مودی مقبوضہ کشمیر کے دورے پر مذاق بن گئے

مودی مقبوضہ کشمیر کے دورے پر مذاق بن گئے
بھارتی وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران مختلف منصوبوں کا افتتاح کیا۔۔۔۔۔فوٹو/ بشکریہ این ڈی ٹی وی

نیو دہلی: نریندر مودی نے گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تو اس موقع پر وادی بھر میں احتجاج و ہڑتال کی گئی۔ سڑکوں پر سناٹا رہا اور کشمیری عوام نے ان کے دورے پر یوم سیاہ منایا تھا۔


بھارتی وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران مختلف منصوبوں کا افتتاح کیا اور جب وہ 'دل جھیل' کی سیر کو پہنچے اور کشتی میں سوار ہوئے تو انہوں نے یہ دکھانے کے لیے کہ لوگ ان کا استقبال کر رہے ہیں اور پہاڑوں کی جانب دیکھ کر ہاتھ لہراتے رہے۔

بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی نے جب ان کی یہ ویڈیو سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپ لوڈ کی تو اس پر کشمیر کے سیاسی رہنماؤں سمیت سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کا نشانے بنانے کے ساتھ مختلف جملے کسے۔

مقبوضہ جموں کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نریندر مودی کا ہاتھ ہلانا کشمیر میں نہ دکھائی دینے والے ان گنت بی جے پی کے دوستوں کے لیے ہے۔

سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ کیمرہ مین نے نریندر مودی کے ہاتھ ہلانے کا جواب دینے والے لوگوں کو نہ دکھا کر ذمہ داری کی ادائیگی میں بہت بڑی غفلت کی۔ کیوں کہ اس کی کوئی وجہ نہیں بنتی کہ وزیراعظم خالی جھیل پر ہاتھ لہرائیں۔

بھارتی مصنف اور سیاستدان سلمان نظامی نے نریندر مودی کی ویڈیو پر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کس کو ہاتھ ہلا رہے تھے ویڈیو کے آخر میں دیکھیں۔