کرسی چھوڑنی پڑی چھوڑ دوں گا لیکن کرپشن معاف نہیں کروں گا، وزیراعظم

کرسی چھوڑنی پڑی چھوڑ دوں گا لیکن کرپشن معاف نہیں کروں گا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر واضح اعلان کر دیا کہ اگر کرسی چھوڑنی پڑی تو چھوڑ دوں گا لیکن کرپشن کو کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کروں گا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا اپوزیشن کے جلسوں سے پریشر میں نہیں آوں گا اور ان کے جلسوں میں کوئی بھی رکاوٹ نہیں ڈالے گے جبکہ آرکنائزر اور کرسیاں دینے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ 

وزیراعظم عمران خان نے کہا چوروں کو چھوڑنا ملک کے ساتھ سب سے بڑی غداری ہوگی اور نوازشریف جھوٹ بول کر بیرون ملک فرار ہوئے اور ان پر بہت سارے کیسز ہیں۔ عدالت نے سزا دی اور بیماری کا بہانہ بن اکر لندن فرار ہونے والا اسحاق ڈار 3 سال سے دندناتا پھر رہا ہے۔ میں پبلک آفس ہولڈر نہیں تھا پھر بھی عدالت میں جائیداد کی منی ٹریل دی۔ 

انہوں نے مزید کہا میری زندگی کا تجربہ باقی لوگوں سے مختلف ہے کیونکہ میں اٹھارہ سال کی عمر میں برطانیہ چلا گیا تھا اور مجھے نوجوانی میں دو مختلف ثقافتوں میں زندگی گزارنے کا تجربہ ہوا اور اس تجربے ہی میرے اندر تبدیلی آئی ہے۔ ہمیں علامہ اقبال کی تعلیمات کی طرف جانا ہو گا اور ہمارے پاس اس وقت دو راستے ہیں ایک اچھائی کا اور ایک برائی کا جبکہ چالیس کی دہائی میں مغرب میں فیملی سسٹم ٹوٹا اور مغرب میں پاپ سٹارز نے منشیات کو فیشن بنا دیا۔ 

وزیراعظم عمران خان نے کہا منشیات کے استعمال سے عارضی خوشی یا اطمینان ہوتا ہے جبکہ دائمی خوشی آپ کو روحانیت سے میسر آ سکتی ہے۔ انسان کے اندر خوشی اور اطیمنان اللہ کی طرف سے آتا ہے اور اسے آپ خود بھی بیان نہیں کر سکتے۔ 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا میں ہمیشہ سے اپنی زندگی کا جائزہ لیتا ہوں اور اسی وجہ سے کامیاب ہوتا ہوں کیونکہ کرکٹ میں بھی جب تک کارکردگی سے متعلق سوچتا نہیں تھا تب تک سوتا بھی نہیں تھا۔ میں مسلسل اپنی زندگی کا جائزہ لیتا آیا ہوں اور میں نے معاشرے کو اُس طرح سے دیکھا ہے جس طرح لوگوں کو موقع نہیں ملتا۔ 

انٹرویو کے دوران عمران خان نے کہا جس دن سے ہماری پارلیمنٹ شروع ہوئی ہے تب سے اپوزیشن نہمیں بولنے دیتی اور ان کو کوئی دلچسپی نہیں کہ ملک کے کیا ایشوز ہیں ان کا صرف ایک ہی ایشو ہے کہ عمران خان ان کو این آر او دے۔

انہوں نے کہا ان لوگوں نے جو چوری کی ہے اگر اس کو بچا لیا جاتا تو ملک کا کتنا فائدہ ہونا تھا۔ اگر ارکان پارلیمنٹ ایشوز پر تیاری کر کے آئیں اور اتفاق رائے پیدا کریں ۔ خارجہ پالیسی سمیت عالمی وبا پر پالیسی ڈبیٹ کریں جس کے بحث تھاٹ پراسس آگے کو جاتا ہے اور اس چیز کا ہماری حکومت کو فائدہ ہو گا۔