پی ٹی آئی کو شدید جھٹکا، طاہر خان عمرزئی کا ن لیگ میں شمولیت کا فیصلہ

پی ٹی آئی کو شدید جھٹکا، طاہر خان عمرزئی کا ن لیگ میں شمولیت کا فیصلہ

پشاور: پی ٹی آئی کو  شدید جھٹکا  لگ گا ۔ ایک اور بڑے نام نےمسلم لیگ میں شمولیت کا عندیہ دیدیا۔ جس سے پی ٹی آئی شدید پریشان ہے اور اس سیاسی رہنما کو منانے کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنماﺅں میں سے ایک اور خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے ”جگری یار“ محمد طاہر خان عمرزئی نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے طاہر خان عمرزئی کو منانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے پارٹی میں رہنے سے انکار کر دیا کہ پرویز خٹک ان کے خدشات سے بخوبی واقف ہیں لیکن انہیں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے سے روکنے کی زحمت بھی نہیں کی۔


عمر طاہر زئی نے کہا کہ ” پی ٹی آئی کی بنیاد اصولوں پر رکھی گئی تھی اور 1990ءمیں جو ہم نے طے کیا تھا، اس کے مقابلے میں چیزیں مکمل طور پر بدل چکی ہیں۔ پارٹی نظرئیے کو بھول گئی ہے اور اب سٹیٹس کو کو پروموٹ کیا جا رہا ہے۔“ عمر طاہر زئی نے کہا کہ ان کا جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کیساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے، جن کے بارے میں کچھ بانی رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پارٹی چیئرمین کے ایجنڈے کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی حکومت میں قومی وطن پارٹی کی واپسی پارٹی کے بانی ممبران کیلئے خدشات کا باعث بنی۔ انہوں نے کہا کہ جب قومی وطن پارٹی حکومت میں شامل ہوئی تو میں نے عمران خان سے پوچھا تھا کہ ” ”قومی وطن پارٹی کے تمام گناہوں کو دھونے کیلئے کس طرح کا ڈیٹرجنٹ استعمال کیا گیا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین پیراٹروپرز کے نرغے میں ہیں اور ان کے دائیں، بائیں کھڑے لوگوں نے انہیں ہائی جیک کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”90 کی دہائی کے عمران خان اور آج کے عمران خان میں بہت زیادہ فرق ہے۔“ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک سال سے پارٹی کیساتھ معاملات بہتر کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن آج سے 6 ماہ پہلے جب پی ٹی آئی چیئرمین نے ملنے سے انکار کیا تو پھر میں نے پارٹی سے اپنی راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔