سعودی عرب میں 35 سال بعد پہلا سینماگھر کھول دیا جائے گا

سعودی عرب میں 35 سال بعد پہلا سینماگھر کھول دیا جائے گا

فوٹو:سوشل میڈیا

ریاض: سعودی عرب جدت کی جانب رواں دواں ہے اور اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ بھی ہے کہ مملکت میں 35 سال بعد سینما گھر کھول دیا جائے گا جس کا لائسنس ایک امریکی کمپنی کو دیدیا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں 18 اپریل کو پہلا سینما گھر کھول دیا جائے گا جس میں پہلی ہالی ووڈ فلم’ بلیک پینتھر دکھائی جائے گی۔سینما گھر کھولنے کا پہلا لائسنس دنیا میں سینما گھروں کی سب سے بڑی امریکی کمپنی اے ایم سی کو جاری کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شام میں جاں بحق 99 ہزار افراد کی تصاویر اجتماعی صورت میں جاری کردی گئیں

سعودی وزارتِ اطلاعات اور ثقافت نے اس معاہدے کی تصدیق کردی ہے جب کہ اے ایم سی کے ترجمان رائن نونان نے برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب کے پبلک انویسمنٹ فنڈ کا ایک ذیلی کمپنی اور اے ایم سی کے مابین معاہدہ طے پاگیا ہے جب کہ اے ایم سی کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض میں 18 اپریل کو پہلا سینما گھر کھولا جائے گا۔


واضح رہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ 35 سال سے سینما گھروں پر پابندی تھی اور اب طویل عرصے کے بعد دنیا بھر میں 1 ہزار سینما گھر چلانے والی کمپنی اے ایم سی مملکت میں پہلا سینما گھر کھولے گی۔

یہ بھی پڑھیں:’پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے‘ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،فیصل آباد کا جڑانوالہ روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار
ترجمان کے مطابق امریکی کمپنی آئندہ 5 سال میں سعودی عرب کے 15 شہروں میں 40 سینما گھر قائم کرے گی جب کہ 2030 تک 100 سے زائد سینما گھر کھولے جائیں گے جس کے بعد سعودی سینما کا سالانہ ریونیو ایک ارب ڈالر ہوگا اور سعودی عرب سینما کی سب سے بڑی علاقائی مارکیٹ ہوگی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں