سید علی گیلانی کا سانحہ ارتحال

Hameed Ullah Bhatti, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے کے نعرے پر پختہ یقین رکھنے والے سید علی گیلانی 92برس کی عمر میں اللہ کو پیارے ہو گئے یہ خبر نہیں ایک شاک تھابے اختیار آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے کچھ دکھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آنکھوں کے گوشے بھگو دیتے ہیں کچھ آنسو ؤں میں شفا محسوس ہوتی ہے سید علی گیلانی کے ارتحال کی خبر پرایسے ہی تھے دینی،سیاسی،سماجی ہر حوالے سے وہ اِتنے بڑے لیڈرتھے جن کے جسدِ خاکی سے بھی قابض فوج خوفزدہ تھی انھوں نے برسوں قبل بعد ازمرگ کشمیریوں کے جس قبرستان میں دفن ہونے کی خواہش کی تھی قابض فوج نے وہ خواہش بھی پوری نہیں ہونے دی بیوہ،بیٹا اور بہوسمیت لواحقین کوتشدد کانشانہ بناکر کمرے میں بند کردیا اور پاکستانی پرچم میں لپٹا جسدِ خاکی چھین لیا تدفین پر بھارت کی اِس بزدلی، تشدد اور سفاکی نے انسانیت کو شرمندہ کر دیا مگر بھارتی فوج کو انسانیت کی پروا ہی کب ہے اُسے کشمیریوں کی بجائے کشمیری زمین سے غرض ہے فوج نے سخت محاصرے میں صبح ساڑھے چار بجے غسل دیے بغیرہی حیدرپور ہ کے قبرستان میں اِن حالات مین تدفین کر دی کہ بمشکل خاندان کے چند افراد ہی نمازِ جنازہ میں شریک ہو سکے یہاں تک کہ غمزدہ بیٹانسیم گیلانی اپنے والد کی تدفین کی جگہ سے لاعلم ہے سیدعلی گیلانی کے داماد معروف صحافی افتخار گیلانی جو سُسر کی وفات پر غم و اندوہ میں تھے ساس پرفوجیوں کے تشدد سے غم وغصے میں ہیں سفرِ آخرت کے دوران بہیمانہ سلوک پر مقبوضہ کشمیر،پاکستان سمیت دنیا بھرکے مسلمان غم وغصے میں ہیں جس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی عدالت میں کیس چلانے کا مطالبہ کیا ہے لیکن ہندوتوا کی علمبردار مودی حکومت کو کسی کی پروا نہیں جس کا مسلم امہ کو نوٹس لینا چاہیے۔

 سید علی گیلانی نے چودہ برس سے زائد عرصہ بھارتی سامراج کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں ریاست اور ریاست کے باہر جیلوں میں گزاردیا اصولی موقف نہ چھوڑاساری زندگی جذبہ حُریت کی پرورش کی اورآزادی کشمیر اور پاکستان کی محبت پر سمجھوتہ نہ کیا بلاشبہ وہ اول وآخر پاکستانی تھے پاکستانیوں کو بھی اُن سے والہانہ محبت ہے وہ پاکستانیوں سے زیادہ پاکستانی تھے سید علی گیلانی کی رحلت کسی سانحہ سے کم نہیں وہ پاکستان کو دل وجان سے چاہتے تھے اور پوسٹر بوائے کے لقب سے بھی معروف تھے ظلم کو آخر کار مٹنا ہے برہان وانی جیسے حریت پسند نوجوان بھی انھوں کی سوچ سے متاثر تھے وہ ماہ ستمبرکے آخر میں پیدا ہوئے اور اسی ماہ کے آغاز میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

29ستمبر 1929کو سید علی گیلانی تحصیل بانڈی پورہ کے علاقے زوری منز میں پیدا ہوئے بعد میں آپ کے والدین 1950میں سوپور جا کر آباد ہوگئے وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی انھوں نے 

لاہور اورینٹل کالج سے ادیب عالم کی سند حاصل کی بعدازاں ادیب فاضل اور منشی فاضل کی ڈگری کشمیر یونیورسٹی سے لی اور 1950 میں بحیثیت اُستاد ملازمت اختیار کی اور کشمیر کے مختلف سکولوں میں بطور معلم بارہ برس تک درس وتدریس کے پیشے سے منسلک رہے وہ جہاں بھی گئے کشمیر کی آزادی کا پر چار کیا حریت پسندانہ خیا لات کی بنا پر پہلی بار28 اگست 1962 میں گرفتار ہوئے اور تیرہ ماہ تک اسیررہے قابض فوج کاکوئی بھی ظلم اُن کے پایہ استقلال میں لغزش نہ لاسکاسید علی گیلانی نے ایوانوں میں آزادکشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے انتخابات میں بھی حصہ لیااور1972،1977،1987کے انتخابات میں سوپورکے علاقے سے کامیاب ہوئے وہ پندرہ سال تک اسمبلی کے ممبر رہے لیکن بھارت کے ظلم وجبر سے کشمیریوں کی بڑھتی مشکلات کے پیشِ نظر30  اگست1989کو اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہو کر اپنی زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے وقف کر دی وہ تحریکِ حریت اور حریت کانفرنس کے چیئر مین اوررابطہ عالم اسلامی کے ممبر بھی رہے وہ پاکستان کو عالم ِ اسلام کی امیدوں کا محور قرار دیتے تھے حریت قیادت کی اِس توانا آواز سے ہر بھارتی حکومت خوفزدہ رہی موجودہ جنونی حکومت کے تو وہ خاص طور پر تختہ مشق رہے مگر بطلِ حریت گیلانی نے رتی بھرموقف میں نرمی نہ کی۔

پرویز مشرف نے دورہ بھارت کے دوران سید علی گیلانی سے سامنا کرتے ہوئے سردمہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر انداز کیا نواز شریف نے بھی نریندر مودی کے وزیرِ اعظم بننے کی تقریب میں شریک ہو کر حریت قیادت سے ملاقات نہ کی حالانکہ یہ روایت ہے کہ جوبھی پاکستانی سربراہ بھارت آتاہے وہ حریت قیادت سے ضرور ملاقات کرتاہے لیکن نوازشریف نے یہ روایت ختم کردی جس پر سید علی گیلانی نے کہاکہ ہمارا تعلق پاکستانی حکمرانوں سے نہیں پاکستان سے ہے اور یہ تعلق کسی حکمران سے ملنے یا نہ ملنے سے کمزور نہیں ہو سکتا۔

سید علی گیلانی کئی کتابوں کے مصنف اورایک شعلہ بیان مقرر تھے کشمیر کی آزادی اور اقبال کی شاعری سے عشق کبھی کم نہ ہوا مولانا مودودی کے فلسفہ سے بے حد متاثر تھے جب بھی تحریک کشمیر لکھی جائے گئی توسید علی گیلانی کا تذکرہ ضرور ہوگا وہ آخری وقت بھی نظر بند تھے اور اسی نظربندی کے دوران خالقِ حقیقی سے جاملے زندگی بھر کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ اُن کے لبوں پر رہا اسی وجہ سے بھارت کی قابض سرکار نے آخری رسومات کے دوران بھی نفرت ظاہر کرتے ہوئے ظلم جاری رکھا سید علی گیلانی نے بھارت کے یوم آزادی پندرہ اگست کو یوم سیاہ اور پاکستان کا یومِ آزادی 14 اگست جوش و جذبے سے منانے کی روایت شروع کی۔

5اگست 2019کو بھارتی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں بدل کر جیل بنادیا اور دنیا سے تمام مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے اور نوجوانوں، بچوں،بوڑھوں اور خواتین پر ستم ڈھانے کا وسیع پیمانے پر سلسلہ شروع کیا تو پیرانہ سالی کے باوجودسید علی گیلانی کی آوازکڑک دار تھی کشمیر میں 74برس سے جاری تحریک پر سید علی گیلانی کا عکس بہت واضح ہے دارِ فانی سے کوچ کرنے سے قبل گیارہ برس سے گھر میں ہی نظر بند تھے جس سے اُن کی صحت پر انتہائی منفی اثرات ہوئے مزید ستم یہ کہ حکومت نے علاج و معالجہ سے بھی محروم رکھا بلاشبہ یہ ایک صریحاََ قتل ہے اور بھارت کے سوا کہیں ایسی نظیر نہیں ملتی کہ بیمار کے لیے علاج کی سہولت ختم کر دی جائے عمران خان نے سید علی گیلانی کانعرہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے دہراتے ہوئے سرکاری طور پر سوگ کا اعلان کیا آزادکشمیر حکومت نے بھی ایک دن کی تعطیل کے ساتھ تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی جدوجہد کا استعارہ ہونے کے ساتھ سید علی گیلانی الحاق پاکستان کی توانا آواز تھے جن کی دینی،سیاسی اور آزادی کشمیر کے لیے گراں قدر خدمات ہیں اُن کی پاکستان سے محبت و عقیدت بے مثل ہے اللہ اپنے پیارے حبیبؐ کے صدقے کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔