فارن فنڈنگ کا ٹیسٹ کیس

فارن فنڈنگ کا ٹیسٹ کیس

پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے اثرات تمام تر تعلق حکومتی عزم میں پوشیدہ ہے۔ الیکشن کمیشن نے تحریری طور پر متفقہ فیصلے میں کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے ممنوعہ فنڈز لیے ہیں پی ٹی آئی نے جانتے بوجھتے عارف نقوی سے فنڈز وصول کئے۔ پی ٹی آئی کو ممنوعہ ذرائع سے عطیات اور فنڈز موصول ہوئے۔ فنڈ ریزنگ میں 34 غیر ملکی ڈونیشنز لی گئیں۔ امریکا، آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات سے عطیات لیے گئے۔ تحریکِ انصاف نے امریکی کاروباری شخصیت سے بھی فنڈز لیے۔پی ٹی آئی کے مجموعی طور پر 16 بے نامی اکائونٹس نکلے۔ پی ٹی آئی کی لگ بھگ ایک ارب روپے کی فنڈنگ کے ذرائع معلوم نہیں۔اکاونٹ چھپانا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے فارم ون جمع کرایا جو غلط تھا۔پارٹی اکائونٹس سے متعلق دیا گیا بیانِ حلفی جھوٹا ہے سیا سی جماعتوں کے ایکٹ کے آرٹیکل 6 سے متعلق ممنوعہ فنڈنگ ہے۔پی ٹی آئی نے 34 انفرادی، 351 غیر ملکی کاروباری اداروں بشمول کمپنیوں سے فنڈز لیے۔ پی ٹی آئی نے بھارتی نژاد امریکی خاتون رومیتا شیٹھی سے 13 ہزار 750 ڈالرز ممنوعہ فنڈنگ لی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اس جامع فیصلے میں کئی اور نکات کا احاطہ کیا گیا ہے جن سے یہ واضح کردیا گیا ہے کہ یہ صرف کرپشن کا معاملہ ہی نہیں بلکہ غیر ملکیوں سے فنڈنگ لینے کے سبب سکیورٹی کا ایشو بھی بن گیا۔تیسری اہم ترین بات یہ ہے کہ عمران خان نے بطور پارٹی سربراہ اپنے حلفیہ بیانات میں غلط بیانی کی ۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ حکومت اس حوالے سے کارروائی کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے ۔آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق ممنوعہ یا فارن فنڈنگ ثابت ہوجائے تو الیکشن کمیشن ریفرنس بھیجے گا کہ فنڈ ضبط کر لیا جائے۔ حکومت آرٹیکل 17 کے تحت وزارتِ داخلہ کے ذریعے سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجے گی  سپریم کورٹ کا فل کورٹ ریفرنس پر سماعت کرے گا، اگر  پارٹی کالعدم ہوتی ہے تو تمام ارکان  اسمبلی فارغ ، دفاتر اور اکائونٹس ضبط ہو جائیں گے۔یہ تو ہے قانونی بات لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں کی کردار کشی کے لیے جو ففتھ جنریشن میڈیا وار بریگیڈ بنایا تھا وہ بوتل سے باہر نکلنے والے جن کی طرح اپنے خالقوں کے ہی گریبانوں میں ہاتھ ڈال کر جھٹکے دے رہا ہے  ۔ ہائبرڈ نظام کے لیے تمام اداروں کی ساکھ اور وسائل استعمال کرنے کا نتیجہ یہ برآمد ہورہا ہے کہ عمران خان جرنیلوں ، ججوں اور سرکاری افسروں کے گھر والوں کو ساتھ لے کر ان کے اداروں پر ہی ٹوٹ پڑے ہیں ۔ یہ غلطی یا فاش غلطی کسی کی بھی ہو آخر کوئی نہ کوئی حل تو نکالنا پڑے گا۔آج عالم یہ ہے کہ شیخ رشید جیسے مرد جری تمام آئینی اور انتظامی اداروں بشمول سکیورٹی فورسز کھلم کھلا دھمکیاں دے رہے ہیں کہ عمران خان سے پنگا لینے کی کوشش مت کرنا ورنہ عوام تمہاری ایسی کی تیسی کردیں گے ۔حکومتی اتحاد میں شامل جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن وہ واحد شخصیت ہیں جو پی ٹی آئی اور اسکے سرپرستوں کو انہی کی زبان میں جواب دے رہے ہیں۔ باقی سب مختلف وجوہات کی بنا پر تضادات کا شکار نظر آتے ہیں ۔سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ خود تو اسٹیبلشمنٹ کی گود سے اترنے پر تیار نہیں خواہ انکی کتنی ہی توہین کیوں نہ کی جائے مگردوسری جانب یہ پارٹیاں اپنے حامیوں اور 

کارکنوں کو مزارعے سمجھتی ہیں کہ قیادت جو بھی فیصلہ کرے سب غلام بن کر سر جھکا کر تسلیم کریں ۔صرف یہی نہیں بلکہ ایسے سیاستدانوں کو آزاد صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی آرا اور  تبصرے بھی برے لگتے ہیں ، موجودہ حکومت کو ہی لے لیں کیا کسی نے سنجیدگی سے بتانے کی کوشش کی کہ پچھلے چار سال کے دوران آخر ایسا کیا ہوا کہ سی پیک کو روک دیا گیا ، بھارت مقبوضہ کشمیر کو کس بل بوتے پر ہڑپ کرگیا ، آئی ایم ایف سے معاہدہ کس نے کیا ؟ معاملات  کو صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ تک محدود رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا ، یہ تین ایسے بنیادی معاملات ہیں جن کے سبب ملک  معاشی اور سفارتی طور پر جڑوں سے ہل گیا ، پھر یہ بھی بتایا جائے کہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے عدم استحکام کی وجوہات کیا ہیں اور اس میں ملوث قوتیں کونسی ہیں ؟سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ وہ کون تھا جس نے موجودہ  حکومت کو پہلے روز ہی بتا دیا تھا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی  کرنے کی اجازت نہیں ہے ، دوسری طرف  حالت یہ ہے کہ حکومت میں شامل چھوٹی جماعتوں کے مطالبات اب پورے نہیں ہورہے ۔ باپ پارٹی کو حکومت میں کس نے شامل کرایا ؟ اس کے ایک رکن نے کس کے اشارے پر قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر کہا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے ان کے حلقے کے لیے ترقیاتی فنڈز جاری نہیں کیے اس لیے انہیں سیکٹر کمانڈر سے فون کراکے اپنا کام کرانا پڑا ۔ حکومت میں شامل ایم کیو ایم کا اب بھی پیپلز پارٹی سے تنازع چل رہا ہے ۔ کیا ایم کیو ایم اس پوزیشن میں ہے کہ اپنے فیصلے خود کر سکے ۔ ابھی چند روز پہلے ہی جب تمام دھڑوں  کے لیے نسبتاً قابل قبول فاروق ستار کو پارٹی میں شامل کرنے کے لیے معاملات تقریباً طے پا چکے تھے ۔ اچانک انہیں یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ ابھی بزرگ نہیں مان رہے ۔ فاروق ستار نے جوابی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں تو سمجھ رہا تھا کہ بزرگ نیوٹرل ہو چکے ہیں ۔ دوسری طرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹیوں بی این پی مینگل  کی کوئی بات سنی جارہی ہے نہ ہی پی ٹی ایم کے علی وزیر کو رہا کیا جارہا ہے ۔ چودھری شجاعت کی وضعداری اپنی جگہ لیکن ق لیگ کب تک ساتھ چلے گی ۔ اے این پی کے اپنے مسائل ہیں ۔پیپلز پارٹی اپنے حوالے سے اچھی سیاست کررہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آصف زرداری جیسے ہی سرگرمیاں شروع کرتے ہیں ہر طرف ہلچل مچ جاتی ہے ۔ ان کے ترجمانوں کی ٹیم فیصل کنڈی ، شرجیل میمن، عبدالقادر پٹیل، ناصر شاہ اور دیگر مخالفوں کو خوب لتاڑتے ہیں ۔ اس کے باوجود ایسا نظر نہیں آرہا ہے کہ مستقبل کیلئے کوئی متفقہ لائحہ عمل موجود ہے ۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا جب پی ڈی  ایم میں پیپلز پارٹی اور اے این پی بھی شامل تھیں ۔ مختصر وقت میں ہونے والی پرامن جد و جہد نے طاقت کے حقیقی مراکز کو مشکل میں ڈال رکھا تھا کیونکہ  اس اتحاد کا منشور واضح تھا کہ اصل مسئلہ عمران خان کی حکومت نہیں بلکہ اسے مسلط کرنے والے ہیں ۔ یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ اتحاد میں شامل کوئی بھی پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے طور پر کوئی رابطہ نہیں کرے گی۔ہر بات مشترکہ پلیٹ فارم سے ہی ہوگی مگر بعد میں  کچھ جماعتیں اپنے فائدے کیلئے اس اصول کو توڑ بیٹھیں۔آج بھی یہی سوال ہے کہ کیا کوئی سیاسی حکومت ملکی معاملات از خود چلا سکتی ہے ۔اسٹیبلشمنٹ اور عدالتیں ایسا کرنے کی اجازت دیں گی ۔ایک ہی کیس میں دو طرح کے فیصلے واضح کررہے ہیں کہ حکمران اشرافیہ سیاسی جماعتوں کو آسانی کے ساتھ قبول نہیں کرے گی ۔یہ تاثر مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہائبرڈ نظام کے ناکام تجربے کے باوجود اسی سسٹم کو کسی نہ کسی شکل میں جاری رکھنے پر بضد ہے ، مالی معاملات میں پی ٹی آئی حکومت کی بدترین ناکامی کے بعد سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرکے جو کٹھ پتلی حکومت بنائی گئی ، اس نے پٹرول ، بجلی ، گیس کے نرخوں میں کمر توڑ اضافہ کر کے آئی ایم ایف سے قرضے کی قسط حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے، کہا جارہا ہے کہ ڈالر وصول ہوتے ہی موجودہ وفاقی حکومت کی ضرورت ختم ہو جائے گی ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس ماحول میں کرائے جانے والے اگلے عام انتخابات کے بعد بھی سیاسی استحکام سوالیہ نشان ہی رہے گا۔   

کیونکہ ان سیاسی جماعتوں کو جس طرح سے استعمال کیا گیا ہے اسکے بعد  ان کے لیے لیول پلینگ گرائونڈ کے امکانات معدوم ہوچکے ، بہر حال ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ ٹیسٹ کیس ہے دیکھنا ہوگا کہ حکومت اسے جارحانہ اندازمیں آگے بڑھا کر اداروں کو اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے یا ایک بار پھر بزدلی اور کمزوری دکھا کر خود کو اسٹیبلشمنٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے ، اتنا طے ہے کہ اس طرح کا سرنڈر کرنے کی صورت میں سیاسی جماعتوں کو  ماضی کی طرح پھررگڑا لگا تو پارٹی قیادت ہی سوفیصد قصور وار ٹھہرائی جائے گی۔ ایسے میں اگر کوئی ان سیاسی جماعتوں کے باشعور کارکنوں کو احتجاج کرنے کے بجائے گھروں میں بیٹھ پر اپنی ہی لیڈر شپ کو برا بھلا کہتے سنے تو حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔

مصنف کے بارے میں