تازہ ہوا کا ایک جھونکا (2)

تازہ ہوا کا ایک جھونکا (2)

 مساجد سے خوبصورت اذانوں کی پانچ وقت پکار! کب کسی ورلڈ کپ کا مقدر ایسا جاگا! اللہ کی کبریائی، وحدانیت، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی طرف بلند آہنگ دعوت! سبحان اللہ۔ اسی پر بس نہیں۔ تقابل ادیان کی غیرمعمولی مہارت کے حامل ڈاکٹر ذاکر نائیک کو اس عالمی اکٹھ پر مدعو کرلیا۔ غیرمسلموں پر اثرات سے خائف شرق تا غرب اسلام دشمن قوتوں نے ان کی زبان بندی کرا رکھی ہے۔ بھارت ان کا پاسپورٹ منسوخ کر چکا ہے۔ ملائیشیا نے انہیں پناہ دے رکھی ہے مگر عالمی دباؤ کے پیش نظر انہیں خطبہ دینے کی اجازت نہیں۔ پیس ٹی وی جس کی بنیاد ڈاکٹر ذاکر نے رکھی تھی اس پر انڈیا، بنگلادیش، کینیڈا، سری لنکا اور برطانیہ، نیز پاکستان میں بھی پابندی ہے۔ قطر نے بھارت کی خوشنودی (دبئی، سعودی عرب کے برخلاف) یا ناراضی سے بے نیاز ہوکر یہ اقدام کیا ہے جو لائق صد تحسین ہے۔ ان کے لیکچرز کا اہتمام کیا گیا ہے! ان تمام امور کی بنا پر مغرب نے قطر کو جس شدید تنقید کا نشانہ بنایا، کمال تو یہ ہے کہ اس پر فیفا کا صدر (فٹ بال کی 

عالمی تنظیم) Infantino (جو خود سوئس اطالوی ہے) بھی بھنا اٹھا۔ ایک گھنٹے کی پریس کانفرنس میں غیرمعمولی جذباتی انداز میں قطر اور ٹورنامنٹ کا دفاع کیا۔ قطر کے خلاف پروپیگنڈا جنگ کو اس نے یورپ کی منافقت قرار دیا۔ اس نے کہا یہ ورلڈ کپ دنیا کی تاریخ کا بہترین ثابت ہوگا۔ یہ دوسروں کو اخلاقیات کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ میں یورپی ہوں۔ ہم یورپیوں نے گزشتہ 3 ہزار سال میں جو کچھ دنیا بھر میں کیا، اس پر آیندہ 3 ہزار سال تک ہم دنیا سے معافی مانگیں، دنیا کو اخلاقیات کے درس دینے سے پہلے۔ (یاد رہے کہ یورپ قطر میں مزدوروں کے استحصال پر، پروپیگنڈا مہم چلا رہا ہے۔) 

قطر نے بین الاقوامی سطح پر جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامیت کا جو اظہار کیا وہ غیرمعمولی تھا۔ اگرچہ یہ منظر اتنا شفاف اور بے آمیز نہ رہا، مگر فی الوقت آپ کو صرف وہ مناظر اور جھلکیاں دکھا رہے ہیں جنہوں نے طویل انتظار کے بعد عالمی سطح پر جگہ پائی اور بلاخوفِ لامۃ لائم دنیا کو اسلام کو یہ چہرہ دکھایا۔ قطر سدومیت، کھلی 

شراب نوشی جیسے مظاہر پر تو ثابت قدم رہا، مگر عورت کے فتنے سے بچ نہ سکا۔ آج مسلم دنیا کی کسمپرسی میں تمام تر گھٹاٹوپ آزمائشوں کے باوجود اسلام کی سربلندی کی واحد حقیقی مثال افغانستان ہے۔

مغرب کو سیخ پا کرنے کوایک اضافی عنصر مظلوم فلسطینیوں کی بھرپور 

موجودگی تھی۔ دنیا تک ان مؤقف پہنچانے کا ایک نادر موقع ! تماشائی جھنڈوں سے لیس، نعرہ زن ماحول پر چھا جاتے رہے۔ فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے مظاہر میں مخصوص فلسطینی رومال، فلسطینی چھاپ والے بازو بند، فلسطینیوں کی حمایت کا ہیش ٹیگ سے اظہار، غرض فضا فلسطینیت سے معمور رہی! اسرائیلی صحافیوں کو انٹرویو نہ دینے اور نظرانداز کرنے کا رویہ بھی رہا۔فلسطینی امریکی صحافی کے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل پر، اس عالمی اکٹھ کے 

موقع پر انصاف مانگنے کے نعرے بھی لگتے رہے۔ طویل عرصے کے بعد عالمی سطح پر اسلام کی دعوت، مظلوم فلسطینیوں کا حق، اسلامی قوانین پر فخر واعتماد اور اسے ایک خوبصورت تہذیب کی صورت دنیا بھر میں اجاگر کیے جانے کا یہ عمل غنیمت تھا۔ (اگرچہ شیطان نے ورلڈ کپ سے اپنا حصہ خوب بٹورا۔) 

مغرب کا دوغلاپن، متکبرانہ رویہ :ان کے چہرے سے نقاب اُتر گیا۔ خود وہ عدم برداشت کی انتہا پر دیکھے گئے۔ اس پر شدید لعن طعن ہوئی۔ ٹائمز لندن نے کہا: ’قطریوں کو عورت کو مغربی لباس میں دیکھنے کی عادت نہیں۔‘ مغربی عورت کی کم لباسی پر تنقید بھی ان کے لیے ایک تازیانہ تھی۔ حقیقی اسلامی معیارات رقص وسرودکے باوجود مغربی تکبر کی سونڈ کو داغ تو لگا۔ فٹ بال تنظیم ’فیفا‘ نے تمام تر قطری پابندیوں، حد بندیوں کا احترام کیا۔ حتیٰ کہ پہلے واضح کردیا کہ LGBTQ کا شعار بازو بند پہننے پر ایسی ٹیم کھیل سے باہر ہوگی۔ قدم قدم پر یورپی ’اقدار‘ اور موقف رد ہونے پر مغربی میڈیا نے اسلاموفوبیک اور نسل پرستانہ، قطر کے خلاف کارٹون چھاپے اور ہر طرح بغض اُگلا۔

مشرقِ وسطیٰ کے باشعور طبقے نے اسے رد کرتے ہوئے اسے عامیانہ، بدلحاظ کرخت اور بے ہودہ قرار دیا۔ ’مڈل ایسٹ آئی‘ میں خالد الحروب نے تنقید کی بوچھاڑ کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ دنیا کی آبادی کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ پورا مغربی میڈیا دنیا میں 8 فیصد سے کم آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور مغربی یورپ کی آبادی کل 600 ملین ہے۔ مغربی اقلیت اپنے تصورات پوری دنیا اور اس کی متنوع اربوں آبادی پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔ مغربی میڈیا کا واشگاف پیغام یہ تھا کہ ’ہم تمہارے ملک میں آکر تمہارے معاشرے کے اصول وقواعد،روایات کے خلاف اپنی مرضی کرنا چاہتے ہیں اور تمہیں اسے قبول کرنا چاہیے کیونکہ یہ عالمی اکٹھ ہے مقامی نہیں۔‘ حالانکہ دنیا کے بیشتر معاشروں میں ادھ ننگے، شراب کے نشے میں جھومتے، چیختے چلاتوں کو سڑکوں پر گوارا نہیں کیا جائے گا ،تو ایک روایت پسند معاشرہ اسے ورلڈ کپ میں کیونکر گوارا کرسکتا ہے؟ (اس تمام اظہاریے کے باوجود قطر بھی بین الاقوامی فاحشہ عورتوں کی یلغار سے محفوظ نہ رہا!)

 کینیڈین مراکشی انڈین اداکارہ نورہ فتحی فحش ترین پرفارمر کی حیاسوزی نے اسلامی قطری تہذیب کے پرخچے اڑا دیے۔ فتنۂ دجال اسی تلبیس ابلیس کی انتہا کا نام ہے۔ اسی قطر میں امریکا طالبان مذاکرات میں شاندار کردار ادا کرکے افغانستان میں لاالہ کے جھنڈے لہرایا جانا ممکن ہوا۔ دوسری جانب امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی بھی کرتا رہا۔ چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی! دنیا میں روحانی ابتری، معاشرتی زندگی کی تباہی ویرانی، تبدیلی کی متقاضی ہے۔ یہ تبدیلی مغربی تہذیب کی اندھی نقالی اور مرعوبیت میں غرق حکمرانوں یا عوام سے نہیں آسکتی۔ اسلام !چیزے دیگر است۔

رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے / روشن ہے نگہ آئینہ دل ہے مکدّر / بڑھ جاتا ہے جب ذوقِ نظر اپنی حدوں سے / ہو جاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر۔ 

مجموعی طور پر یہ ایک سانحے سے کم نہیں کہ ایک اچھی شروعات کے کچھ مناظر دکھاکر ورلڈ کپ نے فکر ونظر کی پراگندگی وابتری ہی کو بڑھاوا دیا۔ یٰحسرتنا! (ختم شد)