امریکی کانگریس کی ایران پر پابندیاں سخت کرنے کی تیاری

واشنگٹن:  امریکی کانگریس ایران پر پابندیوں کو سخت کرنے کے لیے ایک قانونی بِل کی تیاری میں مصروف ہے۔ اس سلسلے میں خطے میں دہشت گردی کی سپورٹ کے لیے تہران کے کردار ، اس کے متنازعہ میزائل پروگرام اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

ترکی کی نیوز ایجنسی کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی قیادت ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کے واسطے ڈونلڈ ٹرمپ کی سپورٹ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ رپورٹ کے مطابق کانگریس میں ذمے داران کے نزدیک آئندہ ہفتوں کے دوران ایک بِل پیش کیا جائے گا جس کا مقصد تہران کے ساتھ معاملات کرنے والی کمپنیوں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ اور ان پر نئی پابندیاں عائد کرنا ہے۔

کانگریس میں ٹرمپ کی ٹیم کے ارکان کی رائے ہے کہ ایران کے خلاف نئی غیر نیوکلیئر پابندیوں سے تہران پر دباو پڑے گا اور وہ مشرق وسطی میں متعدد مسلح گروپوں کے لیے اپنی سپورٹ ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بیلسٹک میزائلوں کے شعبے میں پیش رفت کے حوالے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اس سے قبل امریکی کانگریس میں قانون سازوں نے گزشتہ ماہ تہران کے خلاف پابندیوں کو سخت کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کا موقف تھا کہ ایران امریکا کی جانب سے آزاد کی جانے والی اپنی رقوم کو یمن ، شام اور عراق میں دہشت گردی کی سپورٹ اور اپنے اسلحے خانے کو جدید بنانے بالخصوص میزائل ٹکنالوجی میں ترقی کے لیے استعمال میں لا رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں