ایم حمزہ مرحوم: حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے

Ch Farrukh Shahzad, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

ٹوبہ ٹیک سنگھ سعادت حسن منٹو کا واحد افسانہ ہے جس کا نام ایک شہر کے نام پر رکھا گیا اور جس میں منٹو مرحوم نے اپنے مخصوص انداز سے ہٹ کر ایک انسانی المیے کو بے نقاب کیا ہے۔ ہمارا آج کا موضوع ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل گوجرہ ہے یہ شاید پنجاب کے 36 اضلاع کی واحد تحصیل ہے جو اپنی لوکیشن کی وجہ سے اپنے ضلع سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ 

اس ہفتے گوجرہ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے معمر ترین سیاستدان اپنے 56 سالہ طویل سیاسی کیریئر کے بعد 92 سال کی عمر میں اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ محترم ایم حمزہ پاکستان کی قومی سیاست میں امانت، دیانت، شرافت اور صداقت کا ایک عملی نمونہ اور رول ماڈل کی حیثیت رکھتے تھے جس کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے طویل سیاسی اور پارلیمانی کیریئر میں ان پر کرپشن بدعنوانی اقربا پروری اور اختیارات سے تجاوز کا ایک بھی الزام نہیں ہے، جس کا اعتراف ان کے سیاسی مخالفین بھی برملا کرتے رہے ہیں۔ 

وہ 1962ء سے 2018ء تک سیاست میں سر گرم رہے۔ وہ ہمیشہ جناح کیپ پہنتے تھے۔ انہوں نے بانی پاکستان قائداعظم کے محض لباس کو ہی نہیں بلکہ ان کی سیاست روایات اتحاد، ایمان، تنظیم کو پانے لیے مشعل راہ بنایا۔ ایک شخص جو کئی بار ایم این اے بنا ہو سینیٹ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بھی ہو اور وہ گوجرہ کے گلی کوچوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے بغیر گن مین، بغیر پروٹوکول، بغیر کسی پراڈو کلچر جناح کیپ پہنے سائیکل پر جا رہا ہو تو آپ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔ ان کی موت کے ساتھ ہی ایمانداری میرٹ اور مثالی سیاست کے ایک سنہری دور کا خاتمہ ہو گیا۔ بلاشبہ محترم ایم حمزہ کی پارلیمانی یوان سے رخصتی کے بعد بقول شاعر مشرق 

حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے 

گوجرہ کے ساتھ میرا بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ میرا ”شہر نسبتی“ بھی ہے جس وجہ سے وہاں کے سیاسی منظرنامے کا پتا چلتا رہتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان میں گوجرہ تین وجوہا ت کی بنا پر مشہور تھا۔ ہاکی، مند کی برفی اور ایم حمزہ یہ تینوں گوجرہ کی سب سے بڑی شناخت ہوا کرتے تھے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب یہ تینوں نہیں رہے۔ قومی ہاکی ٹیم کے 11 کھلاڑیوں میں 6-7کا تعلق گوجرہ سے ہوا کرتا تھا لیکن یہ کسی قومی سانحہ سے کم نہیں کہ گوجرہ کی گود اب ہاکی کے سٹار کھلاڑیوں سے خالی ہو چکی ہے جس کا خمیازہ پوری قوم نے بھگتا ہے۔ اسی طرح پارلیمانی سیاست میں محترم ایم حمزہ کا وہی کردار تھا جو ماضی میں گوجرہ کا ہاکی میں ہوتا تھا۔ ان دونوں پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد تیسرا مند کی برفی تھی جو پورے پاکستان میں سوغات ہوا کرتی تھی ہم مند کو عقل مند کا مخفف سمجھتے تھے کہ ایک چھوٹے سے شہر کی چھوٹی سی دکان اپنی کوالٹی کی وجہ سے اپنی پروڈکشن Capacity سے کہیں زیادہ شہرت حاصل کر چکی ہے مگر مغلیہ سلطنت کے زوال کے 

اسباب کی طرح مند کے نا اہل جانشین اپنی روایتی برفی کا وہ معیاراور Flavour برقرار نہیں رکھ سکے اور اس کا مستقبل بھی ہاکی جیسا ہو کر رہ گیا ہے مگر یہ ہمارا موضوع نہیں۔ 

محترم ایم حمزہ نے عملی سیاست کا آغاز مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی پارٹی سے کیا اور مغربی پاکستان کی مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے یہ 1962ء کی بات ہے۔ 1965ء کے ایوب خان کے انتخاب میں وہ ایک بار پھر منتخب ہوئے بلکہ کراچی کے بعد پورے پاکستان میں ایم حمزہ واحد فاطمہ جناح کے واحد امیدوار تھے جنہوں نے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے کامیابی حاصل کی۔ ایوب نے دس سال تک آہنی ہاتھوں سے سیاست دانوں کی کردار کشی جاری رکھی مگر ایم حمزہ کا شماران لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تاریخ کے اس اہم موڑ پر فوج کے سیاست میں کردار کو قانون ساز کونسل کے اجلاسوں میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ایوب کے آخری دور تک اس کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ 

وہ ایوب خان کے خلاف تحریک میں بھی کافی متحرک رہے۔ 1970ء کی دہائی میں ایم حمزہ نے ذوالفقاور علی بھٹو کے دور میں پیپلزپارٹی کے خلاف اپنی مزاحمتی سیاست جاری رکھی۔ 1977ء کی تحریک نظام مصطفی میں وہ PNA پنجاب کے چیئرمین تھے۔ 

ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں ایم حمزہ کی سیاست نے کروٹ لی جمہوریت کے کاز کی جو علمبرداری وہ ایوب خان کے دورسے جاری رکھے ہوئے تھے اس نے اپنا رخ بدل لیا۔ پارٹی پالیٹکس کی مجبوریاں ہوتی ہیں جب قومی اتحاد کے سیاستدانوں نے بھٹو کی مخالفت میں بغض معاویہ کے مصداق ضیاء الحق کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالا تو ایم حمزہ ضیاء الحق کی مجلس شوری کے ممبر بن گئے۔ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ حمزہ صاحب چونکہ ارائیں برادری سے تعلق رکھتے تھے لہٰذا ضیاء الحق کی حمایت کے پیچھے ارائیں فیکٹر بھی تھا۔ 1985ء سے 1997ء تک کا دور ان کی سیاسی زندگی کا نقطہئ کمال تھا ان کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے تھا اور وہ 1997ء میں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی تھے مگر وہ اپنے ضمیر کی آواز پر اپنی پارٹی قیادت اور نوا زشریف سے اختلاف کرتے تھے اور اس کا اظہار کھلے عام کرتے تھے لیکن جب 1999ء میں نواز شریف کا تختہ الٹا گیا تو انہوں نے پارٹی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فوجی حکومت کی مخالفت کی اور ق لیگ کی شکل میں پارٹی پر جو شبخون مارا گیا تھا حمزہ نے اس موقع پرستی کا حصہ بننے سے انکار کیا اور نواز شریف کی پوری طاقت کے ساتھ حمایت کی اور اپنے ضمیر کی سیاست جاری رکھی ورنہ وہ بھی ق لیگ جوائن کر کے وزارت حاصل کر سکتے تھے۔ ان کی اس اصولی حمایت پر نواز شریف کے دل میں ان کی قدر و منزلت بڑھ گئی۔ 

2002ء اور 2008ء کے انتخابات میں وہ ن لیگ کے ٹکٹ پر گوجرہ کی روایتی سیٹ سے کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ یہ وہ دور تھا جب سیاست میں پیسے اور طاقت کے مقابلے میں میرٹ اور اصولوں جیسی کرنسی نہیں چلتی تھی۔ 2012ء میں سینیٹ الیکشن میں ن لیگ نے انہیں سینیٹ کا ٹکٹ جاری کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایم حمزہ نے ٹکٹ کے لیے درخواست ہی نہیں دی تھی مگر نواز شریف کی خواہش تھی کہ ان کے لائف لانگ سیاسی تجربات سے پارٹی کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ وہ 2018ء تک سینیٹر رہے اور ایک بار پھر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ سینیٹ کی پانچ سٹینڈنگ کمیٹیوں کے رکن تھے۔ 

2018ء میں انہوں نے سیاست سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنے بیٹے اسامہ حمزہ کو اپنا جانشین بنایا مگر ن لیگ نے اسامہ حمزہ کے بجائے حمزہ صاحب کے دیرینہ حریف خالد جاوید وڑائچ کو Electable ہونے کی وجہ سے ترجیح دی۔ پارٹی سیاست کی خرابی یہ ہے کہ آپ الیکشن جیت جائیں تو آپ ہیرو ہیں اگر ہار گئے تو آپ کی پارٹی آپ کے مخالف امیدوار کے لیے دروازے کھول دیتی ہے جو پارٹی امیدوار کے زخموں پر نمک چھڑکنے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ حمزہ صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا یہ پی ٹی آئی کی پرواز کا دور تھا لہٰذا اسامہ حمزہ کو پی ٹی آئی نے ٹکٹ دیا مگر وہ خالد جاوید وڑائچ سے شکست کھا گئے۔ حمزہ صاحب کی بدقسمتی یہ تھی کہ ن لیگ کی خاطر انہوں نے ساری زندگی جن قوتوں کا تن تنہا مقابلہ کیا وہ آج لیگ میں ہیں جبکہ حمزہ فیملی نے اپنے لیے سیاست میں نئی راہیں تلاش کر لی ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ نصف صدی کی رفاقت کے اختتام پر ان کی موت پر نواز شریف اور شہباز شریف کی طرف سے رسمی تعزیتی بیان بھی سامنے نہیں آیا۔ 

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں 

کہیں سے آب بقائے دوام لا ساقی