نذیر چوہان کی علیحدگی، ترین گروپ نے بھی ردعمل دیدیا

نذیر چوہان کی علیحدگی، ترین گروپ نے بھی ردعمل دیدیا
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ترین ہم خیال گروپ نے نذیر چوہان کی جانب سے گروپ چھوڑنے کے اعلان کو حکومتی دباؤ اور نذیر چوہان کی انفرادی کمزوری قرار دیدیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق ہم خیال گروپ نے بیان میں کہا کہ نذیر چوہان کو سمجھایا تھا کہ سیاست میں سیاسی بات ہونی چاہئے کسی پر مذہبی الزام تراشی کرنا مناسب نہیں مگر وہ شہزاد اکبر پر مسلسل مذہبی الزام تراشی کرتے رہے، امکان ہے کہ حکومت میں شامل بعض سازشی عناصر نذیر چوہان کو استعمال کر کے جہانگیر ترین کے خلاف نئی مہم شروع کریں گے۔

ترین گروپ نے جہانگیر ترین پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان ہمارے قائد اور جہانگیر ترین ہمارے لیڈر ہیں ،جہانگیر ترین کی قیادت میں تمام 28 اراکین اسمبلی یکجا، متحد اور مضبوط ہیں،آئندہ چند روز میں گروپ ارکان ایک تقریب میں جمع ہو کرجہانگیر ترین پر اپنے اعتماد اور گروپ کی یکجہتی کا اظہار کریں گے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ترین گروپ کے چند دیگر ارکان بھی ان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور بہت جلد وہ بھی علیحدگی کا اعلان کریں گے۔ گزشتہ روز نذیر چوہان نے جیل سے رہا ہونے کے بعد صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترین ہم خیال گروپ سے علیحدگی کا اعلان کیا اور جہانگیر ترین کے خلاف بھی بیان دیا۔

نذیر چوہان کی علیحدگی کے حوالے سے ترین گروپ کے پاس کئی روز سے یہ اطلاعات موجود تھیں کہ وہ اپنی چند مجبوریوں اور کمزوریوں کی وجہ سے حکومت کے دباؤ میں ہیں۔ رکن قومی اسمبلی اور ترین ہم خیال گروپ کے سینئر رکن راجہ ریاض نے نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نذیر چوہان جذباتی اور گرم مزاج انسان ہیں، انہیں دھیمے اور مستقل انداز میں سیاست کرنا چاہئے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ نذیر چوہان اپنی خواہش اور رضامندی کے ساتھ ہمارے گروپ میں شامل ہوئے تھے ، اس وقت ان کا کہنا تھا کہ ترین ہم خیال گروپ ایک جہاد کر رہا ہے اور میں اس میں ضرور شامل ہوں گا، نذیر چوہان کو مذہبی معاملات پر بیان بازی سے روکا تھااور سمجھایا تھا کہ سیاست میں سیاسی بات کی جاتی ہے مذہبی الزامات عائد نہیں کئے جاتے۔ 

نذیر چوہان نے شہزاد اکبر پر الزام عائد کر کے نامناسب حرکت کی ، جہانگیر ترین سمیت ہم سب ساتھیوں نے اسے مذہبی الزام تراشی سے منع کیا تھا، شہزاد اکبر کی وضاحتی ٹویٹ کے بعد دوبارہ نذیر چوہان کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ کسی کی سننے کو تیار نہیں تھے۔