بے گھر  کیا  گیا,  ان کی ماؤں بہنوں نوجوانوں کو گھر سے بے گھر کیا, انکی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا اور اب ان پر انضمام کا فیصلہ ٹھونسا جا رہا ہے, یہ وہی قبائلی ہیں جن کی سر زمین کو استعمال کر کے افغانستان میں روس اور پھر امریکہ کو شکست دی گئی۔ اب یہ اتنے برے ہیں کہ ان سے مشاورت بھی نہیں کی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور امریکی ایجنٹ امریکی ایجنڈے پر کام نہیں کریں یہ ملک کیلئے سود مند نہیں ۔انہوں نے کہا کہ قبائلیوں کو لالچ دیا جا رہا ہے کہ کے پی کے میں ضم ہونے سے آپ وزیراعلیٰ بھی بن سکتے ہیں گورنر بھی بن سکتے ہیں اور دس سال میں آپ کو ترقی کیلئے 90 ارب روپے بھی ملیں گے ۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ قبائلیوں کیلئے جب علیحدہ صوبے بنے گا تو وزیراعلیٰ اور گورنر انکے ہی ہونگے اور انہیں اپنے حصے کی رقم اور دیگر وسائل سے 120 ارب روپے سالانہ ملیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہر جگہ ہر فورم پر قبائل کے مستقبل کے حوالے سے مذاکرہ کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن کوئی زبردستی سے فیصلہ نہیں منوا سکتا ۔ دھرنوں ورنوں سے ہم نہیں ڈرتے ۔انہوں نے کہاکہ الیکشن 2018 قوم کے مستقبل کا فیصلہ کر یگا یہ الیکشن اسلامی نظریے اور باطل نظریوں کے درمیان ہو گی۔ جے یو آئی دین اسلام کی نمائندہ جماعت ہے اور ہمارے ملک میں امریکہ کی ایجنٹ کا کردار ادا کرنے والی بڑی اور چھوٹی جماعتیں موجود ہیں اور قوم نے اداروں کے کردار کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اسلئے ملک میں جمہوریت کے فروغ اور استحکام کیلئے 2018 کے الیکشن انتہائی اہمیت کے حامل ہونگے ۔

قبل ازیں مولانا فضل الرحمان نے جنوبی وزیرستان کے مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے سات سو سے زائد علماء کی مشترکہ دستار بندی بھی کی۔

مصنف کے بارے میں