شنگھائی پاور کو کے الیکٹرک کا انتظام سنبھالنے کی منظوری مل گئی

شنگھائی پاور کو کے الیکٹرک کا انتظام سنبھالنے کی منظوری مل گئی

کراچی: شنگھائی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کا کہنا ہے کہ اسے کے الیکٹرک لمیٹڈ کا انتظام سنبھالنے کے لیے مسابقتی کمیشن آف پاکستان(سی سی پی) سے منظوری مل گئی۔


برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ابراج گروپ نے رواں برس اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ ان کی ایک کمپنی ، کے ای ایس پاور، کا معاہدہ شنگھائی الیکٹرک سے ہوگیا ہے اور وہ کے الیکٹرک میں اپنے حصص کو فروخت کرے گی۔ابراج گروپ کے الیکٹرک کے 66.4 فیصد شیئرز کا مالک ہے اور انتظامی کنٹرول بھی اس کے پاس ہی ہے جبکہ ڈیل مکمل ہونے کے بعد اس کی مالیت 1.77 ارب ڈالر ہوگی۔

شنگھائی الیکٹرک چین کی سرکاری کمپنی پاور انویسٹمنٹ کارپوریشن کے زیر انتظام ہے اور یہ شنگھائی اسٹاک ایکسچینج میں بھی شامل ہے جبکہ اس کی بنیادی ذمہ داری شنگھائی کی توانائی کی ضروریات کو پوری کرنا ہے۔گزشتہ برس مذکورہ کمپنی نے 35.23 ٹیرا واٹ گھنٹہ (ٹی ڈبلیو ایچ)بجلی پیدا کی تھی، ابراج گروپ نے 2009 میں کے الیکٹرک کا انتظام سنبھالا تھا جب ادارہ کافی بحران کا شکار تھا۔

دبئی میں قائم ابراج گروپ کا دعوی ہے کہ اس نے کے الیکٹرک کو ایشیا کی بہترین توانائی کمپنی کی صف میں لاکھڑا کیا اور کمپنی کی پیداواری استعداد میں ایک ہزار میگا واٹ کا اضافہ کیا۔کمپنی کا یہ بھی دعوی ہے کہ اس نے ٹرانسمیشن اور ترسیلی نظام میں ضائع ہونے والی بجلی کی شرح بھی 12 فیصد تک کم کردی ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی دہائیوں تک نقصان میں رہنے کے بعد 2012 میں پہلی بار نفع ہوا تھا۔کے الیکٹرک کے اندرونی معاملات سے واقف افراد کا کہنا ہے کہ معاہدہ اسی وقت مکمل ہوسکے گا جب کمپنی کی جانب سے آئندہ چند برسوں کے لیے تجویز کردہ ٹیرف نیپرا کی جانب سے منظور ہوجائے گا۔اس درخواست پر سماعتیں ہوچکی ہیں اور اب حتمی فیصلے کا انتظار ہے۔

واضح رہے کہ ابراج نے کراچی میں بجلی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے 5 سال کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن اس سلسلے میں پیش آنے والی مختلف مشکلات کی وجہ سے یہ تعطل کا شکار ہو کر 2016 تک چلا گیا۔اس دوران کے الیکٹرک کی مینجمنٹ کے پانی و بجلی کی وزارت، لیبر یونین اورریاست کی گیس کمپنی سے اختلافات جاری رہے اور کمپنی کو مستقل لوگوں کو زیادہ رقم کے حامل بل بھیجنے جیسی خفت کا سامنا کرنا پڑا.

نیوویب ڈیسک< News Source