سویٹ ہوم یا سویٹ روم

سویٹ ہوم یا سویٹ روم

لاہورکے بھاٹی دروازہ سے چلیں توبالترتیب موری دروازہ، لوہاری دروازہ، شاہ عالمی دروازہ، موچی دروازہ، اکبری دروازہ، دہلی دروازہ، یکی دروازہ، شیرانوالہ دروازہ، کشمیری دروازہ، مستی دروازہ، روشنائی دروازہ اور پھر ٹکسالی دروازہ پرانے لاہورکا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔روم ریلوے اسٹیشن کے جوارمیں قدیم روم کی فصیل شہر کی بنیاد بارہ فٹ چوڑی تھی اوررومن ایمپائر کے چھٹے بادشاہ کے نام سے منسوب اس دیوار کو Servian Wallکہاجاتاتھا ۔لاہورکی فصیل شہرمیں اگرتیرہ  دروازے تھے تو روم کی اس قدیم فصیل میں سولہ دروازے تھے۔ اس کے بھی بہت سے دروازے تاریخ کی گردمیں گم ہوچکے ہیں۔ دوتین دروازے ہیں جو ہنوز وقت کو شکست دینے میں مصروف ہیں ۔وقت کی گردمیں گم ہوجانے والے دروازوں کے نام البتہ تاریخ کے دامن اور لوگوں کے حافطے میں محفوظ ہیں۔میںنے یہ دروازے تو نہیں دیکھے البتہ کولوسیم کے ساتھ جو دروازہ دیکھا خاصامتاثرکن تھا ۔ملوکانہ ادوار کے بہت سے دروازے دیکھنے کے باوجود میرے ذہن پر اس کا نقش خاصا گہراتھا ۔

لاہورکے دروازے،قدیم قاہرہ کی فصیل میں اب تک باقی رہ جانے والے پرانے دروازے ،پیٹرااور بصریٰ الشام کے دروازے ،خود دمشق شہرکے دروازے اورتواورسرگودھا کے قریب لک موڑ پر اپنے وفادار ٹوانہ خاندان کے لیے ملکہ وکٹوریہ کی جانب سے تحفتاً بنوائے گئے قبرستان کا صدردروازہ۔ یہ سب میرے ذہن کی اسکرین پر ظہورکررہے تھے۔برطانوی استعمار کے لیے ٹوانہ خاندان کی وفاداریوں کے عوض جہاں حکومت برطانیہ نے اس خاندان کوجیتے جی پنجاب کی حکمرانی کا تاج پہنائے رکھاوہاں مرنے کے بعد بھی ان کی قبروں کو بہت سجایابنایاگیا ۔سرعمرحیات کی قبر تو اب بھی سنگ مرمرکا طرہ باندھے ہوئے ہے۔ قبرستان کی روشیں اور تعمیرات متاثرکن ہیں 

لیکن اب وہاں جانے والا کوئی بھی نہیں حتیٰ کہ وہاں کی چھوٹی لیکن خوبصورت مسجدبھی، مسجدضرارکا نقشہ پیش کررہی ہے ۔ خیربات دروازوں کی ہے مکینوں کی نہیں،رومی کولوسیم کے سامنے قدیم روم کاجو دروازہ دیکھا وہ کسی طرح بھی پیرس کی محراب فتح سے کم نہیں تھا بلکہ اگر مبالغہ نہ ہوتویہ مجھے اس سے بھی بڑھ کر دکھائی دیا۔ 

اس دروازے سے داخل ہوں تو آپ ایک اورہی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ رومی کولوسیم کو دیکھنے والے عام طور سے کولوسیم میں اس قدر محوہوتے ہیں کہ اس صدردروازے کی جانب توجہ نہیں ہوپاتی ہم بھی اس روش عام سے مستثنیٰ نہیں تھے۔لیکن اس صدردروازے کے اندرجو دنیا آبادہے وہ بجائے خود بہت کچھ یاددلادینے والی ہے۔ اس دروازے میں سے گزر کر آگے بڑھیں تو یہ راستہ رومن فورم کی جانب لے جاتاہے ۔اسے اطالوی زبان میں (Foro Romano) کہتے ہیں یہ اطالوی جمہوریت کا صدرمقام تھا۔جی ہاں رومن فورم بالکل ویسی ہی جگہ ہے جیسی کہ قدیم ایتھنز میں Old Bouleuterionبولیٹریون تھی۔ جہاں پہنچ کر مجھے سقراط کے آثارکی جستجولاحق رہی تھی۔ اس لیے کہ یہی وہ جگہ تھی جہاں ایتھنزوالے اپنی اسمبلی کا اجلاس کیاکرتے تھے۔ یہی جگہ یونان کا سینیٹ تھی اوریہیں جیوری مقدمات کی سماعت کرتی اور ان کے فیصلے کیاکرتی تھی۔میں نے یہاں رک کر چشم تصورسے سقراط کے خلاف ہونے والی کارروائی دیکھی تھی جس میں سترسالہ سقراط پرفردِجرم عایدکرکے اسے سزائے موت کا مستحق قراردیاگیاتھا ۔رومن فورم بولیٹریون جیسا مرکز شہرتھا۔یہ روم کا سینیٹ تھا۔شہرکی سرگرمیوں کا مرکز،جہاں جنرل ضیاء الحق جیسی مجلس شوریٰ کے اجلاس ہوکرتے تھے ۔وہ مرکز تفتیش inquisition headquarterبھی یہیں کہیں ہوگا جس میں گیلیلیو پرمقدمہ چلاکر اسے سزائے موت سنائی گئی تھی ۔سقراط اور گیلیلیو تو آج بھی زندہ ہیں لیکن یہ اسمبلیاں اور سینیٹ ویرانوں میں بدل چکے ہیں، ٹوٹے ہوئے ستونوں، شکستہ دیواروں اورسگانِ آوارہ کے سوااب یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔بہ قول میراجی

’’نہ اب وہ محفل نہ اب وہ ساقی

مگرانھی محفلوں کا اک پاسباں کھڑاہے 

فضائے ماضی میں کھوچکی داستان ِفردا

مگریہ افسانہ خواں کھڑاہے 

زمانہ ایوان ہے ،یہ اس میں سنارہاہے پرانے نغمے‘‘

پرانے نغموں میں سے بھی اب کچھ باقی نہیں سوائے اس سے کہ یہاں ۱۵مارچ کو رومی ڈکٹیٹر جولیس سیزر کے قتل کادن منایاجاتاہے۔یہاں کی بلندوبالا عمارات کھنڈروں کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔ زمانہ قبل مسیح سے مابعدمسیح تک انھیں کئی بار تعمیرکیاگیالیکن ان مملکتوں کی مادی ترقیوں کے باوجودیہ کھنڈردوبارہ زندگی کاجام نہیں پی سکے   ؎

پردہ داری می کند برقصرکسریٰ عنکبوت

بوم نوبت می زندبرگنبدافراسیاب

فسطائیت اور انسانیت کے مقابلے میں شکست بہ ہر حال فسطائیت ہی کا مقدرہوتی ہے ۔وہ زمانہ جب اناطولیہ سے ہسپانیہ تک اورافریقہ کے ساحلی شہروں سے برطانیہ کے ساحلوں تک روم ہی روم تھاقصہ ماضی ہوگیا ۔ روم ہی روم یا بہ قول شخصے آج کا ’’روم سویٹ روم‘‘…یادش بخیر ممتاز شاعر اور دانشور شہزاداحمدصاحب مرحوم، فیض احمدفیض اور امجداسلام امجد کی طرح ایک زمانے میں شہزاداحمدشہزادکہلواتے تھے پھرانھوںنے اپنے نام پر اکتفاکرتے ہوئے ،اعلان تخلص کی یہ روش ترک کردی ۔جب ان سے اس کا سبب پوچھاگیاکہ ’’آپ شہزاداحمدشہزادسے شہزاداحمد کیوں ہوگئے ‘‘  توانھوںنے برجستہ کہا  ’’یارمجھے شہزاداحمدشہزاد ایسا ہی لگتاتھا جیسے ہوم سویٹ ہوم‘‘…بہ ہر حال رومیوں کے لیے روم سویٹ روم ،ہوم سویٹ ہوم ہی تو ہے ،اگرچہ بیرونی دنیا یہ کہاکرے کہ …فارس باقی رومۃ الکبریٰ کجاست…

مصنف کے بارے میں