عسکری قیادت اور عدلیہ کی توہین کا حساب لیا جائے گا، فواد چودھری

عسکری قیادت اور عدلیہ کی توہین کا حساب لیا جائے گا، فواد چودھری

کراچی:وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ ریاست کمزور نہیں، ہم نے آگ بجھانے کو ترجیح دی اور بغیر نقصان کے شہروں کو کھولا، مگر یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔


تفصیلات کے مطابق  فواد چودھری نے حکومت کا دو ٹوک موقف بتاتے ہوئے کہا کہ حالیہ دھرنے میں آئین پاکستان، سیاسی، عسکری قیادت اور عدلیہ کی توہین کی گئی، ریاست کمزور نہیں، بغاوت کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے، توڑ پھوڑ کرنے والوں سے بھی حساب لیں گے، معاہدہ حکمت عملی، اصل حل تلاش کریں گے۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ مظاہرین سے طے پانے والے معاہدے میں یہ نہیں لکھا کہ جن لوگوں نے توڑ پھوڑ کی انہیں معاف کر دیا جائے گا۔ دھرنے میں آئین پاکستان، سیاسی و عسکری قیادت اور جوڈیشری کی توہین کی گئی، یہ بغاوت ہے، ریاست اسے نظر انداز نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے سے حکومت کی کمزوری کا تاثر دیا جا رہا ہے، اگر ہم یہ سب ختم کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کرتے تو نقصان کا اندیشہ تھا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے آگ بجھانے کو ترجیح دی اور بغیر نقصان کے شہروں کو کھولا، مگر یہ مسئلے کا حل نہیں تاہم اگر آپریشن کرتے تو تنقید کی جاتی کہ طاقت کا استعمال کیوں کیا؟

ان کا کہنا تھا کہ کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ریاست اس رویے کو معاف کرے گی اور نہیں بھولے گی۔