متحدہ عرب امارات میں خواتین کو بغیر ٹوائلٹ والی جگہوں والے دفاتر میں مت بھیجیں

متحدہ عرب امارات میں خواتین کو بغیر ٹوائلٹ والی جگہوں والے دفاتر میں مت بھیجیں

ابوظہبی: دبئی کے ماہر قانون نے ایک پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ کوئی بھی کمپنی اپنے خواتین ملازمین کو کمپنی کی کسی ایسی جگہ پر نہیں بھیج سکتی جہاں بنیادی سہولیات موجود نہ ہوں، ان کا کہناتھا کہ ان بنیادی سہولیات میں کئی جگہوں (دور دراز ) علاقوں میں ٹوائلٹس نہیں ہو تے ۔


ماہر قانون کے مطابق کئی کمپنیاں خواتین کو بھرتی کرنے کے بعد ایسے علاقوں میں بھیج دیتی ہیں ۔ ان کمپنیوں میں زیادہ تر میڈیکل ، مارکیٹنگ وغیرہ کی ہوتی ہیں ۔ مگر وہاں جانے کے بعد خواتین ملازمین کو بنیادی سہولیات کا اندازہ ہوتاہے ۔ 

کئی جگہوں پر ٹوائلٹس نہیں ہوتے ۔ کئی جگہوں پر اگر ہوتے ہیں تو خراب حالت میں ، اسکے علاوہ کئی دوسری سہولیات بھی نہیں ہوتی ۔ماہر قانون کا کہناتھا کہ متحدہ عرب امارات کے 1980قانون  29کی شق نمبر  8  کے تحت "کوئی خاتون متحدہ عرب امارات کے خطرناک علاقے یا بنیادی سہولیات سے محروم علاقے میں کسی بھی صورت نہیں نہیں بھیجا جاسکتا"،

اگر کوئی کمپنی خواتین ملازمین کو ایسی دور دراز جگہوں پر بھیجنا چاہتی ہوں گی تو وہاں ان سہولیات کا ہونا انتہائی ضروری ۔

  • ٹرانسپورٹ 
  • ۔ اچھی اور بہتر رہائش
  • ۔پینے کا صاف پانی 
  • ۔ موثر کھانا ، خوراک 
  • ۔ فرسٹ ایڈ کی سہولت 
  • ۔ تندرست اور توانا رہنے کے لیے کھیلنے کی سہولیات 
  • ۔ صاف ستھرا ماحول ( ٹوائلٹس اور غسلخانے )
  • واضح رہے سوال پوچھنے والے نجی کمپنی کے اہلکا ر کا کہناتھا کہ اس نے گزشتہ چند سالوں میں 500 جگہوں کا معائنہ کیا تھا جہاں ان کمپنیوں میں بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی تھیں ۔ان میں سے کئی کمپنیوں کے دفاتر متحدہ عرب امارات کے دور دراز علاقوں میں ہیں ،