ریسلر بل گولڈ برگ نے بھی ریسلنگ کو خیرباد کہہ دیا

ریسلر بل گولڈ برگ نے بھی ریسلنگ کو خیرباد کہہ دیا

 ریسلر بل گولڈ برگ نے بھی ریسلنگ کو خیرباد کہہ دیا

نیو یارک: ریسل مینیا 33 انڈر ٹیکر کی ممکنہ ریٹائرمنٹ کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں کافی عرصے تک نقش رہنے والا ایونٹ ثابت ہوگا تاہم ایک اور لیجنڈ ریسلر بل گولڈ برگ نے بھی لگتا ہے کہ اس شعبے کو الوداع کہہ دیا ہے۔انڈر ٹیکر نے تو اپنے دستانے، اوور کوٹ اور ہیٹ رنگ میں چھوڑ کر علامتی انداز سے ریسلنگ کو خیرباد کہنے کا اشارہ دیا تاہم بل گولڈ برگ نے پیر کی شب را کا وقت ختم ہونے پر لوگوں سے خطاب کیا۔اس خطاب میں انہوں نے ایسے الفاظ کہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ریسلنگ سے ریٹائرمنٹ لے رہے ہیں۔


ریسل مینیا 33 میں گولڈ برگ کو یونیورسل چیمپئن شپ میچ میں بروک لیسنر کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور وہ منڈے نائٹ را میں آن اسکرین بھی نظر نہیں آئے۔گولڈ برگ گزشتہ سال نومبر میں 12 سال کے طویل عرصے بعد ریسلنگ کی دنیا میں واپس آئے اور سروائیور سیریز میں بروک لیسنر کو محض 86 سیکنڈ میں شکست دے کر سب کو حیران کردیا۔یر کی شب گولڈ برگ نے کہا کہ انہیں پرستاروں کی جانب سے ان پر آوازیں کسنا اور بروک لیسنر کو سراہنا اچھا نہیں  آپ لوگ مجھے سراہا یا مسترد کرسکتے ہیں، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ میرا بیٹا میرے دل کے بدستور دھڑکنے کا باعث ہے۔

انہوں نے تمام پرستاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈبلیو ڈبلیو ای کو رنگ میں واپسی کا موقع دینے پر بھی شکرگزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا  یہ ممکنہ طور پر آخری بار ہے جب آپ مجھے رنگ میں دیکھ رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے جملے کا اختتام ان الفاظ پر کیا ' زندگی میں کچھ بھی ممکن ہے'، جو ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں ان کے ڈبلیو ڈبلیو ای میں مستقبل قریب میں واپسی کا دروازہ کھولے۔