مولانا رومیؒ سے ملاقات اور حاجی ٹیپو سے تعزیت

Asif Anayat, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

کتاب کی سب سے اہم صفت یا تعریف یہ ہے کہ اگر کوئی شخص چاہے کہ آج چند دن اپنے گزرے ہوئے اسلاف میں سے کسی کے ساتھ گزارے تو ممکن نہیں، اگر ان کی تحریر پڑھے تو جتنے دن چاہے ان کی صحبت سے لطف اندوز ہو، رہنمائی پائے۔ اللہ رب العزت نے بھی انسانوں کو اپنا پیغام اپنی کتابوں کے ذریعے ہی پہنچایا اور بالآخر پیغام کا سلسلہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے قرآن عظیم کے ذریعے مکمل ہوا لہٰذا اگر کسی کی صحبت میں رہنا ہے تو اس کی تحریر یا اس کے متعلق تحریر پڑھیں، سنیں اور جب تک مرضی رہیں۔ وطن عزیز اور پورے خطے میں وارد حالات سے میں خود بھی فرار چاہتا ہوں اور آپ کو بھی تھوڑی دیر سستالینے کا مشورہ دیتا ہوں لہٰذا آج حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ کے چند اشعار (ترجمہ) اصل کلام فارسی میں ہے سے رہنمائی لیتے اور محظوظ بھی ہوتے ہیں۔ آقا کریمﷺ کی شان اقدس کے متعلق فرماتے ہیں:

یا صاحب الجمال و یا سید البشر 

من وجہک المنیر لقد نور القمر 

لا یمکن الثناء کما کان حقہ 

”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“

اے کہ آپ صاحب جمال ہیں اور تمام انسانوں کے سردار ہیں۔ آپ کے روئے تاباں سے چاند روشن ہوتا ہے۔ آپ کی تعریف آپ کے شایان شان ممکن نہیں۔ مختصر یہ کہ آپ خدا کے بعد سب سے بڑی ہستی ہیں۔ 

عشق آمد عقل خود آوارہ شد

شمس آمد شمع خود بیچارہ شد

عشق آ گیا تو عقل بے چاری بے کار ہو گئی، سورج نکلا تو شمع کی کوئی حقیقت نہ رہی۔

صد کتاب و صد ورق در نار کن

روئے دل را جانب دلدار کن 

سوکتابوں اور اوراق کو آگ میں ڈال، اپنے دل کاچہرہ دلدار کی جانب کردے۔ 

ہر کسے گر عیب خود دیدے ز پیش 

کے بدے فارغ زے از اصلاح خویش 

ہر شخص اگر پہلے ہی اپنا عیب دیکھ لیتا تو اپنی اصلاح سے کب فارغ ہوتا۔ 

سگ اصحاب کہف روزے چند

پئے نیکاں گرفت و مردم شد

اصحاب کہف کے کتے نے چند روز نیکوں کی پیروی کی اور آدمی ہو گیا۔ 

مصطفی آئینہ روئے خداست

منعکس در وے ہمہ خوئے خداست

مصطفیؐ اللہ کے چہرے کا آئینہ ہیں، ان میں اس کی ہر صفت منعکس ہے۔ 

روح را تاثیر آگاہی بود

ہر کرا ایں بیش اللہی بود

روح کی تاثیر باخبری ہوتی ہے، جس کو یہ زیادہ حاصل ہے وہ اللہ والاہے۔ 

قرب ئے بالا نہ پستی رفتن است

قرب حق از حبس ہستی رستن است

قرب کے لیے اوپر یا نیچے جانا نہیں ہے، اللہ کا قرب وجود کی قید سے چھوٹنا ہے۔ 

چوں نہ دارد نور دل نیست آں 

چوں ناباشد روح جزو کل نیست آں 

جو دل نور باطن سے منور نہ ہو وہ دل، دل ہی نہیں ہے اور جب روح ہی جسم میں نہیں تو وہ نہ جزو ہے نہ کل۔ 

ہم خدا خواہی وہم دنیائے دوں 

ایں خیال است و محال است و جنوں 

تو خدا کو بھی چاہتا ہے اور ذلیل دنیا کو بھی۔ یہ خیال اور جنون اور محال بات ہے۔ 

کالم یہاں تک آیا گویا آج لکھنے بیٹھا تو ذہن میں حاجی سلطان ٹیپو خان گوجرانوالہ سے ہمارے دوست ہیں کی ماؤں جیسی محبت کرنے والی بڑی بہن کے وصال کی خبر سنی، بہت دکھی ہوا۔ اللہ کریم ان کی مغفر ت اور درجات بلند فرمائے۔ رحم کار شتہ ہی دنیا میں محبت کار شتہ ہوتا ہے۔ گلزار بھائی (گلزار احمد بٹ صاحب سینئر سپرنٹنڈنٹ جیل) میرے بڑے بھائی بتاتے ہیں کہ ایک قیدی کو پھانسی دی گئی۔ لواحقین کے ساتھ اس کی دو بہنیں آخری ملاقات کی رات صبح پھانسی تک اور پھر اس کے بعد وہ جتنی دیر جیل حکام یا جیل کے علاقہ میں رہیں اپنے بھائی کی میت کو لے جانے تک بس ایک ہی نوحہ و گریہ کرتیں (تیرے نال رل کے کیوں جمیاں) یعنی تمہارے ساتھ جنم کیوں ہوا۔ ظاہر ہے کہیں اور پیدا ہوتیں تو کوئی اور دکھ ضرورہوتا۔ مگر اس پھانسی پانے والے کا دکھ نہ ہوتا یہاں یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ رحم یعنی پیٹ کا رشتہ بہت مزہ بھی دیتا ہے اور وصال پر دکھ بھی جس کے اظہار کے لیے کوئی زبان نہیں بنی۔ اللہ انبیاء اکرام، الہلامی کتب، فرشتوں اور آخرت پر ایمان کے ساتھ اللہ کو ہر اچھی اور بری تقدیر کا مالک ماننا بھی لازمی شرط ہے۔ قرآن عظیم میں ہے ”ہر چیز کی تقدیر ہے جب تک تقدیر ہو گی قائم رہے گی پھر ختم ہو جائے گی گویا انسان ہی نہیں اللہ کی ہر تخلیق کی تقدیر ہے (مفہوم) اللہ کریم حاجی ٹیپو صاحب کی ہمشیرہ کی مغفرت اور درجاب بلند فرمائے۔ بس! رہے نام اللہ کا میری بھتیجی اعظم  بھائی (پاء جی محمد اعظم بٹ شہیدؒ) کی بیٹی سائرہ اعظم کا شعر ہے: 

زیست سفر ہے اک دائرے کا

یعنی اگتے جاؤ کٹتے جاؤ