سامراجی مداخلت

سامراجی مداخلت

حالیہ کچھ دنوں میں ڈپلومیٹک سائفر کے حوالے سے آنے والی آڈیوز پر سیاست نے تیزی اختیار کر لی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایک ڈپلومیٹک سائفر کو من گھڑت معانی دے کر سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، کابینہ کی رائے میں اس فعل کے ذریعے کلیدی ریاستی مفادات پر سیاسی مفادات کو فوقیت دی گئی، لیکن سوچنے کا پہلو یہ ہے کہ کیا امریکہ نے پاکستان کے معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی؟ اس کا سادہ سا جواب ہے کہ بظاہر پاک امریکہ تعلقات دوستانہ تصور کئے جاتے رہے ہیں لیکن یہ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں بلکہ میں یہ کہوں گا کہ جب امریکہ کو ضرورت محسوس ہوئی تو ان دوستانہ تعلقات میں چڑھاؤ آ گیا اور جب پاکستان کو ضرورت محسوس ہوئی تو ان میں اتار آ گیا۔ 1965ء کی جنگ میں بحری بیڑے کا ذکر ہو یا بعد ازاں بھارت کے ساتھ ہونے والی دیگر جنگوں میں بھی امریکہ نے پاکستان کو بیچ منجھدار دھوکا دیا بلکہ گزشتہ 75 سال سے ہم دیکھ رہے ہیں جب بھی امریکہ کو پاکستان کی ضرورت نہیں رہی اس نے گاہے بگاہے اقتصادی اور فوجی پابندیاں عائد کی ہیں۔ 

جب ہم امریکی مداخلت کی بات کرتے ہیں تو پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد سے پاکستان کی تاریخ امریکی مداخلت سے بھری پڑی ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے بارے میں پاکستانی عوام کے دلوں میں نفرت بڑھتی ہی رہی ہے۔ سب سے بڑھ کر جب سے سی پیک منصوبہ آیا ہے وہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے تا کہ پاکستان کہیں معاشی طور پر مضبوط ملک نہ بن جائے۔ اگر امریکہ کے ساتھ پاکستان کے کسی بھی حکمران کے تعلقات ٹھیک تھے تو اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس کو پتہ تھا کہ جب بھی اس کے خلاف کوئی بات کی اس کی حکومت جاتی رہے گی جیسا کہ ہم جانتے ہیں ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق اور اب عمران خان کی حکومت بھی اسی انکار کی وجہ سے گئی جو انہوں نے کیا تھا۔ اب عمران خان وہ واحد وزیرِ اعظم ہیں جنہوں نے کہا کہ میری حکومت امریکی ایما پر ختم ہوئی ہے اور ہمارے ہاں سے ہی کچھ لوگ اس کے آلہئ کار بنے ہیں۔ پی ڈی ایم کی حکومت اس بات کو غلط ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے جب کہ ہمارے ہاں شروع سے ہی ایسے ہی ہوتا آیا ہے اور ملک کے ترقی نہ کر سکنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے ہم جب بیرونی احکامات کے مطابق اپنے ملک کو چلائیں گے تو ظاہر ہے وہ ہمارے مفاد کے مطابق نہیں ہو گا۔ کیا ہم 1977ء کی ناجائز، غیر منطقی اور نتائج کے حوالے سے خطرناک ترین ہڑتالوں سے ناواقف ہیں؟ 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے جو تحریک چلائی تھی وہ اس نعرے پر تھی کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب کی چند نشستوں پر دھاندلی کی ہے۔ جب کہ تحریک چلانے والے اور عام حلقے اس بات سے اتفاق کرتے تھے کہ پیپلز پارٹی مجموعی طور پر 1977ء کے انتخابات جیت چکی تھی۔ اس سیاسی جواز کے علاوہ 1977ء کی تباہ کن ہڑتالوں کا سب سے بڑا سبب بھٹو سے امریکہ کی ناراضی تھی۔ امریکہ کے وزیرِ خارجہ نے بھٹو کو ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہونے کا حکم دیا تھا لیکن بھٹو نے کسنجر کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا۔ اس گستاخی کے جواب میں امریکی وزیرِ خارجہ نے بھٹو کو نشانِ عبرت بنانے کی دھمکی دی تھی اور اس دھمکی پر عمل درآمد پی این اے کر رہی تھی۔ کیا پی این اے کے بزرگ امریکی دھمکی سے ناواقف تھے جس کی بنا پر مداخلت کی گئی۔ اس مداخلت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ روس کی افغانستان میں مداخلت کے نتیجے میں پاکستان کو امریکہ کا ساتھ دینا پڑا، اس طرح روس کی دشمنی مول لینا پڑی۔ امریکہ نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لئے دینی مدارس میں اربوں ڈالر خرچ کر کے جن مذہبی انتہا پسندوں کی کاشت کی آج اس انتہا پسندی کی فصل لہلہا رہی ہے۔

ہمیں حقائق کو سمجھنا اور مدِ نظر رکھنا چاہئے کیونکہ بیرونی دنیا بالخصوص امریکہ اپنے مفادات کے لئے ہمارے ہاں شروع سے ہی حکومتیں تبدیل کرتا رہا ہے ان باتوں پر صرفِ نظر نہیں کرنا چاہئے۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح پی ٹی آئی کی حکومت کو گرانے کے لئے اراکینِ پارلیمنٹ کو محبوس کیا گیا ان کی بولیاں لگائی گئیں۔ اس ملک کے عوام کا مسئلہ اس نظام کی مکمل تبدیلی ہے جس میں اراکینِ پارلیمنٹ، اراکینِ سینٹ کی بولیاں لگتی ہیں، نئے اور بڑے نوٹوں سے بھرے سوٹ کیس ادھر ادھر ہوتے ہیں۔ ایسا نظام جس میں ضمیر بکتے ہیں، مینڈیٹ بکتا ہے، دین دھرم بکتا ہے، نوکریاں اور عہدے بکتے ہیں، تھانے نیلام ہوتے ہیں۔ کیا ایسے نظام کو بدلا نہیں جانا چاہئے؟ یقیناً اس کو بدلے بغیر یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا لیکن سامراجی طاقتوں کے مفاد اسی نظام کے جاری رہنے میں ہیں، لہٰذا وہ ایسے پاکستانی حکمران کو کسی نہ کسی مداخلت کے ذریعے فارغ کرتے رہیں گے جو اپنے ملک کے مفاد کی بات کریں گے۔ کیونکہ ہم ماضی میں ایسی صورتحال کا نتیجہ کئی بار دیکھ اور بھگت چکے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور دوسری حکومتی شخصیات کو جن اہم سرکاری دستاویزات تک رسائی حاصل ہوتی ہے اور ملک کے دفاع و سلامتی اور اس کے مفادات کے تحفظ کی خاطر ان سے صیغہئ راز میں رکھنے کی متقاضی ہوتی ہے۔ انہیں کسی بھی حوالے سے افشا نہ ہونے دینا ان کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن کیا اپنے ملکی مفادات کا دوسروں کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے؟ کیا عوام کو اصل حقیقت سے آگاہی حاصل نہیں ہونی چاہئے یہ حق تو عوام کو آئین بھی دیتا ہے کہ اہم ملکی مفادات کے حوالے سے عوامی رائے لی جانی چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ آیا ہم نے ماضی کے تلخ تجربات سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا؟ جب بھی جس بڑی بیرونی طاقت کا دل کیا اس نے ہمارے مفادات سے کھیل کر ملک کو نقصان پہنچا دیا۔اگر موجودہ حالات کے تناظر میں معاملات کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو بات صاف نظر آتی ہے کہ بیرونی طاقتوں نے یہ سائفر صرف ترقی کرتی معیشت کو روک لگانے کے لئے جاری کیا ہے اور ہمارے ہی سیاست دان ان کا آلہئ کار بن گئے۔ ہم ماضی سے کوئی سبق سیکھتے تو پی ڈی ایم کی جماعتیں پی ٹی آئی کی حکومت کو گراتی نہ بلکہ مل کر سارے مسائل پر قابو پانے کی کوشش میں مصروف ہوتیں اور کسی بھی قسم کی مداخلت کے سامنے سینہ سپر ہوتیں۔

مصنف کے بارے میں