جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی!

جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی!

پچھلے دنوں کچھ عزیزان گرامی کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی کہ وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے نوجوان نسل کو عملی سعی و کوششوں کے ساتھ کن باتوں یا اُصول و نظریات کو بطور راہنما پیش نظر رکھنا چاہیے کہ جس سے پاکستان کو ترقی کی راہ پر ہی نہ گامزن کیا جا سکے بلکہ اس کی نظریاتی اساس کو بھی مضبوط بنایا جا سکے۔اس ضمن میں پہلی بات جو ہمارے نزدیک اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کا قیام کس نظریے کی بنیاد پر عمل میں آیا اور اس نظریہ کے تحت امور سیاست و مملکت کیسے چلائے جاتے ہیں۔ گویا پاکستان کی نظریاتی اساس کو مضبوط بنانا ہمارے لئے سب سے اہم ہو سکتا ہے۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے ۔ اسلام اس ریاست کا مذہب اور اس کی پیروی اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ حکیم الامت حضرت علامہ اقبال ؒ نے کہا تھا :  ؎جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی سوال پیدا ہوتا ہے سیاست کیا ہے ؟ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ریاست کے امور میں حصہ لینا، ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنا اور ملک و قوم کو ترقی کی بام عروج پر پہنچانا یہ ایسے وظائف و فرائض ہیں جن کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ سیاست سے یا امور سیاست سے جڑتا ہے۔ ان امور کی سر انجام دہی یقینا ایک اہم فریضہ ہے اور یہ فریضہ اسی صورت میں بہ طریق احسن سر انجام دیا جا سکتا ہے جب اسے کسی ضابطہ حیات ، اصول و ضوابط ، اقدار و روایات اور تعلیمات کی روشنی میں پورا کیا جائے۔ یہ ضابطہ حیات ، اصول و ضوابط اور قدار و روایات اور تعلیمات ہم کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔ یقینا ختمی المرتبت حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ کو ہی ان کا منبع اور سر چشمہ سمجھا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ سیرت طیبہ اور آپؐ کی حیات طیبہ ساری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہیں۔ یہ آپؐ کی پاکیزہ تعلیمات اور آپ ؐ کے لائے ہوئے دین کی پیروی کا نتیجہ تھا کہ عرب کے جاہل اور اجڈ معاشرے میں پروان چڑھنے والے ضدی اور گنوار بدو دنیا کے امام بن گئے۔ ان کے اندر کیا خوبیاں اور اوصاف تھے کہ جن کی بدولت ان کو یہ مقام ملا؟ یقینا وہ ایمان کی دولت سے مالامال تھے۔ بہادری ، شجاعت ، توکل الی اللہ ، عدل و انصاف اور صبر و تحمل ان کی شخصی اور اجتماعی خوبیاں تھیں۔ ان خوبیوں اور اوصافِ حمیدہ سے متصف ہو کر جب وہ نبی پاک ﷺ کے اس فرمان کہ "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مر د اور عورت کا فرض ہے" اور اس کے ساتھ اس قرآنی دعا کہ"اے رب میرے علم میں اضافہ فرما"کو زاد راہ بنا کر آگے بڑھے تو پھر نہ صرف انہیں دنیا کی امامت ، قیادت اور سیادت حاصل ہوئی بلکہ ریاستِ مدینہ کی سرحدیں تین بر اعظموں تک پھیل گئیں۔ 

سیرت طیبہ کی پیروی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم نے آگے بڑھنا اور اپنے عمل و کردار کی روشن مثالیں دنیا کے سامنے لانی ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ صبر و تحمل ، استقامت اور ثابت قدمی کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں۔ہم اچھی طرح اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ نبی اکرمؐ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو انہیں کتنی مشکلوں، مخالفتوں، رکاوٹوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ آپؐ ان سب کے باوجود صبر و تحمل اور ثابت قدمی سے اللہ کریم کی طرف سے عطا کردہ منصب رسالت کے فرائض ادا کرنے اور سب لوگوں تک دین حق کا پیغام پہنچانے کی راہ پر گامزن رہے۔ آپ ؐ اور آپ ؐ کے صحابہ کرامؓ جن کی پاکیزہ زندگیاں اور سیرت و کردارہمارے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں دین حق کی راہ پر چلتے ہوئے بے پناہ مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہجرت سے لیکر غزوات اور جنگیں تک لڑنا پڑیں جن میں انہیں رب کریم کی طرف سے نصرت ، تائید اور ملائکہ کی مدد حاصل رہی۔ اور پھر 23سال کے مختصر عرصے میں پورا جزیرہ نما عرب ہی نہیں شام اور ایران کے بعض حصے بھی ریاست مدینہ کا حصہ بن گئے۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ یہ عظمت وبڑائی ، یہ ترقی ، اسلام کی اشاعت اور ریاست مدینہ کا پھیلائو وجود میں آیا تو محض اسلام کی پیروی، صبر و تحمل ، شجاعت ، بہادری اور حق و صداقت کی صفات کو اپنانے اور کردار کی بلندی کی بدولت ہی ممکن ہوا۔ 

ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنی مملکت ریاست پاکستان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینا ہے اور اسے بامِ عروج تک پہنچانا ہے تو ہمارے یہ ضروری ہے کہ ہم قرون اولیٰ کے مسلمانوں میں پائی جانے والی صفات ، مضبوطی ، بہادری ، زور، فقر ، درویشی ، صدق و سچائی اور خودداری کی شمعوں کو اپنی شخصیات و کردار میں روشن کریں۔ اس کے ساتھ ہمارے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے آپ کو اور اپنی مملکت کو مضبوط بنائیں یہ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ ہم نے ایٹمی صلاحیت حاصل کرکے اپنے آپ کو مضبوط بنایا تو اپنے ازلی اور ابدی دشمن بھارت کی جارحیت سے محفوظ ہو گئے ۔ اسی طرح ہم جرأت ، دلیری اور منصوبہ بندی سے کام لیکر دہشت گردی کے عفریت کے سامنے سینہ سپر ہوئے تو ہم نے بڑی حد تک اس کو جڑوں سے اکھاڑ کر رکھ دیا۔

بلاشبہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ منفی سوچ اوراحتجاجی اور انتقامی رویے اپنانے کے بجائے مثبت سوچ اور امید افزائی اور ادب و احترام کے انداز فکر و عمل کو اختیار کریں۔خود اعتمادی ، خودداری اور ہر میدان میں خود انحصاری جیسی خصوصیات بھی اتنی اہم ہیں جتنی کوئی اور خوبی یا خصوصیت ۔قرض کے لیے ہاتھ پھیلانا ، عیش و آرام کے سامان باہر سے منگوا کر اپنے آپ کو عیش و آرام کی زندگی کا عادی بنانا ہماری مملکت کی تعمیر و ترقی کے لیے ہی زہر قاتل کی حیثیت نہیں رکھتے ہیں بلکہ ہماری شخصیت اور کردار پر بھی ایک دھبے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یقینا اب وقت آگیا ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم اپنے آپ کو تبدیل کریں اور درپیش چیلنجز کا اس طرح مقابلہ کریں کہ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرلے کہ حضرت محمد ؐ کے دین کے پیروکار آج بھی دنیا کی امامت کرنے کے اہل ہیں۔آخر میں علامہ اقبالؒ کا یہ شعریاد دہانی کے لئے :

آتجھ کو بتائوں تقدیر اُمم کیا ہے 

شمشیر و سناں اول، طائوس و رباب آخر