ایک سجدہ بہ چشم ِنم!

 ایک سجدہ بہ چشم ِنم!

ملک خوفناک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں، انفرادی اور اجتماعی ہر نوعیت کے چھوٹے بڑے گناہوں میں یوں لت پت ہیں کہ گناہ کا گناہ ہونا اب معلوم نہیں رہا۔ گناہ، نافرمانیٔ رب تعالیٰ کو ہلکا جاننا بذاتِ خود گناہِ عظیم ہے۔ دین سے جہل اور لاعلمی فی نفسہٖ ہماری تباہی کا سامان ہے۔   

جتنے گناہوں پر تنبیہات آئیں بالخصوص اخلاقی گناہ وہ ملک بھر میں خوفناک حدوں کو چھو رہے ہیں۔ عورت اور بچوں کے خلاف گروہ در گروہ اخلاقی جرائم نے ہمیں سر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ وڈیوز بناکر ثبوت فراہم کرنے کی بے باکی نے ہولناکی کے ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں بچے بچیاں کچرا بنا دیے۔ تعلیمی اداروں کے حد شکن مخلوط ماحول میں پنپتے اخلاقی گناہ تعفن پھیلا رہے ہیں، ترقی اور آزادی کے نام پر۔ خلافِ شریعت اپنے حکم جاری کرنے والا طاغوت کہلاتا ہے۔ بندگی کی حد توڑکر طغیانی دکھانے والا۔ قوم آنکھیں بند کرکے معاشی، معاشرتی، تعلیمی ،اللہ کی حدیں توڑ رہی ہے۔ ایسے میں دریا طغیانی میں نہ آئیں، بادل شق نہ ہو جائیں، بند ٹوٹ نہ جائیں تو اور کیا ہو۔ یہ سنت الٰہی ہے۔مردان کی ’معروف‘ ٹک ٹاکر (خبر میں یہی لکھا ہے) چھاپہ مار کر قحبہ خانہ چلاتی دھری گئی۔ فسق وفجور، نافرمانی، بے حیائی کے سیلاب دھونے کو کیا اتنا بے پناہ پانی درکار ہوتا ہے، ہم نے سوچا بھی نہ تھا۔

باوجویکہ جون کے وسط سے جولائی تک سندھ بلوچستان سیلاب کی گرفت میں آچکے تھے۔ بپھرے دریا، ٹوٹتے ڈیم، ڈوبتے شہر دیکھے جاسکتے تھے۔ 2 اگست کو ہیلی کاپٹر بھی کریش ہوا۔ اس سب کے باوجود قوم 14 اگست کی رنگینیوں میں ادنیٰ درجے کی کمی نہ لائی۔ ناچتے گاتے بھونپو بجاتے عوام، بڑے لیڈر سب سیاسی جلسوں میں بانیٔ پاکستان کے نعرے کام، کام اور بس کام کی جگہ۔ ناچ، ناچ اور بس ناچ، گانا۔ 75 سال کا جشن، خود احتسابی، فکرِ فردا کی جگہ کنونشن سینٹر کا جشن تھا۔ گویا شہدائے پاکستان (1947ء) کی یاد میں سارنگیاں بجاتا دھمالیں ڈالتا یہ مخلوط اکٹھ قربانیاں دینے والوںکو خراج تحسین پیش کر رہا تھا۔ سودی قرضوں میں ڈوبے پاکستان کا خزانہ آتش بازیوں (تبذیر) آرائشی قمقموں پر بہایا گیا۔

 پہلے سے امڈتے سیلاب کی تندی میں کتنا اضافہ ہوا، روئیں روئیں میں خوف اتر آتا ہے۔ ’خدا ناراض کر بیٹھے‘ کے عنوان سے سیلابی مناظر دکھاتی وڈیو (سوشل میڈیا میں) ہمارے قومی گناہوں پر شرق تا غرب ٹوٹ پڑنے والے عذاب کا ہولناک ایکسرے ہے۔ آسمان پر خوفناک سیاہ بادل، نیچے پیچ وتاب کھاتے بھنور بناتے ہوئے سیاہ پانی کا غیظ وغضب پوری فضا کو ہیبت اور دہشت سے بھر رہا ہے۔ اس پانی میں سب گناہوں کی آمیزش دیکھی جاسکتی ہے۔ کفر کی ایماء پر ملک کے چہرے سے اسلام کی شادابی کی ہر رمق کھرچ کر اسے امریکی غلامی کی تاریکیوں میں دھکیلنے کی سیاہی۔ کراچی میں علماء اور اہل ایمان کی ٹارگٹک کلنگ، وحشت کی سالہا سال کی حکمرانی۔ لال مسجد جامعہ حفصہ پر حملہ، اور مقدس اوراق جلے دیکھے گئے۔ یہ سب کرتوت، کالے سیلابی پانی میں ڈھل گئے۔

 یہاں LGBT کے مغضوب ترین جرم کو عام کرنے کی محنت وکی پیڈیا تک پر حصہ پا چکی کلمے پر بنے اس ملک میں۔ لوٹ مار کرپشن شفافیت کے دعویداروں سمیت بلااستثناء ہر حکمران کی۔ زمینوں کی خوردبرد کے لامنتہا اسکینڈل بھوری زمینوں کو نگلتے اس پانی کی بپھری موجوں میں عیاں۔ ضرورت ہے کہ کالی عینکیں اتارکر کالی اسکرینوں پر اپنے جلسے نہیں ،ایشیا کپ کرکٹ میچ نہیں،یہ وڈیو ملک بھر میں دکھاؤ۔ یہ ہمارے تمہارے اعمال کی وڈیو ہے جو ہر ذی شعور کو بے اختیار سجدے میں گرا دیتی ہے۔ اس پانی کو روکنے کے لیے پانی ہی درکار ہے۔ ہر آنکھ سے امڈتے اشکِ ندامت کا پانی، شرمساری میں غرقابی والے پسینے کے قطروں کا، عرقِ انفعال کا پانی! آئیے چندہ کریں ملک بھر سے ان آنسوؤں کا، توبۃ النصوح کے ساتھ اللہ کے حضور سجدہ بہ چشم نم کا    ؎

تجھے اے فلک میری کیا خبر، ہے دراز عمر تری مگر

 تیری لاکھ سال کی طاعتیں، میرا ایک سجدہ بہ چشمِ نم!

آئیں ملک کو صاف کریں۔ صرف اس کچرے کی تباہی بربادی والے اینٹ گارے سے نہیں۔ گناہوں کے ڈھیر سے بھی جو ہم نے روشن خیالی میں لگا ڈالے۔ چلیں مساجد آباد کریں۔ عورت اپنا لباس مکمل کرے، حیا شعار بنے۔ شاید رب راضی ہو جائے!

اس وقت پوری یکسوئی کے ساتھ خدمتِ خلق کی ضرورت ہے جو فی نفسہٖ اللہ کی رضا پانے کا ذریعہ ہے۔ اللہ کو رب مان کر اس ایک کی محبت اور اطاعت میں اس کے بندوں کی تکلیف پر تڑپ کر کھڑے ہوجانے اور تن من دھن سے خدمت میں جت جانے والے۔ جوزیرِ لب دعاؤں اور استغفار کے ساتھ نمناک جتے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی خدمات اعلیٰ ترین درجے میں قبول فرمائے۔ (آمین) آزمائش کی اس گھڑی میں یہی امید کی کرن ہیں۔دوسرا محاذ جس پر توجہ درکار ہے وہ تعلق باللہ ہے۔ سیکولر دانش ہمیں معاف ہی رکھے۔ حقائق سے اعراض برت کر زمین آسمان کی ساری کوڑیاں لاکر پاکستان کو سیکولر بنانے یا بانیان سے اسے منسوب کرنے کی جسارت کرنے پر ہم خالقِ پاکستان، رب تعالیٰ کا غضب باربار مول لیتے رہے ہیں۔ 27 رمضان المبارک میں اس کا وجود پذیر ہونا ہی دلیل قاطع ہے۔ سو ہمیں اسے اسلام اور ایمان کی پاکیزگی پر لوٹانا ہوگا۔ 

14 اگست ہمارا اور 15 اگست افغانستان کا یومِ آزادی ہے۔ہم نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ افغانستان نے انسانی تاریخ کے بہت بڑے معجزے سے امریکا کو انخلاء پر مجبور کرکے بے مثل آزادی حاصل کی۔ فرق یہ ہے کہ امریکا نے یہ مہربانی کی کہ اپنے مقامی افغان گماشتے (ایک لاکھ 22 ہزار) نکال کر ہمراہ لے گئے۔ چنانچہ حکومت خالصتاً آزاد افغانوں (طالبان) نے بنائی۔ اسی بنا پر یکجہتی، یکسوئی، اخوت کی دولت سے وہ مالامال ہیں، مشکل معاشی حالات کے باوجود۔ ہمارا المیہ یہ رہا کہ برطانیہ اپنے وفادار، جو برصغیر کے مسلمانوں کے قتل وغارت میں افغان کٹھ پتلیوں کی مانند فرنٹ لائن مددگار تھے، انہیں یہیں چھوڑ گیا۔ نہ صرف چھوڑا بلکہ جاگیریں اور حکومتیں انہی کے حوالے کرگیا۔ ان کی اولادوں کو اپنے ہاں تعلیم تربیت دے کر قریشیوں، گیلانیوں، کھروں جیسے ملک بھر میں ہر پارٹی میں، مناصب پر یہ براجمان ہیں۔ ان ہی کی صورت اپنی حکومت کا تسلسل اس نے قائم رکھا۔  آزادی کے نعروں کی بازگشت پی ٹی آئی سے سننے کو ملی۔ پسِ پردہ امریکا میں کرائے کی لابنگ فرم کے ذریعے امریکی سینیٹر اور کانگریس مین کے ہاں عمران خانی حکومت کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں۔اپنے پچھلے بیانات بھلاکر (دروغ گو حافظہ نہ دارد۔) وہ اس فخر سے پھولے نہیں سما رہے کہ ’میری ٹرمپ سے فون پر بات ہوئی ہے۔ ری پبلکن پارٹی سے ہمارے مراسم اچھے ہیں!‘ الیکشن لڑنے ہیں ٹنڈوآدم اور جہلم میں۔ لابنگ اس کے لیے ہوگی امریکا میں! ٹنڈوآدم پانی میں ڈوبا ہے، خدمت کرکے ان کے ووٹ لینے کی بجائے براستہ امریکا اسلام آباد کی کرسی پر فائز ہونا چاہتے ہیں۔  

 اللہ کی پکڑاچانک آتی ہے، (کلمح بالبصر) چشمِ زدن میں خوفناک فیصلے مسلط کر دیتی ہے۔ ہم 2005ء میں زلزلے سے ہلا مارے گئے مگر نہ سدھرے۔ سیکولر لکھاریوں، کالم نویسوں نے ’عذابِ الٰہی‘ کی نفی کرتے کالم کالے سیاہ کر ڈالے۔ 2010ء میں دوبارہ سیلاب کے تھپیڑوں نے ہمیں یاد دہانی کروائی، ہم پھر بھلا بیٹھے۔ مگر اب جو قیامت ٹوٹی ہے، قوم متوجہ ہو۔ اپنی تقدیر خدا بیزار طبقوں کے حوالے نہ کرے۔ ’جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے، اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ ان کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے۔‘ (النجم۔ 29-30) ہماری دنیا وآخرت کا سوال ہے۔ 

گزشتہ چند سالوں میں قرضوں کے بوجھ تلے مزید کئی گنا دب جانے کا نتیجہ ہے کہ ہم معاشی مفلسی، کسمپرسی کے اس بھنور میں پھنسے ہیں۔عمران خان دروغ گوئیوں کے طومار باندھ رہے ہیں۔ وہ ملک کو اس حال پر پہنچانے میں برابر کے شریک ہیں۔ شاطرانہ حربوں اور الطاف حسین جیسی بڑھک بازیوں سے حقائق بدلے نہیں جاسکتے۔ دو منہ اور دس زبانوں کی یلغار سے قوم کو دیوانہ بنا رکھا ہے۔ اس وقت المیہ یہ ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بیچ سیاسی مفادات اور جھگڑے بالائے طاق رکھ کر یک جان یک زبان ہوکر بستی بستی اجڑنے والی تباہ حال آبادیوں کی بحالی پر توجہ مرکوز کی جاتی۔ ملک کو اس وقت یکسوئی، یکجہتی اور رجوع الی اللہ کی اشد ضرورت تھی مگر اوئے توئے سے آج بھی فرصت نہیں۔

پی ٹی آئی نے آخر تک زور لگایا کہ کسی طرح آئی ایم ایف کی قسط نہ ملے۔سو مفتاح اسماعیل نے شکر گزاریوں کے ڈونگرے بلاسبب نہیں برسائے! ان کی جان میں جان آگئی۔اللہ سے صرف ’الحمدللہ‘ کہنے پر اکتفا کیا ہے۔ اللہ کو مولوی راضی کرتے رہیںگے! یہ صاحب تو پانچ قسم کے مالیاتی اداروں اور چین، امریکا، یورپ کے در پر بیٹھے تھے، آسمان کی طرف رحم طلب نظروں یا تشکر سے دیکھیں تو کیونکر۔ آسمان پر غیرمعمولی کالے سیاہ گھنے بادلوں کا ڈیرہ ہے۔ یہاں غضِ بصر اور تجاہل عارفانہ ہی بھلا۔ دینی قوتوں، نظریۂ پاکستان کے رکھوالوں اور خلافت کی چاہت میں زندگیاں کھپانے والوں کے سامنے بے لاگ ایکسرے رکھ دیا ہے۔ اللہ کا غضب روئیں روئیں میں خوف بھر دینے والا ہے۔ ملک بچانا ہے تو عطا کرنے والے مالک حقیقی کو راضی کرنے کی سبیل کرنی ہوگی۔

مصنف کے بارے میں