مارچ میں بڑی ادائیگیوں کی وجہ سے ڈالر کی طلب تھی، اب روپیہ مزید ڈی ویلیو نہیں ہوگا:اسٹیٹ بینک

مارچ میں بڑی ادائیگیوں کی وجہ سے ڈالر کی طلب تھی، اب روپیہ مزید ڈی ویلیو نہیں ہوگا:اسٹیٹ بینک
فائل فوٹو

کراچی : ملک میں روپے کی مسلسل گھٹتی ہوئی قدر اور ڈالر کے مہنگا ہونے پر اسٹیٹ بینک متحرک ہو گیا۔


ایکسچینج کمپنیوں سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک سید عرفان شاہ نے ملاقات کی۔ملاقات میں حکومتی نمائندوں کی جانب سے ڈالر کے ریٹ 150 روپے تک جانے کے بیانات سے عوام میں منفی پیغام پھیلنے، ڈالر کی قیمتوں کو پر لگ جانے اور روپے کی قدر میں مزید کمی اور ڈالر کے مارکیٹ سے غائب ہو جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

عرفان شاہ کا کہنا تھا کہ مارچ میں بڑی ادائیگیوں کی وجہ سے ڈالر کی طلب تھی، اب روپیہ مزید ڈی ویلیو نہیں ہوگا، نہ ہی حکومت کا ایسا کوئی ارادہ ہے، انٹربینک میں جب ڈالر کی طلب زیادہ ہوگی تو وقتی طور پر ڈالر کا ریٹ بڑھے گا جس کے بعد ریٹ خود بخود کم بھی ہوگا۔

قبل ازیں سید عرفان علی شاہ نے ملاقات میں دریافت کیا کہ فری مارکیٹ میں ڈالر مہنگا کیوں ہو رہا ہے، فری مارکیٹ میں ڈالر کی قلت کا بھی سامنا ہے، جس پر فاریکس ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر ملک محمد بوستان نے کہا کہ حکومت میں شامل افراد کے بیانات کی وجہ سے ڈالر کا ریٹ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے ایس بی پی کے ڈائریکٹر فارن ایکسچینج عرفان شاہ کو بتایا کہ حکومت کے ایڈوائزری کونسل کے رکن ڈاکٹر اشفاق حسن ڈالر کے 150 روپے تک جانے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔

ملک بوستان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے وفد کے دورہ کرنے سے پہلے پانچ مارچ کو ڈالر 138.50 روپے کا تھا، ایک ماہ میں ڈالر تین روپے مہنگا ہوا، حکومت خود فری فلوٹ نظام کا اعلان کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حج و عمرہ سیزن میں عازمین حج کو تقریباً 6 ارب ڈالر کے مساوی زر مبادلہ درکار ہے، لیکن اب ڈالر کی ڈیمانڈ دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔