جرم کے ثبوت پر سزا اور شک پر ملزم کو رہا کرنا ہوگا:سعودی وزارت انصاف

جرم کے ثبوت پر سزا اور شک پر ملزم کو رہا کرنا ہوگا:سعودی وزارت انصاف
تصویر بشکریہ ٹوئٹر

ریاض:سعودی اعلی عدالتی کونسل نے تمام ججوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جرم مکمل طورپر ثابت ہوجانے پر سزا سنائیں اور شک کی صورت میں ملزم کو بری کریں۔ وزیر انصاف و سربراہ اعلی عدالتی کونسل شیخ ڈاکٹر ولید الصمعانی نے مقدمات کی سماعت اور ان پر فیصلے کے حوالے سے اصولوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے تاریخی عدالتی ہدایات جاری کردیں۔


اس فیصلے کے تحت ملزم کے خلاف ٹھوس ثبوت طلب کئے جائیں گے اور مہیا ہونے کی صورت میں اسے مجرم قرار دیکر مقررہ سزا دی جائیگی۔ البتہ ملزم کے خلاف ٹھوس ثبوت فراہم نہ ہونے اور ملزم کی طرف جرم کی نسبت میں شبہ پیدا ہونے پر اسے بری کردیا جائے۔ ماہرین قوانین کا کہناہے کہ مملکت میں فوجداری مقدمات کے باب میں اہم تاریخی تبدیلی ہے۔

اس فیصلے کی بدولت مجرم کو مقررہ کڑی سزا دینے اور مجرم ثابت نہ ہونے پر ملزم کو بری قراردینے سے ایک توازن پیدا ہوگیا ہے۔اس فیصلے کے بعد جج ڈھیلے ڈھالے قرائن کو بنیاد بنا کر کسی بھی ملزم کو مجرم قرار نہیں دے سکے گا۔

ایسا کوئی بھی قرینہ جو قاضی کو معتبر ثبوت کا احساس نہ دلائے اسکی بنیاد پر ملزم کو مجرم قرار نہیں دیا جائیگا۔ دریں اثناسعودی ججوں نے اعلی عدالتی کونسل کی اس ہدایت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکی بدولت انصاف کے شعبے میں اہم تبدیلی رونما ہوگی۔ اسکی بدولت شرعی اور قانونی اصول راسخ ہونگے۔

دیوان المظالم ادارہ احتساب کے سابق جج اور وکیل ڈاکٹر محمد الجذلانی نے توجہ دلائی کہ اس ہدایت میں دو اہم پیغام ہیں۔ پہلا پیغام یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ نہ لے لیا جائے کہ سعودی جج ماضی میں ایسے شخص کو سزا سناتے ہونگے جن کے بری ہونے کا انہیں یقین ہوتا ہو۔ یہ سوچ غلط ہے ۔ ماضی میں کبھی بھی کسی بھی جج نے کسی بھی ایسے شخص کو جس کے بری ہونے کا انہیں یقین ہوتا ہو مجرم قرار نہیں دیا۔

اعلی عدالتی کونسل کی ہدایت کا مقصد یہ ہے کہ ماہرین قوانین اور ججوں کے حلقوں میں بعض ججوں کے اس اعتماد کی بابت چہ میگوئیاں چل رہی تھیں کہ مجرم صرف اسی صورت میں کسی کو قرار دیا جائے جبکہ جرم کے یقینی ثبوت مہیا ہوں اور یقینی ثبوت مہیا نہ ہونے کی صور ت میں ظن غالب کی بنیاد پر اسے سزادی جاسکتی ہے۔

دوسرے فریق کا خیال تھا کہ مجرم اسی صورت میں گردانا جائیگا جب حتمی ثبوت ہوں یا واردات کرنے والے نے اقبال جرم کیا ہو۔ دوسرا پیغام یہ ہے کہ اس سے ججوں کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ اپنا فرض احسن شکل میں پورا کرینگے۔