ٹی ٹی پی سے مذاکرات

Khalid Minhas, Daily Nai Baat, e-paper, Pakistan, Lahore

کابل پر طالبان کی حکومت کے بعد ٹی ٹی پی کے لیے حالات سازگار نہیں تھے۔ پاکستان کی مجبوری یہ بھی ہے کہ طالبان ٹی ٹی پی کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں کہ ابتلا کے دور میں ٹی ٹی پی نے ان کی مدد کی تھی اور امریکہ کے خلاف جنگ میں ان کے ساتھ تھے۔ طالبان سے مذاکرات میں پاکستان نے سہولت کاری کی تھی اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات میں کون سہولت کاری کر رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی خبر کو بریک کیا ہے اور ملک کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ ترین سطح پر مذاکرات جاری ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ اعلیٰ ترین سطح کون سی ہے اور کون لوگ ہیں جو ان مذاکرات کاحصہ ہیں۔ عمران خان کو مغرب پہلے ہی طالبان خان کہتا ہے ان مذاکرات کے بعد جب عام معافی کااعلان ہو گا تو اس سے مغرب میں ان کا امیج بہتر ہو گا یا نہیں یہ تو آنے والاوقت ہی بتائے گا مگر پاکستان میں اس حوالے سے ایک بحث کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا حکومت قومی اسمبلی کو اعتماد میں لیے بغیر بالا ہی بالا یہ مذاکراتی عمل شروع کرنے کااختیاررکھتی ہے۔؟ اپوزیشن حکومت کے اس عمل پر شدید تنقید کر رہی ہے۔

ٹی ٹی پی پاکستان میں ایک کالعدم اور دہشت گر د تنظیم کے طور پر جانی جاتی ہے اور حکومت کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ستر سے اسی ہزار افراد ان کی دہشت گرد ی کی کارروائیوں کا شکار ہوئے اور معاشی طور پرپاکستان کو کئی بلین ڈالر کا نقصان پہنچا۔ اے پی ایس سے جی ایچ کیو تک کونسی ایسی جگہ ہے جہاں پر اس تنظیم نے کارروائیاں نہیں کیں۔ نائن الیون کے شروع ہونے والی جنگ امریکہ کی جنگ تھی مگر بعد میں اسے ہم نے اپنی جنگ بنا لیا اور امریکی اشیرباد حاصل کرنے کے لیے اپنے مفادات کو داؤ پر لگا لیا۔ القاعدہ کی قیادت پاکستان میں موجود رہی اور اس کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے کون تھے اس بار ے میں سب جانتے ہیں۔افغانستان کے طالبان کو پاکستان میں پناہ گاہیں فراہم کرنیوالے کون تھے۔ اب بھی پاکستان میں ایک طبقہ موجود ہے جو علی الاعلان طالبان کی حمایت کر رہا ہے۔اسلام آبا د میں جامعہ حفصہ پر امارات اسلامی کا پرچم لہرانے کا واقعہ محض اتفاق نہیں تھااور اب ان خبروں کے بعد یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ ٹی ٹی پی کو قومی دھارے میں لانے کے لیے کام ایک عرصہ سے ہو رہا ہے۔

یہ کہا جاتا رہا کہ افغان طالبان نے پاکستان میں کارروائیاں نہیں کیں اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیا یہ محض خام خیالی ہے۔ افغانستان کے طالبان نے ٹی ٹی پی سمیت ان تمام گروپوں کو ہر قسم کی مدد فراہم کی جو پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں مصروف تھے۔پاکستان میں ہونے والی تما م بڑی کارروائیوں کے تانے بانے افغانستان تک جاتے تھے۔خودکش بمباروں کی فراہمی سے لے کر اسلحہ اور گولہ بارود تک سب افغانستان سے آتاتھا اور ٹی ٹی پی کو سپانسر کرنے والے کون تھے؟ اگر ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی کارروائیوں میں تحریک طالبان افغانستان ملوث نہیں تھی تو اب وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے کیوں ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ طالبان نے بین الاقوامی برادری کو ایک ہی گارنٹی دی ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اب جب عمل کا وقت آیا ہے تو مذاکرات کا ڈول ڈال دیا گیا ہے۔ افغانی طالبان کو اب اپنے وعدے کی تکمیل کرناہے اور وہ تمام گروپ اور گروہ جو پاکستان کے خلاف برسرپیکار ہیں ان کے خلاف نہ صرف کارروائی کرنا ہے بلکہ مطلوب افراد کو حراست میں لے کر متعلقہ حکومت کے حوالے کرنا ہے۔ کام یقینی طورپر مشکل ہے مگر افغان طالبان اپنی مشکل کو دور کرنے کے لیے پھندا پاکستان کے گلے میں فٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جب افغان طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان معاہدہ ہو سکتا ہے تو ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیا ن معاہدہ کیوں نہیں ہو سکتا تو اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ دونو ں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج ایک قابض فوج کی حیثیت میں موجود تھی اور اسے آخر کار وہاں سے نکلنا ہی تھا اور واپس اپنے ملک جانا تھا پاکستان کی فوج کسی تیسرے ملک سے نہیں آئی بلکہ ان لوگو ں کا جینا مرنا یہاں ہے۔ یہ ان کا ملک ہے اور اس کی حفاظت کرنا ان کی بنیادی ذمہ داری میں شامل ہے۔ کسی ملیشیا یا جتھے کے سامنے ہتھیار ڈال کر اس ملک کو کسی کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

یہ مذاکرات اگر کسی سطح پر ہو رہے ہیں تو یقینی طور پر ان میں بہت سے پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے گا۔ یہ دلیل کسی طور قبول نہیں کی جا سکتی کہ وہ لوگ جو کارروائیوں میں مطلوب ہیں ان کو معافی نہیں ملے گی اور باقی سب کو معاف کر دیا جائے گا۔ اگر ایسا ہے تو پھر دہشت گردی کی کارروائیوں کے سارے منصوبہ ساز بچ جائیں گے کہ ان کارروائیوں کو عملی جامہ کسی دوسرے شخص نے پہنایا تھا۔افغانی طالبان دو کشتیوں میں سوارہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن دو کشتیوں کی سواری سے خواری کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی کہانی کے بعد بلوچ علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔ بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات تو پہلے بھی ہوئے تھے اور کئی بلوچ ہتھیار پھینک کر واپس آ گئے تھے اور ان کے لیے اب بھی دروازے کھلے ہیں کہ جو بھی ہتھیار پھینک کر واپس آنا چاہتا ہے وہ آ جائے تو ایسے میں مذاکرات کیوں کر ہو رہے ہیں۔ ان کے لیے تو پہلے سے اعلان ہو چکا ہے۔ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی تحریک او رمقاصد میں فرق ہے۔ ٹی ٹی پی پورے ملک پر قبضہ کر کے یہاں پر اپنا نظام نافذکرنا چاہتی ہے اور بلوچ علیحدگی پسند اپنے خطے کو الگ کرنے کے لیے دہشت گرد ی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو لوگ پاکستان کے آئین اور نظام کو تسلیم کر کے اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں انہیں موقع فراہم کرنا چاہیے۔ ریاستی معاملات میں صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے والا محاورہ نہیں چلتا۔ ریاست چلانا ایک سنجیدہ کام ہے اور اسے سنجیدگی سے لینا ہو گا۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں زمین تنگ ہونے کے بعد پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے گروہ پاکستان کے مخالف ممالک میں پناہ لے سکتے ہیں تو اس سے خائف ہونے کی ضرورت نہیں ہے وہ ممالک پہلے بھی ان عناصرکو ہر قسم کی مدد فراہم کر رہے تھے اب بھی کریں گے اور ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند گروپوں سے مذاکرات کامیاب بھی ہو جائیں تب بھی ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی اس لیے ریاست کو کسی سے بلیک میل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ مسئلہ صرف حکومت کے حل کرنے کا نہیں ہے اس لیے اگر یہ کام کرنا ضروری ہے تو اپوزیشن سمیت تمام حلقو ں کو اعتماد میں لیا جائے اور مجھے یقین ہے کہ اگر یہ قومی مفاد میں ہوا تو کوئی اس کی مخالف نہیں کرے گا۔