سعودی طرز حکومت میں اہم تبدیلی: وزیراعظم کا تقرر

سعودی طرز حکومت میں اہم تبدیلی: وزیراعظم کا تقرر

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے اس ہفتے اپنے ایک شاہی حکمنامے کے ذریعے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو سعودی عرب کا وزیراعظم مقرر کر دیا ہے۔37 سالہ محمد بن سلمان سعودی ولی عہد ہونے کے علاوہ ملک کے وزیر دفاع بھی ہیں اور بادشاہ نے انہیں اختیار دے رکھا ہے کہ وہ تمام سرکاری و سفارتی تقریبات میں 87 سالہ بادشاہ کی نمائندگی کرتے ہیں آئینی طور پر تو شاہ سلمان ہی سعودی عرب کے حکمران ہیں لیکن عملاً وہاں 2017 سے محمد بن سلمان کی بادشاہت قائم ہے سعودی کنگ خرابیئ صحت کی وجہ سے عوام میں نہیں آتے بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اس بات کا فیصلہ بھی ولی عہد محمدبن سلمان ہی کر تے ہیں کہ کسی اہم ترین ریاستی ذمہ داری کیلئے کنگ یا بادشاہ نے کسی غیر ملکی سربراہ سے ملاقات کرنی ہے یا نہیں۔ محمد بن سلمان اس وقت سعودی عرب کی طاقتور ترین شخصیت ہیں اور ان کے سیاسی مخالفین حتیٰ کہ سعودی شاہی خاندان کے اندر بھی ان سے اختلاف رائے کرنا خطر نا ک سمجھا جاتا ہے گویا ان کا نام سعودی حلقوں میں ایسی عزت و تکریم کی علامت ہے جس کی بنیاد خوف ہے۔ 

سعودی عرب میں ہونے والی اس حالیہ پیش رفت سے ملک کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا مگر پھر بھی اس خبر کو پوری دنیا کے میڈیا میں نمایاں انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اس کی وجہ سعودی عرب کا عالمی دنیا میں تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی صف میں حاصل کردہ وہ مقام ہے جسے کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پر ہونے والی معمولی سی تبدیلی بھی سپر پاور کے ریڈار میں آجاتی ہے۔ پوری دنیا کی معاشی جدوجہد کا انحصار چونکہ تیل پر ہے لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت آدھی دنیا سعودی تیل پر چل رہی ہے۔ ویسے تو تیل پیدا کرنے والے ممالک میں پہلا نمبر امریکہ کا ہے جہاں دنیا کا 18.5 فیصد پٹرول ہے مگر یہ امریکہ کی اپنی ضروریات بھی پوری نہیں کرتا۔ دوسرا نمبر روس اور سعودیہ کا ہے جو دنیا کا 12.2 حصہ پر مشتمل ہے گویا روس اور سعودی عرب مجموعی طور پر عالمی تیل کے ایک چوتھائی حصے کے مالک ہیں۔ عراق چائنہ امارات اور ایران میں سے ہر ایک کا حصہ 4.5-4 فیصد کے درمیان ہے۔ 

اس سال کے شروع میں روس نے یوکرائن پر حملہ کیا تو دنیا کی پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں بھونچال آگیا جس نے دنیا بھر میں افراط زر کی معاشی بحران کی کیفیت پیدا کردی جس سے سعودی 

عرب کی آمدنی میں اضافے کے ساتھ ان کی عالمی سیاسی پوزیشن بھی کافی اہمیت اختیار کر گئی یہاں تک کہ امریکی صدر جوبائیڈن جس نے سعودی عرب کا بائیکاٹ کر رکھا تھا انہیں بھی جولائی میں سعودی عرب کا دورہ کرنے پرمجبور ہونا پڑا یہ الگ بات کہ اس دورے کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے۔ سعودی عرب اس وقت یومیہ گیارہ ملین بیرل تیل پیدا کر رہا ہے۔ 

2015ء میں جب موجودہ بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے اپنے بیٹے محمد سلمان کو ڈپٹی ولی عہد نامزد کیا اس وقت شہزادہ محمد بن نایف ولی عہد تھے جو امریکہ سے گہرے مراسم رکھتے تھے 2017ء میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے محمد بن نایف کو سبکدوش کر کے محمد بن سلمان کو ولی عہد بنا دیا گیا سعودی بادشاہت کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ بادشاہ نے اپنے ہی بیٹے کو اپنا ولی عہد نامزد کیا ہو۔ محمد بن نایف کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ گزشتہ 5 سال سے اب تک کسی کو کوئی خبر نہیں کہ محمد بن نایف کہاں اور کس حال میں ہیں۔ 

2015ء  سے لیکر اب تک محمد بن سلمان نے اقتدار پر بتدریج اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کی اور اس وقت وہ مکمل طور پر سعودی ریاست کا کلی انتظام سنبھال چکے ہیں انہوں نے اقتدار میں آکر سعودی عرب کے امیج میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں عورتوں کے حجاب پر پابندی کا خاتمہ انہیں ڈرائیونگ کی اجازت، مخلوط محفلوں اور موسیقی کے پروگرام اور اس طرح کے اقدامات کر کے ملک کو ایک اوپن سوسائٹی کا امیج اجاگر کیا ہے۔ لیکن ان کے متنازع اقدامات ایسے ہیں جو ان کے سافٹ امیج کے مقابلے میں بہت زیادہ شدت کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں۔ 2015ء میں یمن پر حملہ ان کی بہت سنگین غلطی ثابت ہوا انہوں نے سمجھا تھا کہ وہ چند ہفتوں میں یمن فتح کر لیں گے مگر حوثی باغی ان کے گلے پڑ گئے۔ امریکہ کی طرف سے شرف قبولیت کی امید میں انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا آغاز کیا اور امارات اور بحرین کے ذریعے برف پگھلنے کا عمل اب کافی آگے جا چکا ہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکا جا سکے۔ محمد بن سلمان کی ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ذاتی سفارتکاری کے نتیجے میں ایران پر اقتصادی پابندیاں جو صدر اوباما نے اٹھا لی تھیں وہ دوبارہ لگا دی گئیں۔ جس میں ٹرمپ کے یہودی داماد کا کافی کردار تھا۔ 

محمد بن سلمان نے اب تک طاقت کے بل بوتے پر جتنے من مانے اقدامات کئے ہیں ان سے 2018ء میں استنبول میں سعودی سفارتخانے میں سعودی نژاد امریکی صحافی جمال خشوگی کا قتل سب سے سنگین معاملہ تھا جس کے اثرات ابھی تک زائل نہیں ہو سکے جولائی میں جب صدر بائیڈن نے سعودی عرب کا دورہ کیا تو انہوں نے محمد بن سلمان سے ہاتھ نہیں ملایا صرف رسمی دعا سلام زبانی حد تک کی تھی۔ 

محمد بن سلمان کے بارے میں پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے وہ جب کچھ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس پر عمل درآمد سے دریغ نہیں کرتے۔ انہوں نے کرپشن کے خاتمے کے نام پر 2017 ء میں ریاض میں Ritz Carlton ہوٹل میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں شرکت کے لئے آنے والے سعودی وزیروں اور شاہی خاندان کے بڑے بڑے شہزادوں اور کاروباری شرفاء کو کانفرنس کے اختتام پر گرفتار کر لیا گیا اور ان کی رہائی کے لیے ایک ایک بندے سے اربوں سعودی ریال نکلوائے گئے یہ اپنی نوعیت کا ایک عجیب و غریب واقعہ تھا۔ 

محمد بن سلمان کے واقعات میں ایک واقعہ پاکستان سے متعلق بھی ہے۔ 2019ء میں جب وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کیلئے جانے لگے تو محمد بن سلمان نے احتراماً انہیں اپنا شاہی طیارہ پیش کر دیا وہاں جا کر عمران خان نے ملائیشیا انڈونیشیا اور ایران کے سر بر اہان سے غیر رسمی گفتگو میں ایک نئی OICبنانے کی تجویز کی حمایت کر دی جس کا اجلاس کوالالمپور میں اس سال کے آخر میں ہونا تھا۔ سعودی عرب کو عمران خان کی طرف سے ان کے مخالفین کی یہ حمایت پسند نہ آئی جس پر محمد بن سلمان نے اپنا طیارہ واپس بلا لیا اور عمران خان کو کمرشل فلائٹ سے واپس آنا پڑا مگر بات یہاں ختم نہیں ہوئی جب کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کا موقع آیا تو سعودی عرب نے پاکستان کو دھمکی دی کہ اگر عمران خان اس کانفرنس میں گئے تو پھر سعودی عرب تمام پاکستانیوں کو اپنے ملک سے نکال دے گا جس پر عمران خان نے کانفرنس میں جانے سے معذر ت کر لی بعد ازاں اس دھمکی کی تصدیق مہاتیر محمد اور طیب اردوان جیسے عالمی لیڈروں نے بھی کی۔ 

البتہ ایک بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ 2015ء میں وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے یمن جنگ میں سعودی عرب کی حمایت سے انکار کے باوجود محمد بن سلمان اب بھی پاکستان کے دوست ہیں اور ہر سیاسی حکومت اور ہر معاشی بحران میں پاکستان کی مدد کرتے ہیں اگر ہماری سفارتکاری ذاتی تحائف اور قیمتی گھڑیاں وصول کرنے کی منزل سے اوپر اٹھ جائے تو سعودی عرب اب بھی پاکستان کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہے۔ 

مصنف کے بارے میں