انگلش میڈیم سسٹم…… ذہنی غلامی!

Sajid Hussain Malik, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

کالم کا عنوان وزیرِ اعظم جناب عمران خان کے چند روز قبل لاہور میں پنجاب ایجو کیشن کنونشن میں کی جانے والی تقریر سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس تقریر کو سامنے رکھ کر قومی اخبارات نے اسی عنوان سے شہ سُرخیاں بھی جمائی ہیں۔ جنابِ وزیرِ اعظم نے اس تقریر میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہماری تنزلی کی بڑی وجہ انگریز کا تعلیمی نظام ہے جس نے ہمیں اسلام اور اپنے کلچر سے دور کیا۔ یکساں تعلیمی نصاب سے آنے والے وقت میں ہمیں بڑا فائدہ ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اپنی زبان میں پڑھانے کے ساتھ ان کی اچھی تربیت کریں اور انہیں سیرت النبیؐ کے بارے میں بھی تعلیم دیں۔ 

وزیرِ اعظم جناب عمران خان کو اللہ کریم سلامت رکھیں اور ان کے منہ میں گھی شکر کہ انھوں نے اتنی اچھی باتیں کی ہیں اور ذہنی غلامی کے مرض کی صحیح تشخیص کی ہے۔ اسے جملہ معترضہ ہی سمجھ لیا جائے لیکن یہ کہنے کو ضرور جی چاہتا ہے کہ کاش جناب عمران خان وزیرِ اعظم پاکستان اپنے گھرانے پر بھی نظر ڈال لیتے اور اسے ذہنی غلامی سے بچانے کی تدبیر کرتے۔ ان کے دونوں بیٹے اللہ کریم خیر سے رکھے، لندن میں یہودی اور عیسائی عقائد پر کاربند اپنے کٹٹر انگریز ننھیال میں پرورش پا رہے ہیں۔ بلکہ انگریزی میڈیم میں ہی نہیں روائتی انگریزی نظام تعلیم کے تحت، تعلیم کی منزلیں بھی طے کر رہے ہیں۔ تو کیا انگریزی معاشرے میں پل بڑھ کر اور انگریزی نظام کے تحت تعلیم حاصل کرکے جناب عمران خان کے صاحبزادگان  ان کے اپنے فرمان کے مطابق اسلام اور اپنے کلچر سے دور نہیں ہونگے؟ جناب عمران خان اگر دوسرے والدین کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اپنی زبان میں پڑھانے کے ساتھ ان کی اچھی تربیت کریں اور انہیں سیرت النبی ؐ کے بارے میں تعلیم دیں تو کیا ان کے لیے بھی یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ خود اپنی اس تلقین پر عمل کریں۔ 

جناب عمران خان اس پر عمل کرتے ہیں یا نہیں، لیکن یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اُن کی حکومت نے یکساں نصابِ تعلیم کے حوالے سے جو فیصلہ کیا ہے اور اب خود انہوں نے انگلش میڈیم کو ذہنی غلامی کا بڑا سبب قرار دے کر اس کی جو مخالفت کی ہے اور پھر اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کی جو وکالت کی ہے بلاشبہ یہ ان کے قابلِ قدر خیالات اور اُن کی حکومت کے اچھے اقدامات ہیں۔ تاہم اتنا کچھ کہہ دینا کہ یکساں نصابِ تعلیم ضروری ہے لیکن اس کے لیے ضروری اقدامات نہ کرنے یا جزوی طور پر اور بد دلی سے اس کے لیے اقدامات کرنے یا متعلقہ اداروں، محکموں اور ذمہ دار افراد کی طرف سے ان پر خوش دلی اور پوری دل جمعی سے عمل پیرا نہ ہونے سے یکساں نصابِ تعلیم کے نفاذ کی منزل سر نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح صرف یہ کہہ دینے سے کہ والدین اپنے بچوں کے لیے اپنی زبان (اُردو) 

میں تعلیم کو اختیار کریں تو اس سے نہ تو اُردو ذریعہ تعلیم کا نفاذ عمل میں آسکتا ہے اور نہ ہی انگلش میڈیم یا انگلش ذریعہ تعلیم کی نفی ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم انتہائی سنجیدگی، ذمہ داری، سمجھ داری اور ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے پورے اجتماعی نظام اور قومی ڈھانچے کو مملکت کے اساسی نظریے اور اپنی دینی تعلیمات اور تاریخی اور تہذیبی روایات و اقدار سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایسی فیصلہ سازی کریں کہ مملکت کے تمام اداروں جن میں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے ساتھ دیگر سرکاری، نیم سرکاری اور نجی شعبہ کے دوسرے ادارے اور تعلیمی ادارے وغیرہ شامل ہیں وہ جہاں قومی زبان اُردو کو اہمیت و فوقیت دیتے ہوئے خوشدلی  یانیم دلی سے اس کے نفاذ پر آمادہ ہو جائیں وہاں ان سے متعلقہ اعلیٰ عہدیداران جن میں سربراہ حکومت سے لے کر صاحبان اختیار و اقتدار، اعلیٰ انتظامی افسران، مستقل ریاستی اداروں کے ذمہ داران اور سول و ملٹری بیورو کریسی سے متعلقہ خواتین و حضرات اور سب سے بڑھ کر ملک کی اشرافیہ کی سوچ اور اندازِ فکر و عمل میں ایسی تبدیلی آسکے کہ ان کے نزیک قومی زبان اور اُردو ذریعہ تعلیم کا نفاذ کم تر حیثیت کا مالک سمجھا جانے کے بجائے باعثِ فخر و توقیرسمجھا جائے۔ اس کے لیے محض زبانی کلامی کوئی جذباتی تقریر کر دینا کافی نہیں، خلوص دل سے اس کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی اور اس کے مطابق سچے دل سے لائحہ عمل اختیار کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ 

یہ درست ہے کہ یکساں نصابِ تعلیم کا نفاذ اور اُردو ذریعہ اختیار کرنا ہمارے لیے اشد ضروری نہیں ہے بلکہ اسے ہم ایک اہم قومی تقاضا اور عوام الناس کے دل کی آواز بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن پھر یہی سوال سامنے آتا ہے کہ آخر اس پر عمل درآمد کیسے ہو جب کہ ہمارا پورا ملکی و ریاستی ڈھانچہ، ہمارا پورا دفتری، عدالتی، انتظامی اور سرکاری نظام لارڈ میکالے کے رائج کردہ انگریزی نظام کے تحت چل رہا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں بھی انگریزی زبان اور انگلش میڈیم کو غلبہ حاصل ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں قطع نظر اس حقیقت کے کہ یہ تعلیمی ادارے معیاری ہیں یا غیر معیاری  انگلش میڈیم اداروں کا جال بچھا ہوا ہے۔ ان میں میٹرک کی تعلیم سے اُوپر کی سطح کے تعلیمی ادارے جن میں رسمی تعلیم کے اداروں کے ساتھ پروفیشنل اور فنی تعلیم کے ادارے اور اعلیٰ تعلیم دینے والی پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیاں وغیرہ شامل میں سبھی انگلش میڈیم کے پیٹرن یا طریقہ کار کے مطابق چل رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہمارا پورا امتحانی نظام بھی بڑی حد تک اسی طرز تعلیم پر انحصار کر رہا ہے۔ ان حالات میں انگلش میڈیم کے بجائے اُردو ذریعہ تعلیم یا اُردو میں مختلف مضامین کی نصابی کتب رائج کرنا یقینا کارِ دارد سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ کہنا بھی شائد غلط نہ ہو کہ ہمارے ہاں انگلش میڈیم اگر ایک طرح کا Status Symbol یا طبقاتی  برتری کی علامت بنا ہوا ہے تو اس کے ساتھ اسے محفوظ مستقبل کی ضمانت بھی سمجھا جاتا ہے۔ 

یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ انگریزی ذریعہ تعلیم کے تحت آکسفورڈ یونیورسٹی پریس یا اسی طرح کی کسی اور غیر ملکی ادارے کے ترتیب شدہ سلیبس کے مطابق تیار کردہ انتہائی مہنگی کتب باوجود اس امر کے کہ ان میں سے اکثر میں ایسا مواد بھی موجود ہو تا ہے جو ہمارے دین کی بنیادی تعلیمات اور مملکت پاکستان کے اساسی نظریے کی نفی کرتا ہے ہمارے ہاں کے انگلش میڈیم کی تعلیمی اداروں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ اس طرح ایک طرف تو یہ تعلیمی ادارے یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کا تعلیمی معیار کتنا بلند اور اعلیٰ ہے کہ ان کے ہاں اس طرح کی مشکل اور جدید ترین نظریات کی حامل کتابیں پڑھائی جا رہی ہیں تو اس کے ساتھ والدین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے انگلش میڈیم کے تعلیمی اداروں میں ایسی کتابیں پڑھ کر ہمارے بچے اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ مختلف طرح کے امتحانات، انٹری ٹیسٹ، مقابلے کے امتحانات، وفاقی و صوبائی پبلک سروس کمیشن کے تحت دوسری ملازمتوں کے لیے منعقدہ امتحانات اور فوج میں کمیشن وغیرہ حاصل کرنے کے ٹیسٹ اور امتحانات اور بیرونِ ملک یونیورسٹیوں میں داخلے کے امتحانات اور غیر ملکی ویزے حاصل کرنے میں کامیاب ہو کر اپنا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں۔ 

یکساں نصابِ تعلیم اور انگلش میڈیم کے بجائے اردو میڈیم کا نفاذ ایسا موضوع ہے جس پر ایک پورا مقالہ لکھا جا سکتا ہے۔ تاہم کالم میں اتنی گنجائش نہیں ہے۔ حرفِ آخر کے طور پر یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ وزیرِ اعظم عمران خان اگر خلوص دل سے چاہتے ہیں کہ ملک میں یکساں نصابِ تعلیم کا نفاذ عمل میں آجائے اور اس کے بعد اُردو ذریعہ تعلیم کا نفاذ بھی عملی جامہ پہن سکے تو اس کے لیے انھیں ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ مرحلہ وار اور بتدریج اس سمت میں کام کرنا ہوگا۔ پہلے مرحلے میں جیسے حکومت پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ جلد سے جلد میٹرک کی سطح تک تمام تعلیمی اداروں خواہ وہ اردو میڈیم ہوں یا انگلش میڈیم اور ان کا تعلق پبلک سیکٹر کے تعلیمی اداروں سے اور یا پرائیویٹ سیکٹر کے نجی اداروں سے ہو ان میں فی الفور یکساں نصابِ تعلیم کا نفاذ ہی عمل میں نہ لایا جائے بلکہ سختی سے اس کی مانیٹرنگ بھی کی جائے۔ بعد میں انگلش میڈیم کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قومی سطح پر ایسی منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کی جائے کہ قومی زبان اردو اور اُردو میڈیم کو جہاں اس کا جائز اور اہم مقام مل سکے وہاں انگلش میڈیم کا دائرہ کار بھی بتدریج محدود ہوتا جائے۔ اگر کسی ٹھوس منصوبہ بندی کے بغیر انگلش میڈیم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کا حشر بھی ویسا ہی ہوگا جیسے پچھلی صدی کے اسی کے عشرے کے دوران ہوا تھا جب صدر ضیا ء الحق کے دورِ حکومت میں 1979ء میں انگلش میڈیم کا نفاذ عمل میں لایا گیا اور 1989میں اسے بھاری پتھر سمجھ ترک کر دیا گیا۔